
نزہت ریاض /کراچی
کراچی کا موسم کبھی اتنا گرم نہیں ہوا کرتا تھا جیسا کہ اب ہو رہا ہے اور کیوں گرم نہ ہو جب اس شہر کی زمین پر بےگناہوں کا خون بہایا جاۓ گا تو زمین شہر پر االلہ کا قہر تو
برسے گا نہ۔آۓ دن شہر کے کسی نہ کسی علاقے سے خبر سننے میں آتی ہے ۔ڈکیتوں نے واردات کے دوران فائرنگ کرکے نوجوان کو گولیاں مار کر ہلاک کر ڈالا ۔
میں اس شہر کی ان ماؤں کے کلیجے چیر کر کس بے حس حکمران شہر کو دکھاؤں جو صبح اپنے بچے کو اپنی دعاؤں کے حصار میں رخصت کرتی ہے اور شام کو اس کی لاش کو اسی کے خون میں ڈوبا ہوا اپنے گھر کے أنگن میں رکھواپاتی ہیں ۔
کہاں سے لائیں ڈھلتے کاندھوں میں اتنی طاقت ،ایک بوڑھا باپ جو اپنے جوان بچے کی میت اپنے ناتواں کاندھے پر رکھ کر قبرستان تک لے جاۓ؟
کراچی کو جنگل تو اس شہر کے بےحس حکمرانوں نے سالوں پہلے سے بنا ہی ڈالا ہے مگر اب شہر کو قبرستان بنتے بھی ہم دیکھ رہے ہیں۔ ایک ایسا قبرستان جہاں نوجوانوں کی قبریں ہی قبریں ہیں اور یہ وہ نوجوان ہیں جو صبح گھر سے حصول روزگار، حصول تعلیم اور ایسے ہی کسی بھی نیک ارادے سے نکلتے ہیں اور شام ہوتے ہی ڈکیتوں کے ہاتھوں اپنی جان گنوا کر اپنے گھر میں شام غریباں کا منظر بنا جاتے ہیں۔
شام غریباں کو یزید کے ہاتھوں بپا ہوئی تھی مگر اس یتیم شہر کراچی کا تو ہرہر ارباب اختیار یزیزیت اختیار کیےبیٹھا ہے،ہم بےگناہوں کا لہو کس کس کے ہاتھ پر تلاش کرنے نکلیں؟
محبت کی مثالیں تو لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد کےناموں سے دی جاتیں ہیں مگر کراچی سےنفرت کرنے والوں کےناموں کی مثال دینے کے لیے اس شہر کے حکمرانوں کی ایک لمبی فہرست ہے جن میں پولیس اور رینجرز بھی شامل ہے جو کبھی بھی کسی بھی واردات کے وقت کہیں بھی نہیں پائی جاتی۔
کراچی کی مائیں اب اپنے جینے کا ڈھنگ بدل ڈالیں ۔اپنےسینوں میں دل کی جگہ پتھر رکھ لیں تاکہ صبح اپنے بچوں کو زندہ سلامت رخصت کرکے اگر شام کو اس کا خون میں ڈوبا لاشہ دیکھیں تو دل دھڑکنا نہ چھوڑ دے۔
باپ اپنے آپ کو اتنا توانا ضرور رکھیں کہ اپنے بیٹوں کو اپنے کاندھوں پر اس کی آخری أرام گاہ تک پہنچا آئیں کیونکہ اس شہر کی فضا تو اب ایسے ہی خون ناحق کی بو سے بوجھل رہے گی کیونکہ اس شہر یتیماں کا کوئی وارث نہیں ہے۔





































