
نزہت ریاض
کل سے بارش ہو رہی ہے کم ہی نہیں ہو رہی، مجھے یونیورسٹی جانا تھا، اتنا ضروری لیکچر تھا، اب کراچی میں تو کم بارش ہی
رحمت کے بجاۓ زحمت بن جاتی ہے۔ کل سے اتنی تیز ہو رہی ہے۔ پتا نہیں کیا رکھا ہے پاکستان میں جو ابو دبئی کی اتنی اچھی نوکری چھوڑ کر یہاں چلے آئے ۔ کتنا مزے سے رہتے تھے ہم وہاں۔۔۔ رحمہ کی بڑبڑاہٹ مسلسل جاری تھی ۔
سامنے تخت پر بیٹھی دادی جان پان بناتے ہوۓ رحمہ کی بیزاری بھری باتیں سن رہیں تھیں، انہوں نے پیار سے رحمہ کو پکارا ۔
"کیا ہو گیا میری رانی کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہو ۔سب کو پتا ہے تیز بارش ہو رہی ہے کیا پتا لیکچر ہواہی نہ ہو "۔
"دادی کیا کروں یہاں کی گندگی دیکھ کر مجھےبہت الجھن ہوتی ہے۔جیسےہماراگھر بارش ہونے کے باوجود صاف ستھرا نظر آرہا ہے، ایسا یہ شہر کیوں نہیں وہاں دبئی میں ذرا سی بھی گندگی نہیں ہوتی ،تھی ہم بارش میں گھومنے بھی نکل سکتے تھے کیونکہ وہاں بارش کم ہوتی ہے تو لوگ بہت شوق سے باہر گھوم پھر کر بارش کا مزا لیتے ہیں"یہاں کی طرح نہیں"۔
"بات یہ ہے بیٹی تمہارے ابو تم لوگوں کو لے کر وہاں شفٹ تو ہوگئے،اچھی نوکری بھی تھی،آمدنی بھی اچھی ہو رہی تھی مگر وہ وہاں خود کو اجنبی اور تنہا محسوس کر رہا تھا ،مجھ سے مشورہ مانگا تومیں نے اسے واپس لوٹ آنے کو کہا اور میرا بیٹا جب سے یہاں آیا ہے بہت مطمئن ہے ۔
اتنے میں رحمہ کےابو بھی کمرے سےنکل آۓاوردادی پوتی کو باتیں کرتے دیکھ کر ان کے قریب آکربیٹھ گئے ۔ "ہاں بھئ رحمہ کیا ہو رہا ہے "
"کچھ نہیں بس رحمہ منہ بسور کر بولی"
"ارے بیٹا کچھ نہیں بس کراچی کی بارش میں توتمہیں پتا ہےہر طرف گند ہو جاتا ہے ،اسی سے گھبرا گئی میری بچی"
ابو نے رحمہ کو اپنے پاس بلایا اور سمجھانے والے انداز میں گویاہوۓ"دیکھو بیٹا دبئی ہمارا وطن نہیں تھا، بس ہم وہاں یہاں کی کم آمدنی سے گھبرا کر تلاش معاش کے چکر میں رہ رہے تھے اور میں مانتا ہوں کہ میری نوکری وہاں بہت اچھی تھی فیملی کو ساتھ رکھنے کی بھی سہولت تھی مگر بیٹا وہاں ہمارے اپنے نہیں تھے مانا کہ وہاں صفائی ستھرائی اور ماحول بہت اچھا تھا مگر ہماری جڑیں تو ہمارے پاکستان سے ہی جڑی ہیں، نہ یہ وطن ہمارے قا ئد اور ہمارے بزرگوں نے بہت قربانیاں دے کر بنایا تھا، اب اپنے وطن اپنے شہر میں رہنے کےلیےاتنی قربانی تو ہم بھی دے سکتے ہیں، اس کی خامیوں کو خوبیوں میں بدلنے کے لیےاپنا کردار ادا کریں اور اس سب سے بڑا کردار یہ ہے کے ہم ایسے نمائندوں کو اپنا قیمتی ووٹ دیں جو ہمارے وطن اورقوم سے مخلص ہو جو اپنے بینک اکاؤنٹ بھرنے کے لیے سیاست نہ کرے"
رحمہ غور سےابو کی باتیں سن رہی تھی اور سوچ رہی تھی واقعی اتنی قربانی تومیں دے ہی سکتی ہوں اس قربانی کے نتیجے ہمیں اپنے وطن میں آزادی سے رہنے کو تو ملے گا۔
نوٹ : ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































