
نزہت ریاض
امی میں گلی میں کرکٹ کھیلنےجا رہا ہوں۔۔۔ حمزہ نے امی کوآوازلگا کر دروازہ بند کیا اور گلی میں آگیا ۔محلے کےدوسرے بچے بھی جمع ہو چکےتھے۔ٹاس ہوا اور حمزہ کی ٹیم
کو پہلے کھیلنے کا موقع ملا۔
حمزہ بیٹ پکڑے شاٹ مارنےکو تیارتھا۔ بال بلال کرارہاتھا، حمزہ نےشاٹ مارابال کے پیچھےشاہ رخ بھاگا اوریہ کیا کہ شاہ رخ کی نظر بال پرتھی وہ کھلے گٹرکو نہیں دیکھ سکا اور سیدھا گٹرمیں جا گرا۔ سارے بچے زور زور سےچلانے لگے محلے کے سارے مرد جمع ہوگئےمگر بد نصیب شاہ رخ کو بچایا نہیں جا سکا۔
شاہ رخ کی والدہ کو سکتہ طاری ہوا تھا سب رشتے دارخواتین انہیں رلانے کی کوشش کررہی تھیں اور پھرشاہ رخ کی والدہ پھوٹ پھوٹ کر رونےلگیں اور روتے روتے بولیں۔ اگر آپ سب چاہتےہیں میرے شاہ رخ کی طرح کوئی اوران کھلےگٹرکا شکارنہ بنےتو اللہ کے واسطے ایسی قیادت کو اس شہرکا نظام سونپیں جو ایمان داری سےاس شہر کے لیے کام کرے جوکام کرتے ہوئے اپنے کھانچےنہ رکھے، اس شہر کو ضرورت ہے اس قیادت کی جو اس کے لیےکام کرتے ہوئے اپنے دن رات کا چین سکون بھلائے رکھتی ہے۔ سردی گرمی کا خیال نہیں رکھتی، آج میرا شاہ رخ اس سندھ گورنمنٹ کی بے حسی کا شکار ہواہے، کل کوئی اور ان کھلے گٹروں کا شکار ہوگا۔
اب سکتہ سارے مجمع پر طاری تھا۔





































