
نزہت ریاض /حریم ادب
یوم اقبال کے موقع پر حضرت علامہ اقبال کا یہ شعرکہ
"محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتےہیں کمند"
کہاں ہیں آج وہ جوان جوعلامہ اقبال کےاس شعر پرپورا اترسکیں ؟
آج کا جوان توکراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پراسکوٹرچلا کریا پھر ہچکولےکھاتی بسوں میں سفر کر کےجوانی میں ہی کمر جھکا کرچلنے پر مجبور ہوگیا ہے وہ ستاروں تک کا سفر کیسے کرپائے گا اور اسی طرح کراچی کی خواتین اورلڑکیاں چنگچی جیسی بے ہودہ سواری استعمال کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں ۔ ان کا اعتماد اتنامجروع ہو چکا ہے کہ کس طرح وہ اپنی تعلیم پر توجہ دیں ،جوورکرویمن ہیں وہ اپنی قابلیت کس طرح استعمال کریں کہ جب راستے میں وہ اس بےہودہ سواری میں بیٹھ کرذہنی اور جسمانی مشقت اٹھاتی ہوئی اپنے آفس تک بمشکل پہنچتی ہیں ۔
افسوس تو یہ ہے کہ کراچی کےایڈمنسٹریٹر مرتضٰی وہاب خود ایک نوجوان ہیں تو کیا انہیں کراچی کے مسائل کا حل ذاتی دلچسپی لے کر نہیں کرنا چاہیے؟ٹرانسپورٹ کا مسئلہ تو مسئلہ کشمیربن گیا ہے جو کبھی حل ہوتا نظر نہیں آتا ۔
کراچی کےنوجوان روزگارتلاش کرنےنکلیں توان کی یہ آرزو بھی بائکیا، فوڈ پانڈااورسیلزمین جیسی نوکریوں تک آکرختم ہوجاتی ہے، یہاں ایک ماسٹرزکیا ہوا نوجوان کارواش کررہا ہے کیونکہ سرکاری نوکری تک توعام نوجوان کی رسائی ناممکن ہوچکی ہے۔حال ہی میں کراچی میں راہزنی ڈکیتی کی وارداتیں شدت اختیار کرچکی ہیں ۔ ابھی کراچی میں سردی آئی بھی نہیں ہے اورراتیں ویران نظرآرہی ہیں کیونکہ ہر شخص خوف زدہ ہےکہ وہ کسی ضروری کام سے بھی رات کو باہرنکلا تو اپنے موبائل، پرس یا اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ کبھی یہی کراچی تھا جہاں کے لڑکے نائٹ میچ کھیلا کرتے تھے۔ اسی شہر میں رات گئے تک تھیٹرمیں ڈرامے ہوا کرتے تھے۔اسی روشنیوں کے شہر میں شعرو شاعری کی محفلوں کا اہتمام کیا جاتا تھا۔آج اسی شہر میں خوف کی فضا قائم ہے۔
کس کی نظر لگ گئی شہرکراچی کوکہ یہاں کانوجوان اپنےذہن کوکام میں نہیں لا پارہا ۔۔۔ کیسے ڈالے گا وہ ستاروں پر کمند کہ اب وہ خوف کے سائے سےہی نہیں نکال پارہا۔۔ بات پھر سرکارپر ہی آجاتی ہے کہ وہ ان تمام مسائل کا حل نکالنے میں نام ہو گئی ہے ۔
ذمہ داری موجودہ حکومت پرہی عائد ہوتی ہے میں اپنےشہرکراچی کے لیے ہاتھ جوڑ کردرخواست کرتی ہوں جناب بلاول زرداری صاحب سےجناب مراد علی شاہ صاحب رحم کھائیے ۔۔ کراچی کو ذاتی دلچسپی لے کر دوبارہ روشنیوں کا شہر اورامن گہوارا بنانے کی کوشش کیجئے تاکہ کراچی کا نوجوان ستاروں پر کمند ڈالنے کے بارے میں سوچ سکے۔





































