بچوں کی تربیت میں خیال کیجئے

افروز عنایت

انیلہ  !--( اپنی آٹھ سالہ  بیٹی  سے) بیٹا زرا دیکھ تو سہی تیری دادی کس سے فون پر باتیں کر رہی ہے، خاموشی سے جانا انہیں  پتا نہ چلے  اور چپکے سے سننا کیا کہہ رہی ہے ۔

نسیمہ !--( بیٹے کو) کیا سارا دن اس اپنی کزن کے ساتھ لگی رہتی ہو کوئی ضرورت نہیں ہے  چاچی کے کمرے میں  جانے کیاور وہ اس کا چھوٹا بیٹا وہ تو مجھے ایک آنکھ نہیں  بھاتا چار سال کا ہے پر زبان قینچی کی طرح  چلتی ہے۔

سعدیہ  !--( اپنی تیرہ سالہ  بیٹی نورین سے  ) میں نے  کتنی مرتبہ تمہیں  منع کیا ہے  تم اب بڑی ہوگئی ہو ان بچوں کے  ساتھ  بیٹھ کر  گپ شپ  کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔

نورین !--امی امبر  مجھ سے چار پانچ سات مہینے تو چھوٹی ہے اور پھر میری  خالہ کی بیٹی ہے  ۔

سعدیہ!-- مجھ سے زیادہ  بحث نہ کرو ،ان کی عادتیں بچوں جیسی ہیں  تم اب بڑی ہوگئی ہو ۔

نعیمہ( بڑبڑاتی کمرے میں  داخل ہوئی  جہاں اس کے دونوں  بچے بیٹھے ہوئے تھے) بڈھے نے دماغ خراب کیا ہوا ہے ،ہر کام میں  ٹانگ اڑانا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ یہ کرو، ایسا کرو ،بچوں کے ساتھ یوں بات کرو ،ہوں ،، میں تو  تنگ  آگئی ہوں اس بڈھے سے ۔

شبیر !--( بیٹے کی ٹیسٹ کاپی دیکھ کر  غصے سے )اس جاہل ٹیچر کو صرف غلطیاں  نکالنا آتی ہیں  اتنے کم نمبر  دیئے  ہیں، اس مرتبہ میٹنگ میں ، میں جاکر اس کو  وہسناوں گا ۔۔۔ اس کا بیٹاحیرانی سے باپ کو دیکھ رہاتھا۔

ارشد !-- اپنے دس سالہ  بیٹے کو  اس کے دونوں  دوستوں کے سامنے  زور سے  تھپڑ مارتے ہوئے،  اس مرتبہ بھی تم ٹیسٹ میں  فیل ہوگئے ہو ۔حرام کے پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔۔ تمہیں تو کہیں مزدوری پر لگادوں گا۔

یہ چند وہ  غلطیاں ہیں جو کچھ والدین  کرتے  رہتے ہیں  ،جن کا بچوں کی  تربیت پر یقینا ً غلط اثر پڑتا ہے  ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ پڑھے لکھے والدین کا بھی طرز عمل ایسا دیکھا گیا ہے ۔

اماں (اللہ رب العزت ان کے درجات بلند فرمائے ) پڑھی لکھی نہیں تھی لیکن ان کا طرز عمل بہت عمدہ تھا جس کا اثر آج بھی ہم بھائی  بہنوں  کی زندگی میں  نظر آتا ہے۔ اماں نے ہم بہن بھائیوں کے سامنے  کبھی اپنے کسی بزرگ کے لئے برے القابات کا استعمال نہیں کیا۔   بڑی عزت و احترام سے تعریفی انداز میں  ان کا ذکر کرتیں ۔

 میری دادی( جو بابا کے بھی بچپن میں  انتقال  کر گئی تھیں )کا ذکر اتنی خوبصورتی سے  کرتی تھی کہ آج  ہمارے دلوں میں دادی ایک آئیڈیل کی حیثیت  رکھتی ہیں۔ دادا (جو   تھوڑی سخت  طبعیت کے مالک تھے  جس کا اندازہ ہمیں اب جاکر ہوا ہے) کی شخصیت  کا حوالہ  دیکر ان کی کسی بات کو ہماری تربیت کا  ذریعہ  بناتی  ،مثلا کہتی ،بزرگوں کے سامنے پاؤں  پھیلا کر نہیں  بیٹھتے ۔ سر پر دوپٹہ  لو آپ کے دادا بیٹھے ہیں۔ بڑوں کے  سامنے منہ پھاڑ کر بولنا اور زور زور سے قہقہے لگانے بری بات ہے۔دادا کی دی ہوئی  عیدی پر کہتیں ،آپ لوگ خوش نصیب ہیں کہ  آ پ کو  دادا کے ہاتھ سے عیدی مل رہی ہے۔ وغیرہ وغیرہ

اسی طرح ہم سے عمر میں بڑی بہن اور کزن کے ساتھ مل جل کر رہنے کی تلقین کرتی کہ ان کی صحبت سے  کچھ اچھائیاں  سیکھ لو۔

ماشاءاللہ  خوشحال  گھرانہ تھا لیکن اماں  ہماری  چار خواہشات  پوری کرتیں تو ایک مثبت طریقے سے  رد بھی کرتی تھیں  جس کی وجہ سے انے والے مشکل حالات میں بھی  سمجھوتا کرنا مشکل نہ ہوا۔

ایک اور چیز جو اولاد کی تربیت میں  ضرور  اثر انداز ہوتی ہے ۔  وہ ہے والدین کا بچوں کے سامنے  لڑنا جھگڑنا  اور بیوی کا شوہر کی کم کمائی کا رونا رونا اور شوہر کا بیوی  کی کسی کمزوری پر اسے طعنہ  دینا ، ایسے ماں باپ کے بچے ذہین ہونے کے باوجود  حساس ہوتے ہیں یا احساس کمتری میں مبتلا  ہوجاتے ہیں اور زندگی میں ضرور کسی نہ کسی معاملےمیں پیچھے رہ جاتے ہیں، بیشک  میاں بیوی میں  نوک جھونک ہوتی رہتی ہے ،اکثر دونوں  الگ الگ  سوچ اور خیالات کے حامل ہوتے ہیں لیکن  اسے بچوں کے  سامنے پیش کرنا صحیح نہیں ہے  ۔

میاں بیوی کا  بچوں کے سامنے ایک دوسرے کی خوبیوں کا اعتراف کرنے  سے بچوں کے دل میں بھی  ماں باپ کی قدر ومنزلت اور عزت مزید بڑھتی ہے ۔مثلا ً اماں بابا کی کچھ نیکیوں اور اچھائیوں کا  ہم سے ضرور  ذکر کرتی تھیں ،اسی طرح  بابا کا ہم بہن بھائیوں کے سامنے یہ اعتراف کہ تمہاری اماں  بہترین  تربیت کرنے والی  ماں ہیں جس کی وجہ سے ہماری زندگیوں میں  ماں باپ کا  احترام عزت اور تقدس بڑھتا گیا۔

 آج اماں اور بابا کی تربیت کا ہم پر یہ اثر ہے کہ ہم بھی انہی مذکورہ بالا باتوں کا ضرور  خیال  رکھتے ہیں

 غرض کہ بظاہر یہ چھوٹی  چھوٹی باتیں ہیں  بہت اہمیت کی حامل ہیں ان باتوں کا خیال رکھنا  والدین کے لئے بہت ضروری   ہے ، ورنہ والدین کے  مذکورہ بالا  منفی طرز عمل کااگے جاکر کہیں نہ کہیں ان کے بچوں پر اثرات  ضرور  نظر آتے ہیں۔

میرا بڑا عرصہ  درس و تدریس  میں  گزراہے اس دوران کچھ ایسے بچے میری نظروں کے سامنے   ائے جو والدین کے منفی رویوں  کی وجہ سے بہت متاثر نظر آئے انہی بچوں  میں  ایک بچی کی روداد  میں  اپ سب سے یہاں  شئیر کرنا چاہتی ہوں۔

شہلا (فرضی نام ) کا ایڈمیشن  جماعت  ہفتم ہوا ،حاضری  لیتے ہوئے دوتین  مرتبہ  نام پکارنے پر وہ متوجہ ہوئی  حالانکہ شہلا بارہ تیرہ سالہ ایک خوبصورت  قدآور    بچی تھی ۔میں  سمجھی کہ  نئے ماحول کی وجہ سے  وہ  کنفیوز  ہورہی ہےلیکن اگلے چند دنوں میں ،  میں نے  نوٹ کیا کہ اکثر وہ اسمبلی میں  بھی شرکت نہیں کر رہی بلکہ اس وقت یاتو وہ   واش روم چلی جاتی ہے یا طبعیت خراب ہونے کے  بہانے سے  کلنک میں  جاکر بیٹھ جاتی ہے  ۔کلاس میں بھی اکثر  کھوئی کھوئی سی رہتی  لیکن مجھے اس کے کام وغیرہ سے  اتنا تو اندازہ ہوگیا کہ وہ ذہین بچی ہے میں نے  میڈم کو ساری صورتحال سے  باخبر کیا اور گزارش کی کہ  میں اس کی والدہ سے  ملنا چاہتی ہوں۔ میڈم  نے  اگلے دن ہی اس کی والدہ کے ساتھ میری میٹنگ  رکھوادی ۔ میں نے پہلے تو  اس کی والدہ  سے  شہلا کی تعریف کی  کہ وہ ایک اچھی  اور  ذہین بچی ہے لیکن شاید  نئے  ماحول کی وجہ سے کچھ خاموش  خاموش  رہتی ہے۔ میری بات سن کر  وہ خاتون  چند لمحے تو خاموش رہی ،پھر ہچکچاتے ہوئےکہنے لگی ،میں  آپ سے کچھ شئیر  کر سکتی ہوں؟؟

میں نے  اسے کہا کہ اگر مناسب سمجھتی ہیں تو ضرور، پھر اس نے اداسی میں  ڈوبی آواز میں اپنی بات شروع کی ، دراصل  ہم دونوں  میاں بیوی کے  اختلافات کی وجہ سے  میں گزشتہ  تقریباً  آٹھ  نو مہینوں سے  اپنی والدہ کے  پاس آگئی ہوں، اس کو اسکول  سے پک اینڈ ڈراپ  اس کے والد ہی کرتے تھے (پھر وہ کچھ دیر تک چپ ہوگئی) پھر کہنے لگی۔ شاید پرانے اسکول میں  بھی اس کی یہی حالت ہو گئی تھی ،بچیاں  اس سے پوچھتی ہیں کہ اب تمہارے والد تمہیں کیوں نہیں  لینے آتے ؟؟  ان کی باتوں کا بھی اس پر اثر  پڑا  ۔ وہ اسکول سے  اکثر  غیر حاضر  رہنے لگی ۔میں نے سوچا  شاید  نئے اسکول میں وہ والد کی وجہ سے شرمندگی محسوس کر رہی ہے۔ میں  خود بھی اس بچی کی وجہ سے پریشان رہتی ہوں ۔ دوسرا بیٹا ابھی دوسال کا ہے۔ اس پر تو زیادہ  اثر نہیں پڑا ہے ۔

اس کی آنکھوں میں  نمی کو دیکھ کر میں نے کہا ۔آپ  مجھ پر اعتماد کرکے اپنا مسئلہ بیان کیا، کیا  ایسا ممکن ہے کہ اپ دونوں  میاں بیوی  میرا مطلب ہے کہ دیکھیں  اگر ممکن  ہے تو اپ دونوں میاں بیوی اپس میں صلح کر لیں کیونکہ آپ کی بچی اپ دونوں کی وجہ بہت ڈسٹرب  ہے۔

خیر میں نے  اپنے طور پر بچی پر خود بھی بہت توجہ دی ۔کچھ دنوں کے بعد  اس میں  مجھے مثبت  تبدیلی نظر آئیں  ، وہ کلاس میں بھی نارمل انداز میں  پڑھائی میں دلچسپی اور حصہ لینے لگی ۔اگلی ٹیچر  اور والدین کی میٹنگ میں  اس کی والدہ سے میں نے  بچی کی تعریف کی  کہ اس میں  نمایاں  تبدیلی  آئی ہے  ۔

اس کی والدہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا میں آپ کی بہت مشکور ہوں، اپنے مجھے جو مشورہ دیا،  اس پر میں نے  عمل کیا ، میں اپنے گھر آگئی ہوں۔ مجھے یہ سب پہلے کرنا چاہیے تھا ،مجھے اس خاتون کی بات سن کر خوشی ہوئی ۔

یہ حقیقت ہے کہ بعض اوقات  والدین کو اپنے بچوں کی بہتری کے لئے  قربانی بھی دینی پڑتی ہے یعنی اپنے اپ کو تکلیف میں  رکھ کر بچوں  کی بھلائی کو ترجیح دیتے ہیں۔اسی لیے میرے رب نے  ان کے درجات بھی بلند کئے ہیں ۔

تعلیم

کراچی میٹرک بور ڈنے سالانہ عملی پریکٹیکل امتحانات کا شیڈول جاری کردیا (تعلیم)

کراچی (تعلیم ڈیسک ) ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے اعلامیہ کے مطابق نہم و دہم جماعت سائنس و جنرل گروپ ریگولر کے سالانہ عملی (پریکٹیکل) امتحانات 6جون سے 16

... مزید پڑھیے

بی کام ،بی اے اور بی ایس سی کے ملتوی امتحان کی نئی تاریخوں کااعلان (تعلیم)

کراچی( تعلیم ڈیسک) جامعہ کراچی کے ناظم امتحانات ڈاکٹرسید شاہد ظہیر کے مطابق بی کام ،بی اے اور بی ایس سی کے 23 اپریل

... مزید پڑھیے

میٹرک بورڈ سے الحا ق شدہ اسکولوں کی تجدید کیلئے فارم جمع کرانے کا شیڈول جاری (تعلیم)

کراچی(تعلیم ڈیسک )میٹرک بورڈ سے الحاق شدہ اسکولوں کی تجدیدسال 2024-25 ءاور نئے اسکولوں کے الحاق کیلئے درخواست فارم جمع کرانے کا شیڈول

... مزید پڑھیے

بلاگ

زندگی ماضی، حال اور مستقبل کے آئینے میں (منیبہ عثمان)

منیبہ عثمان

 کائنات ہے آئینہ قدرت کا ہر ذرہ ہے اس میں جلوہ گر

... مزید پڑھیے

 “کوئی بات نہیں  بچہ ہے“ (سلمیٰ نور)

 سلمیٰ نور 

 بچے کہنے کو تو بچے کہلاتے ہیں لیکن یہ بڑے بڑوں کو آگے لگائے رکھنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ بزرگ کہتے ہیں کہ ایک نیانہ سو

... مزید پڑھیے

ہجری سال شروع ہوا چاہتا ہے (ثنا خالد / لاہور)

ثنا خالد /  لاہور

محرم الحرام کے آغاز ہوتے ہی ہم نئے سال میں داخل ہو چکے ہیں۔ نیا سال ہمیں فکرو عمل، کردار سازی، صبح وشام کو غنیمت جاننے اور ہر

... مزید پڑھیے