
لطیف النسا ء
عشق کی ایک جست نے طے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
علامہ اقبال (بال جبریل)
صحیح بات ہےمعاملات اللہ کے سپرد کرنا ہی بہترہوتا ہے کیونکہ ہم خود بھی خود کےساتھ مخلص اتنے نہیں ہوتے جتنا اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ مخلص ہوتا
ہے۔ صابرہ بیگم کی شادی کوتقریباً تیس سال ہو چکےتھے مگر وہ صبر شکر سے اپنے شوہر محسن عالم کے ساتھ ہنسی خوشی رہ رہی تھیں۔ بات بات پر طعنے اور ناگواریاں سہنے والی صابرہ بیگم نےکبھی کچھ برا نہ مانا اورسارے معاملات اللہ کے سپرد کر کےصبر وشکر سےہرطوفان کا مقابلہ کرتی رہیں۔ پھر ایک دن اچانک محسن عالم صاحب نے یہ کہہ کر صابرہ صاحبہ کو طلاق دے دی کہ وہ دوسری شادی کرنے والے ہیں۔اگرچہ انہیں اس پربھی اعتراض نہ تھا مگرآخر کار وہ لرزہ دینے والے الفاظ اداہوہی گئے، جن کو لکھنا بھی توہین سمجھتی ہوں۔
بے چاری صابرہ بیگم نےجیسے تیسےعدت کےدن گزارے اپنےچھوٹے بھائی کے گھراورخاموش ہوگئیں اورپھراس عمرمیں بھی اللہ کی شان!تین لڑکوں کے باپ ہاشم علی کا رشتہ آیا جن کی بیگم کینسر کی وجہ سےانتقال کر چکی تھیں۔ تینوں بچے اسکول سے لے کر کالج اور یونیورسٹی لیول کےتھے۔
صابرہ بیگم نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ ایک نہیں دو نہیں تین بچے پلے پلائے اور شوہر سبحان اللہ!ان کا رواں رواں محبت اور شکر گزاری میں بھر گیا اور شادی کی حامی بھر لی۔ بس پھر کیا تھا ہاشم صاحب سعودی عرب میں کام کرتے تھے۔ مینہ دو مہینہ رہ کرچلےجاتے پیچھے صابرہ صاحبہ بے پناہ محبت اور شفقت سے بچوں کو سگی ماں سے بھی بڑھ کرپالتیں اور یوں زندگی چلتی رہی کہنے کو یہ ایک معمولی بات ہے مگر دیکھا جائےتو یہ حکمت اور دانائی کی بات ہے۔ محبت احترام اوررشتوں کے تقدس کا مقام ہے انسانیت ہے،دونوں طرف کتنی اچھی نیک سوچ اور پاکیزہ جذبہ ہے۔
محسن عالم نے فوراً کسی کنواری سےدوسری شادی رچالی اور اچھی طرح رہنےلگے۔صابرہ صاحبہ نے کبھی اس بات کا گلہ تک نہ کیا نہ ہی کبھی اپنے شوہر کو برا بھلا کہا۔بس اپنی ہی قسمت پر شاکر تھیں ان کا کہنا تھا جب میں یہ جان چکی کہ میں ایمان لائی، اچھی بری تقدیر پرجومن جانب اللہ ہےتو پھر کس بات کا اعتراض؟سبحان اللہ!! کیا اچھا جواب تھا مگر میں سوچتی ہوں زندگی کے تیس سال دن رات اپنے شوہر کی بے لوث خدمت کرتے رہنا اولاد کے نہ ہونے کا شکوہ تک نہ کرنا کتنا بڑا کام ہے۔ اس وقت اُن کے بڑے بیٹے کی شادی ہو چکی ہے جس کے دو بچے ایک بیٹا اورایک بیٹی ہے دوسر ابیٹا ابھی نوکری ڈھونڈ رہا ہے۔ شادی کے لائق ہے اورچھوٹا بیٹا بی کام کے دوسرے سال میں ہے ان آٹھ سال میں صابرہ بیگم کو اپنے صبر کا دنیا میں ہی کیسا اچھا صلہ ملا! سبحان اللہ!محلے والے کہتے ہیں سگی اولادیں بھی اتنا ادب لحاظ اوراحترام اپنی ماں کا نہیں کرتیں جتنا یہ بچے اپنی سوتیلی ماں صابرہ بیگم کا کرتے ہیں بلکہ ان کے شکر گزار ہیں کہ باپ تو سعودیہ میں ہوتے ہیں ماں نے بھی پڑھانے لکھانے اور کردارسنوارنے میں مدد کی۔
ماحول کے گندے اثرات سےانہیں اپنی بے لوث اور بے غرض محبت سے سنبھالے رکھا۔ ہاشم صاحب بھی بہت خوش اورشکر گزارہیں اور بڑا خیال رکھتے ہیں صابرہ بیگم کا اور کہتے ہیں کہ میں تمہارا مشکور ہوں ۔ اللہ رب العزت کے بعد، ورنہ لڑکوں کو دینی ماحول میں تربیت آج کے معاشرے میں جوکہ شیر لانے سے بڑھ کر ہے۔
واقعی میں سوچتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کتنےعظیم اورکتنے کریم ہیں!نا ممکن کو ممکن بنادیتے ہیں چھپڑ پھاڑکر دینے والے!قدردان شوہراورقدردان اولاد کوپا کرصابرہ بیگم ہر وقت سجدے میں گری رہتی ہیں۔ اللہ پاک تمام لوگوں کو نیک ہدایت دے واقعی سچ کہا ہے نیت صاف تو منزل آسان ہوتی ہے ۔
جب ہم خوشیاں ایک دوسرے میں تقسیم کرتے ہیں تووہ دگنی ہو جاتی ہیں مگر جب ہم اپنے غم ایک دوسرے سے شیئرکرتے ہیں تو یقین جانیےوہ ضرب کھا کر کئی گنا کم ہو جاتے ہیں۔ شاعر نےسچ کہا ہے:
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر




















