
نزہت ریاض/ کراچی
کبھی سنا کرتے تھے شہر کراچی روشنیوں کا شہرہے،یہ شہرمثل آغوش ماں بھی کہلاتا ہےجو ہربچے کو اپنی آغوش میں پناہ دیتی ہے۔ کھلے دل اور
کھلے بازو سے اپنے اندر سمو لیتی ہےپھر یوں ہوا کہ اس شہر کو نظر لگ گئی، اس کی روشنیاں ماند پڑ گئیں۔ اب اسے لوگ روشنیوں کا شہر نہیں گندگی کا ڈھیر کہتے ہیں۔
یہاں کی ٹوٹی سڑکیں اپنی زبوں حالی پرنوحہ کناں نظرآتی ہیں،یہاں کےبہتےگٹران اشکوں کی مثال ہیں جنہیں پونچھنےوالا کوئی نہیں۔شہرکراچی کے مسائل لکھنے بیٹھوں تو کتابیں لکھی جا سکتی ہیں مگر اس وقت جس حادثے پر دل پھٹا جارہا ہے ،وہ ملیر میں پیش آنے والا ہولناک حادثہ ہے جس میں شوہر، اس کی حاملہ بیوی جس نے حادثے کے بعد بچے کو سڑک پر جنم دیا اور تینوں اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔
جوڑے کی شادی کو دس ماہ کا قلیل عرصہ ہوا تھا اور یہ نوجوان بیوی کو چیک اپ کے لیےڈاکٹرکےلےجارہا تھا ۔ڈبل روڈ پر یہ فیملی دوسری سائیدپر تھی جب کہ بے قابوواٹر ٹینکر فٹ پاتھ کو کراس کرتا ہوا ان کی موٹرسائیکل کو کچلتاہوا چلا گیا۔موقع پرموجود عینی شاہد بتاتا ہے کہ میری نظر اچانک اس بچے پر پڑی تو میں نے چلا کر لوگوں کو متوجہ کیا، وہاں موجود ایک خاتون نے چیک کیا تو اس معصوم کی سانسیں چل رہی تھیں۔ ہم نے اسے ہسپتال پہنچایا ،وہاں ڈاکٹرز نے اس نومولود کو بچانے کی بہت کوشش کی مگر وہ جانبر نہ ہو سکا۔
اس بچے کے دنیا میں آنے میں ابھی کچھ وقت تھا مگرکیا دیکھتااگر جی بھی جاتا اپنی ماں اورباپ کی کچلی خون میں نہائی ہوئی لاشیں اپنی بےوقت کی یتیمی یا اپنے ننھیال اور ددھیال کے اپنے جوان ماں باپ کی لاشوں پر روتے بلکتے چہرے۔اس معصوم کا سوال اس بے حس شہر کے نام نہاد حکمرانوں سے ہے، آخر کب تک اس شہر کی عوام کا خون ناحق اپنی ہتھیلیوں پرلیے پھروگے۔ کیا یہ خون آلود ہاتھ تمہیں راتوں کو سکون سے سونے دیتے ہیں؟ کیا میری بے وقت موت تمہیں اپنے بچوں کی عیش وعشرت بھری زندگی گزارتے وقت شرمندہ نہیں کرے گی۔
میں نے تو ابھی دنیا د یکھی بھی نہیں تھی اور تم تو اپنےہزاروں گز کے بنگلوں میں بیٹھ کرمیری موت کی خبر سن کر چینل آگے بڑھا دو گے مگر اس شہر برباد کو کون سنوارے گا ؟ ہے کوئی تو بتائے مجھے۔
نوٹ :ایڈیٹر کا بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ( ادارہ رنگ نو )





































