
نزہت ریاض
زرینہ بیگم۔۔۔۔ زرینہ بیگم ۔۔۔۔ارے بھئی کہاں ہو؟حشمت صاحب دروازے سے اندرداخل ہوتے ہی زور زور سےاپنی بیگم کو آوازیں لگانے لگے۔
جی جی میں یہاں ہوں باورچی خانے میں
زرینہ بیگم دوپٹےسےہاتھ صاف کرتے ہوئے آگئیں۔ کیا ہواخیر تو ہے آپ اس وقت کیسے آگئے؟ دکان پرکون ہے؟
زرینہ بیگم بچوں کااوراپنا ضروری اور قیمتی سامان سمیٹیں ہمیں شاید رات کو ہی محلےسےنکلنا ہوگا۔ دکان پر خورشید صاحب نےبتایا کہ بلوائیوں کا آج ہمارے محلے پر حملہ کرنےکا منصوبہ ہے۔ خورشید صاحب کے ہندو نوکر نے وفاداری نبھاتے ہوئے انہیں یہ خبردے دی اوراللہ ان کا بھلا کرے کہ انہوں نے مجھےبھی بتا دیا۔
"یا اللہ خیرتوکیا ہم اپنا بھراپراگھرایسےہی چھوڑجائیں اتنی جلدی میں کیا کیا سمیٹ لوں گی ؟
زرینہ بیگم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرگئیں ۔
کتنی محنت اورمحبت سےانہوں نے اپنا گھربنایا تھااوراب انہیں اس گھرکو چھوڑ کرچلےجانا تھا۔
ابھی کل کی سی بات لگتی ہےجب کہ ان کی شادی کوچھبیس سال ہوچکےتھے وہ دہلی کی رہنےوالی تھیں اورشادی ہوکرامرتسرگئیں تھیں۔ شادی کےبعد وہ اسی گھر میں آئیں تھیں اورجب سے چھبیس سال تک وہ اسی گھر میں رہتی رہیں تھیں ۔ ساس سسراللہ کو پیارے ہوگئےتینوں نندوں کی شادی ہوگئی بھائی کوئی اورنہیں تھا حشمت صاحب کا اس طرح اب وہ اوران کے بچے ہی اس گھر کےمالک تھے۔
بہرحال جانا توتھا۔قیام پاکستان بننےکی جدوجہدمیں حشمت صاحب بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے تھےاسی لیےکل تک محلےکے ہندو پڑوسی جوحشمت صاحب کی بہت عزت کیاکرتےتھے۔ اب ان سے دشمنی پراترآئےتھےاوران کے محلےپرحملےکامنصوبہ بنائےبیٹھے تھے۔
زرینہ بیگم نےدونوں بڑی بیٹیوں کو آواز دی ۔ ان کے تین بچےتھےپہلےدو بیٹیاں اورتیسرے نمبرپربیٹا بڑی حنابائیس سال کی اس سےچھوٹی ثناء بیس سال کی جب کہ بیٹاعاشرابھی صرف پندرہ سال کا تھا۔
دونوں بیٹیاں ماں کےساتھ جلدی جلدی ضروری چیزیں سمیٹنےلگیں ۔
زرینہ کی توسمجھ میں ہی نہیں آرہا تھاکون سی چیزرکھیں اورکون سی چھوڑیں پھربھی انہوں نےجلد ہی سب کام نمٹا کرحشمت صاحب کو بتایا کہ ہم لوگ تیار ہیں کب نکلنا ہے؟
"رات کا اندھیراپھیلتے ہی ہم لوگ نکل جائیں گے،حشمت صاحب نے جواب دیا"
اور پھررات کا انتظارانتظارہی رہ گیا اور ان کے گھر پر قیامت ٹوٹ گئی۔
دروازے پردستک ہوئی حشمت صاحب سمجھے کہ خورشید صاحب آئےہوں گے۔انہوں نےدروازہ کھولااوران کا اپنا پڑوسی رمیش جس کےگھر کی دیوار حشمت صاحب کی دیوارسےملی ہوئی تھی دندناتا ہواحشمت صاحب کو دھکا دے کر اندر گھس آیا اور اس کے پیچھے دس بارہ اور بلوائی گھر میں گھس آئے رمیش نےحشمت صاحب کو گریبان سے پکڑکراٹھایا اور ان کو جھنجوڑتے ہوئےچلایا "کیوں رے مسلےساری جندگی مرے دیش سے کھایا کمایا اور اب تجھے آجادی کی جرورت پڑ گئی دیتا ہوں تجھے آجادی "
"رمیش تمہیں کیا ہو گیا تم تو میرے ہمسائے ہو میں نے کبھی تمہیں اپنی ذات سے کوئی تکلیف نہیں پہنچائی اورجہاں تک آزادی کی بات ہے وہ آزاد وطن ہماراحق ہے،وہ ہم لے کررہیں گے"
اتنا سنتے ہی رمیش نے اپنی کمرمیں بندھا خنجر نکالا اورحشمت صاحب کےسینے میں اتار دیا ۔
یہ منظردیکھ کربچوں کی چیخیں نکل گئیں اورزرینہ بیگم تیورا کرگریں اور بے ہوش ہو گئیں۔ ظالموں نے اسی پر بس نہ کی پندرہ سال کےعاشر کو رسیوں سے پلرکےساتھ باندھا اور اس کے سامنے اس کی دونوں بہنوں کی بے حرمتی کی اوراورپھر بےرحمی کی انتہاءکرتے ہوئے ان کے گھر کو آگ لگادی اور دندناتےنعرے لگاتے فرار ہوگئے۔
کسی نہ کسی طرح آگ بجھائی گئی اورزندہ بچ جانے والی صرف زرینہ بیگم تھیں باقی سب مرچکے تھے ۔
زرینہ بیگم کا دماغ پلٹ چکا تھا بس ایک ہی بات دہراتی رہتی تھیں۔
پاکستان زندہ باد
بن کے رہےگا پاکستان
یہ ایک گھرانے کی قربانی کی کہانی ہےایسی ہزاروں قربانیوں کی داستانیں ہیں جن کے خون جگر سے بنا ہے پاکستان





































