
نزہت ریاض
آج تمہارا ڈاکٹرسے چیک اپ ہے یاد ہےنہ؟ معاذ نےنمرہ کے ہاتھ سے بٹوہ لےکر جیب میں رکھتے ہوئےاسے یاد دلایا
جی یاد ہےآپ دفترسے آجائیں گےتوساتھ چلیں گے ڈاکٹرکے یہاں۔
ٹھیک ہے میں ساڑھے پانچ تک آجاؤں گا تم تیاررہنا۔اللہ حافظ کہ کرمعاذ دفتر کے لیے روانہ ہوگیا اور نمرہ نے دروازہ بند کیا اور کمرے میں آکرٹی وی کھول کر لیٹ گئی۔
معاذ اورنمرہ کی شادی کے دس سال بعد اللہ نےخوشی دکھائی تھی ، ان دس سال میں نمرہ نے لوگوں کی بہت ساری باتوں کوبرداشت کیا تھا کوئی معاذ کو دوسری شادی کا مشورہ دیتا تو کوئی نمرہ کو معاذ کے نامرد ہونےکی تشخیص کر دیتامگر معاذ اورنمرہ نے کبھی بھی صبرکا دامن ہاتھ سےجانے نہ دیا اورآپس میں ہمیشہ پیاراورمحبت سے رہتے رہے جس کا صلہ اللہ نے انہیں دس سال بعد دے دیا۔ اب وہ وقت زیادہ دورنہیں تھا جب ان کے گھر میں بھی معصوم قلقاریاں گونجنےوالی تھیں۔
شام میں نمرہ معاذ کے ساتھ روٹین چیک اپ کے لیےگئی ،واپسی پرایک لڑکیوں کے کالج کے باہربہت ساری لڑکیاں کالج یونیفارم میں ہاتھ میں پلے کارڈ اٹھائے احتجاج کررہی تھیں "پھانسی دو پھانسی دو گناہ گاروں کو سنگسار کرو، ہم اپنی سہیلی کا قتل معاف نہیں کریں گے۔
یہ کیا ہورہا ہے یہاں ؟
نمرہ نے معاذ سے پوچھا
"ابھی دوو دن پہلے اسی کالج کی طالبہ کےساتھ زیادتی کی گئی تھی ، وہ اپنی جان سےہاتھ دھو بیٹھی بےچاری۔اسی کے لیےاس کی ساتھی طالبات اوراس کے گھر والے احتجاج کر رہے ہیں ۔اللہ سب کی بچیوں کی حفاظت فرمائے۔
نمرہ بالکل خاموش سی ہو گئی تھی ۔ ایک بار معاذ نے پوچھا بھی کیا ہوامگرنمرہ نےکوئی جواب نہ دیا ۔اتنے میں گھرآگیانمرہ سیدھی کمرے میں چلی گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونےلگی معاذ جواس کے لیے فریج سے پانی نکال کر لارہا تھا اس کو روتے دیکھ کربھاگ کر اس کے پاس آیا "کیا ہوا نمرہ کیوں رو رہی ہو؟۔ طبعیت ٹھیک ہے معاذ اس کے پاس بیٹھ کرہراساں سا اس کے آنسو صاف کرتےہوئے پوچھ رہا تھا مگر نمرہ کےآنسو تھمنے کانام ہی نہیں لے رہے تھے۔ معاذ نے بڑی مشکل سےاسے پانی پلایا اسےتکیے کےسہارے لٹایا اوراس کا آنسؤں سےترچہرہ صاف کیا اوراس کا ہاتھ تھام کر پوچھا ۔
کیا ہوا بتاؤ نمرہ نےمعاذ کی طرف دیکھ کربولنا شروع کیا "معاذ ہم دس سال سے اپنے گھر کےسناٹےکو دیکھ اور محسوس کرہےہیں اورہمیں اللہ نے آخر خوشی کی خبردے ہی دی ہےمگر بہت سے لوگ ایسے بھی ہوں گے جو بے اولاد ہی ہوں گےمگر مجھے رونا ان والدین پر آرہا ہےجنہوں نے اپنی بچی کو پال پوس کر بڑا کیا اسے کتنے ارمان سے پڑھنے کے لیےکالج بھیجا کہ وہ پڑھ لکھ کر قابل بنے گی ، کتنے پیار سے اس کی ماں نے اس دن بھی اپنی بیٹی کو کالج بھیجا ہوگا جس دن ان درندوں نےاس بچی کے ساتھ ظلم کیا ۔ کس دل کے ساتھ اس بچی کے باپ نے اپنی بیٹی کا بےلباس لاشہ اٹھایا ہوگا ۔ کیا یہی وقت دیکھنے کے لیے اس وقت تک زندہ تھےوہ والدین ۔
معاذ کل کو اگر میری بیٹی ہوئی تو میں تو اس رب کا شکر ادا کرتےنہیں تھکوں گی جو میری جھولی میں اپنی رحمت بھیجے گا مگر معاذ میں اس بھیڑیوں کےجنگل میں اپنی بچی کی حفاظت کیسے کروں گی ۔ بس یہی سوچ کر مجھے رونا آ رہا ہے۔
معاذ نے اس کے ہاتھ تھپتاتے ہوئے تسلی دینے والے لہجے میں سمجھایا ، گلی ایسے لوگوں کے خوف سے کیا لوگ اپنی بچیوں کو گھروں میں بند کرکے بٹھا لیں ۔ نہیں ضرورت صرف اس بات کو سمجھنے کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت اسلامی شعار پر کریں بچیوں کو کم عمری سے ہی لباس اورپردے کی اہمیت سکھائیں ۔انہیں یہ بتائیں کہ وہ کسی بھی نامحرم کے سامنے کبھی بلا وجہ نہ جائیں اور دوسری طرف اپنے لڑکوں کی بھی ترببیت اسی طرح کریں کہ وہ کبھی کسی نامحرم لڑکی کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھیں ۔
آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ یہ موبائل ہے،اس کو بچوں کے ہاتھ میں تھما کر ان سے لاتعلق نہ ہو جائیں ان پر نظر رکھیں ان کے موبائل استعمال کرنے کا ایسا وقت سیٹ کریں جب آپ ان کے ساتھ بیٹھ سکیں ۔ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے اور اس کے با وجود بھی جب کوئی درندہ کسی کے ساتھ ایسی حرکت کرے تو ضرورت ہے۔ شرعی سزاؤں کی دو تیں مجرموں کو بیچ چوراہے پرسنگسار کیا جائے تو کسی کی مجال نہ ہو ایسی حرکت کرنے کی ہمارے معاشرے میں قانون کا خوف ختم ہو گیا ہے ،تب ہی تو آئے دن ایسی خبریں سننے میں آتی رہتی ہیں اگر قرارواقعی سزائیں ملیں تو شرح جرم بہت کم ہو سکتی ہے۔ ضرورت ہے سمجھنے کی چلو اب بہت باتیں ہو گئیں تم اپنے ذہن سے ساری سوچوں کو نکال کر آرام کرو میں تمہارے لیے جوس لاتا ہوں اور نمرہ نے مطمئن انداز میں سر تکئے پر ٹکا دیا ۔





































