
عرشمہ عمر
ہڑتال کا عمومی سبب "مخصوص مطالبے یا ظالمانہ اقدام،نظام،نا انصافی کےخلاف مشترکہ اور متفقہ طور پر آواز بلند کرنا ہوتا ہے۔
چھبیس اپریل کا دن بھی اسی مناسبت سے اہمیت کا حامل ہے۔پاکستان سمیت دیگر مسلمان ممالک بطورخاص عرب حکمرانوں کی خاموشی پر یہ دن زوردار طمانچہ ہےجو مظلوم،بےبس،لاچار اور نہتے فلسطینیوں کی بے بسی پر خاموش تماشائی ہیں۔.
ننگے بے دھڑ و بے سر معصوم بچوں کی لاشوں کے انبار،سرخ دوپٹے سے شوہر و بیٹےکے صاف کئےگئےخون کی لالی،ماں کا دیوانہ وار اپنے بچے کے جسم کے ٹکڑوں کو اکٹھا کرنے کے ساتھ بےسرو سامانی ،دکھ ،رنج وملال ،غم ،تکلیف ،آزمائش ،
مصیبت جیسے "الفاظ" اہل فلسطین کی ثابت قدمی ،اللہ کی وحدانیت کا اقرار،فلسطین کی بقاء اورحق کےراست پراستقامت کے سامنے حیرت سے آنکھیں پھاڑے موجودہ دور کے بہترین مسلمانوں کو خراج عقیدت پیش کررہے ہیں۔....
ایسے وقت میں پاکستان کی بیدارقوم سڑکوں پر نکل کراپنےمظلوم بھائیوں کےساتھ ہونےوالی بربریت کےخلاف احتجاجی مظاہرہ کرکےاپنےحصےکاکردار ادا کر رہی ہے ۔یہ جم غفیر بیدارہے کہ ہم ظلم کے خلاف یونہی اٹھتے رہیں گے۔یہ باد مخالف ہماری قوت ایمانی کو جلا بخش رہی ہے۔.
خدارا اٹھو
کہ کہیں دامن کی آگ پھیل کر پورے جسم کو راخ کا ڈھیر نہ بنادے۔ ابھی وقت باقی ہے کہ سورج کو چراغ سے روشنی دکھانے والوں کی عقل ٹھکانے لگانے کا صحیح وقت یہی ہے۔ان شاءاللہ 26 اپریل کا سورج ایک تاریخ رقم کرے گا۔پاکستان کے عوام کے اظہارِیکجہتی کے نعروں کی گونج سے یہود و نصارٰی کے دل کانپ جانا چاہئیں۔یہی وقت ہے اپنی اجتماعیت و طاقت دکھانے کا.
جاگو! کہ کہیں کل میں یا آپ احساس جرم کی پاداش میں نہ رہ جائیں کہ" نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم"کےامتی ہونے کا پاس نہ رکھ پائے۔ظلم و جبر کی بہتی گنگا سے پار لگنا ہے تو اٹھنا ہوگا،شعور کی منزل پر لاکر خود کو آگے بڑھنا ہو گا۔آج نہیں تو کبھی نہیں۔
قطرہ قطرہ آخر کو دریا بن ہی جاتا ہے۔.





































