
نزہت ریاض
چار وز قبل پاکستان کے شہر لاہور کے محلہ اچھرہ میں ایک دل دہلانے والا واقعہ ہوا ،تین معصوم بچوں کو ان ہی کے گھر میں تیز
دھار چھری سے ذبح کر دیا گیا اور پولیس نے کچھ ہی گھنٹوں کی تفتیش کے بعد یہ جان لیوا انکشاف کیا کہ ان معصوم بچوں کی قاتلہ ان کی اپنی ماں ہی ہے۔
بچوں کی عمریں بالترتیب پانچ ،چار اور ڈیڑھ سال تھیں۔کیا ہم کبھی سوچ سکتے ہیں کہ ایک ماں اپنے ہی معصوم بچوں کی گردنوں پر چھری چلا سکتی ہے اور یہ کسی وقتی جذباتی کیفیت کے نتیجے میں نہیں کیا گیا بلکہ دو دن پہلے یہ سفاک عورت چھری خرید کر لاتی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ باقاعدہ پلاننگ کرکے ان معصوم بچوں کو قتل کیا گیا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ معاشرتی طور پر ہم تباہی کے کس دہانے پر پہنچ گئے ہیں ،جہاں مائیں اپنے بچوں کو جان سے مار رہی ہیں،اگر اس گھرانے میں کسی قسم کی مالی پریشانی تھی اگر وہ اپنے بچوں کو پیٹ بھر کے کھانا بھی نہیں کھلا سکتی تھی تو کیا کبھی کسی محلے پڑوس والوں کو ان کے ان حالات کا اندازہ نہیں ہوا ،کبھی کسی نے ان کی مدد کرنے کی کوشش کی؟نہیں کی ہوگی کیونکہ آج ہمارے برابر والے گھر میں کیا ہو رہا ہے ہمیں خبر نہیں ہوتی ؟ کیوں ۔۔۔۔آخر کیوں ہم اتنے بے حسی ہوگئے ہیں کہ ہم اپنے گھر کے سکون سے آگے کچھ سوچنے کے روادار نہیں رہے ۔ہمارا مذہب تو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ پڑوسی کا حق رشتے داروں سے بڑھ کر ہے تو کیوں ہم اتنے بے خبر ہیں کہ جب تک ایسا ہولناک واقعہ نہ ہو جائے ہمارے کان پر جوں نہیں رینگتی۔
دوسرا نقطہ پولیس نے یہ بھی ظاہر کیا کہ اس عورت نے کسی اور سے شادی کرنے کے لیے بچوں کو راستے سے ہٹا دیا ۔ کیا دوسری شادی کرنے کے لیے معصوم بچوں کا خون کرنا ضروری تھا ،اگر شادی ہی کرنی تھی تو شوہر سے علیحدگی اختیار کرنی چاہیے تھی، خلع لے سکتی تھی ،بچوں کا کیا قصور کیا تھا ،بچے باپ کے پاس بھی چھوڑ کر جا سکتی تھی مگر معصوموں کو ذبح تو نہ کرتی یا پھر اس عورت کی ذہنی صحت اس حد تک خراب ہو چکی تھی کہ اس کے ہاتھ کانپے ہی نہیں ان معصوموں پر چھری چلاتے ہوئے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں جگہ جگہ ایسے سینٹر قائم کیے جائیں جہاں خواتین کی کونسلننگ کی جاۓ جہاں جا کر وہ اپنی ہر پریشانی کا کھل کر اظہار کر سکیں پھر مسئلہ چاہے گھریلو تشدد کا ہو یا ذہنی ٹارچر کا عورت اپنے لیے آواز اٹھا سکے۔ ہمارے ملک کے پولیس اسٹیشنز کے حالات سے تو آپ سب بہت اچھی طرح واقف ہیں جہاں جاتے ہوۓ تو مرد حضرات بھی گھبراتے ہیں تو خواتین بے چاری کیا جائیں گی ۔ابھی بہت دیر نہیں ہوئی ایسے واقعات رونما نہ ہوں ،اس کے لۓ مثبت سدباب کیا جانا چاہیے تاکہ آئندہ کوئی بھی ماں ڈائن بن کر اپنے ہی معصوم بچوں کے کلیجے نہ چبا ڈالے۔





































