
عرشمہ عمر
سمیہ اورظفر گرمیوں کی تلملاتی,جھلسا دینے والی دھوپ میں جگہ،جگہ بھاگ دوڑ کر رہے تھےسمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر کس طرح حالات ٹھیک ہوں گے
وقت کی ستم ظریفی کہیے،حالات کی بدحالی یا معاشی پریشانیوں نے توڑ کر رکھ دیا تھا۔ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے سےنظریں چرانے لگے تھے اور نادانستہ طور پرخود کو قصوروار سمجھتے۔قرض دار اب گاہے بگاہے دروازے پر آنے لگے تھے۔ سمیہ اپنے سامنے مجازی خدا کی بےعزتی ہوتے دیکھ کر چاہتے ہوئے بھی کچھ نہ کہہ سکتی تھی۔بہت سارے فلاحی اداروں میں اپنی درخواستیں دینے کے بعد انتظار کی سولی پر لٹکی ہوئی تھی۔ناچار خود ظفر کے ساتھ گئی اور التجا کرنے لگی اب اس کی خوش اخلاقی، جھنجلاہٹ اور بدتمیزی میں تبدیل ہورہی تھی۔
بقول شاعر
آپ کہتے ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتے ہوں گے
میرے احباب نے تہذیب نہ سیکھی ہو گی
میرے ماحول میں انسان نہ بستے ہوں گے
مفلسی حس لطافت کو مٹا سکتی ہے
بھوک آداب کے سانچوںمیں نہیں ڈھل سکتی
لوگوں کے سامنے جانے سےجھیجھکنےلگی تھی۔ بچوں کی بھوک اور بڑھتے سوالات اسے ذہنی اذیت کا شکار کررہے تھے۔ ذرا،ذرا سی بات پر غصّہ آجاتا اور کسی نہ کسی چھوٹی بات پر وہ اپنے بچوں کو ایک آدھ ہاتھ جڑ دیا کرتی،بعد میں اکثر ندامت ہوتی۔
شادی سے پہلے کا وقت خوبصورت اور آرام دہ گزرا تھا والدصاحب گورنمنٹ افسر تھے۔ پریشانی کہتے کسے ہیں؟ یہ پتہ ہی نہ تھا یا شاید ماں باپ وہ ہستی ہوتے ہیں جو اپنی پریشانیاں کسی الماری کے کونے میں چھپا کر رکھتے ہیں جہاں تک بچوں کی رسائی ممکن نہیں۔ رزق کی کمی،بچوں کی اسکول کی فیس ادائیگی اور دیگر پریشانیاں بھی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں؟
وہ حالات کی پاداش میں بری طرح جکڑ چکی تھی۔جو بھی ملتا وہ کسی نہ کسی محرومی کو دیکھ کر سوال کر بیٹھتا۔ وہ جواب دے دے کر تھک چکی تھی۔
ظفر صبح کا گیا رات کو تھکا ہارا گھر واپس لوٹتا تو لہجے میں مایوسی اور کاندھوں میں مزید جھکاؤ ہوتا، ہر گزرتے دن کے ساتھ آنے والے ماہ کی تاریخ میں قرض کی ادائیگی کا سامنا کرنے کی سوچ اعصاب کو شل کر رہی تھی۔ سب ہی اپنی اپنی جنگ لڑ رہے ہیں لوگوں کے پاس ان کا دکھ سننے کے لیےبھلا وقت کہاں تھا؟
کیا انسان کبھی کسی کا دردسمجھ پایا ہے؟
اس پروردگار کے سوا ایک ماں باپ ہی ہوتے ہیں جو دکھ درد سمجھ سکتے ہیں۔
اللہ تک شاید رسائی ممکن نہیں؟اور ماں باپ حیات نہ تھے۔ اسے اپنی مجبوری،بدحالی اور پریشانی کو ایسے ہی گھٹ گھٹ کر پیتے رہنا تھا۔ تمام فلاحی اداروں سے جواب کا انتظار طول پکڑ رہا تھا۔ بالآخر اس نے جدید تقاضوں کے پیشِ نظر موبائل فون کا سہارا لیتے ہوئے کچھ سوچا اور جلدی سے موبائل فون اٹھائےاپنی پڑوسن سے بڑی لجاجت سے وائی فائی کا پاسورڈ مانگا۔پڑوسن خدا کی بندی نیک صفت خاتون تھی یا شاید اس کے چہرے سے جھلکتی پریشانی کو بھانپ چکی تھیں۔"وہ ان کا شکریہ ادا کرتے دل میں ڈھیروں دعائیں دیتی اندر واپس آگئی اور گوگل پر دیگر فلاحی اداروں کے ایڈریس ٹٹولنے لگی جس بھی ویب سائٹ کو کھولتی وہاں سے نا امیدی سامنے آتی۔اس کی کسی ای میل، واٹس ایپ میسج، ہاتھ سے لکھی گئی درخواستوں کے بدلے میں جواب موصول نہیں ہورہا تھا۔ کئی دن گزرنے کے بعد ایک روز اس کی نظر ایک فلاحی ادارے کے ایڈریس پر پڑی انگلیاں اسکرین پر تیزی سے چلنے لگیں۔
گھنٹوں جواب کا انتظارکرتی رہی,رات بیت گئی،صبح کا سورج طلوع ہوگیا اس کی نگاہیں کبھی گھڑی کی جانب ،کبھی موبائل کی اسکرین پر پڑتیں۔چند لمحوں بعد اسکرین پر روشنی نمودار ہوئی جلدی سے میسج کھولا اور پڑھنا شروع کیا۔ بتائے ہوئے ایڈریس پر جا کر درخواست دینے کا کہا وہ انکا شکریہ ادا کر کے فوراً درخواست لکھنے بیٹھ گئی۔علاقے کی قریبی لائبریری کے پاس ہی ان کا دفتر تھا درخواست لکھ کر لفافے میں ڈالی،ظفر کو بڑی منت سماجت کے بعد وہاں جانے کے لیے منایا وہاں تک پہنچی اور رونی صورت کو بظاہر ہشاش بشاش دکھا کر درخواست دے دی، امید بھری نظروں سے دیکھنے لگی گویا کہنا چاہ رہی ہو خدارا دادرسی کیجیے گا۔آدھا گھنٹہ گزر جانے کے بعد درخواست لے جانے والا شخص دوبارہ باہر آیا اور اس کے ہاتھ میں درخواست واپس دے کر کہنے لگا کہ یہاں آپ کا کام نہیں ہو سکتا۔
( دل میں کچھ ٹوٹ سا گیا،یکلخت جسم برف کی مانند ٹھنڈا پڑگیا )
وہ شخص اپنی بات جاری رکھتے ہوئے مزید بولا
یہ مطلوبہ نمبر ہے اس پر رابطہ کر لیں۔ انشاءاللہ آپ کی ضرور رہنمائی فرمائیں گی۔ بڑی خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ظفر کے ساتھ باہر نکلی۔ فوراً کال ملانا شروع کردی۔دوسری جانب فون مسلسل بج رہا تھا لیکن کوئی اٹھا نہیں رہا تھا۔ رات کے 11 بج چکے تھے اور شاید اب دوسری طرف والا شخص سو چکا تھا۔
دونوں گھر واپس آ گئے۔ دل کے نہاں خانوں سےاٹھتےوسوسوں کو دھکیل رہی تھی۔صبح چار بجے تک وہ اپنی تمام پریشانی انہیں بذریعہ میسج بھیج چکی تھی۔معمول کے مطابق وہ وضو بنا کر اللہ کے آگے جھک گئے اور تڑپ تڑپ کر اس مالک دو جہاں سے اس کا فضل مانگنے لگے۔تہجد کے وقت دو رکعت نفل حاجات پڑھ کر وہ مالک حقیقی سے رو رو کر اسباب پیدا کرنے کی دعا کرتی رہی روتے روتے نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی جب آنکھ کھلی تو صبح کے سات بج رہے تھے۔ موبائل فون اٹھایا اور اسکرین کھولی۔مطلوبہ نمبر پر کیے گئے میسجز کا جواب آچکا تھا ۔
"پیاری بہن! آپ اپنا ایڈریس سینڈ کر دیجئے ممکن ہوا تو ضرور آپ کی مدد کردی جائے گی۔یہ جواب اس کےلیے بیابان جنگل میں کسی سائبان کے ملنے جیسا، بنجر زمین پر پانی کی بوندیں پڑنے جیسا اور کسی ڈوبتے کو سہارا دینے جیسا تھا۔
بتائے گئے ایڈریس پر پہنچی وہاں جا کر جب ملاقات ہوئی تو ایک نفیس سی خاتون بڑے سادہ انداز میں ہم کلام ہوئیں اور تمام پریشانی تحمل اور مستقل مزاجی سے سنی۔شایداللہ نے زمینی اسباب پیدا کر دیے تھے، اس کی دعاؤں کی قبولیت، زخم بھرنے اور داد رسی کروانے کے لیے اللہ نے کسی انسان کو اس کا ہمدرد بنا دیا تھا، وہ خاتون مزید تمام پروسس آئندہ چند دنوں میں مکمل کروا کر ایک جگہ لے گئیں اور مطلوبہ رقم کی پیشگی کروا دی گئی۔ وہ حیران تھی اس کی ساری پریشانیوں کو ایک ہی پل میں حل کردیا تھا۔اس کے بہتے زخموں سے خون پونچھ لیا گیا تھا۔کچھ نیک لوگ جانتے ہیں کہ خدمت خلق کسے کہتے ہیں۔ لوگوں کو راضی کر کے اللہ کے قریب کیسے ہوا جاتا ہے۔سمعیہ خوش،خوش مطلوبہ رقم لےکر واپس گھر آگئی۔ظفر کو فون ملا کر خوشخبری سنائی۔ادھر ظفر نے بھی اپنی نوکری پکی ہونے کی نوید سنائی۔ دونوں جانب لہجوں میں کھلکھلاہٹ اور اطمینان تھا۔فون بند کرکے شکرانے کے نفل ادا کیے۔ تشکرانہ انداز میں حمد وثناء کرنے لگی۔
بیشک میرے پروردگارتوہی سمیع و بصیر ہے،توہی رحمان ورحیم ہے،تیری ہی ذات باری تعالیٰ ہے جو کارساز ہے۔ اے پروردگار تیری ہی رضا سے میری تمام الجھنوں، پریشانیوں کا مداوا ہوا ہے۔ہاتھ میں پکڑے پیسوں کو گنتے ہوئے سوچنے لگی کہ واقعی دنیا میں ابھی بھی دادرسی کرنے والے موجود ہیں۔اس کی "نیا پار لگ چکی تھی "کانوں میں اسی ہمدرد،دوست, فرشتہ صفت انسان کی آواز گونج رہی تھی کہ ادارے کا کام عزت نفس اور آپ کی سفید پوشی کو مدنظر رکھتے ہوئے درد کا مداوا کرنا ہے۔ ہمارا پیغام" زندگی بےبندگی شرمندگی"(کسی بہت اپنے کے نام)





































