
لطیف النساء
یاد نہیں آرہا کہ دوچیزوں میں سے اگرایک کا انتخاب کرنا ہو تو کیا بچا ؤں؟ مطلب آخری دوباتیں یہ تھیں کہ اگرتمہیں زندگی اوردولت میں سے کسی ایک چیز
کا انتخاب کرنا ہو تو کیا لو گے؟ ظا ہر ہے زندگی بچائیں گےاور اگر زندگی اور ایمان کا سودا ہو توایک مسلمان کو کیا بچانا ہو گا؟ ظاہر ہے جو صحیح معنوں میں مسلمان ہے،ایمان والا ہےتو وہ زندگی کو ایمان پر قربان کر کے ایمان بچائے گا۔ ظاہر ہے جان سے زیادہ قیمتی ایمان ہوتا ہے۔ یہی حال یہاں ہے بچے نے صحیح کہا کہ دُعاؤں کی ضرورت تو سب کو ہی ہوتی ہے مگر اس وقت واقعی 57 ملکوں کوہی سب سے زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے کیونکہ ان کا تو ہر حال میں ایمان خطرے میں ہے۔
وہ نہتے لوگ اپنے ایمان میں کتنے سچے ہیں کہ جان قربان کرکےاپنے ایمان کا سودااپنے رب سے کر رہے ہیں۔ان شہداء کو اور ان زخمیوں کو وہاں کی سرزمین پر واقع ہربندے کولاکھوں سلام!ان کی جرأت ایمانی پرسلام! ان کی نسلوں کو سلام! دیکھیں نا کیسی کیسی مثالیں سامنے آرہی ہیں۔ مسلسل بمباری نہتے مسلمانوں پر اُن کے پاس نہ اتنا مال ہے نہ ہتھیارمگر وہ کیسے مستحکم ہو کر لڑرہے ہیں۔
کتنے معصوم بچے، کتنے زخمی اور کیسے زخمی؟ اللہ کی پناہ!وہ زخمی بچہ ڈاکٹر سےکہتا ہے کہ بیہوش کرنے والی درد کی دوا ابھی نہیں تو کوئی بات نہیں آپ آپریشن کریں میں قرآن پڑھتا ہوں ۔ جب حضرت علی ؓ نماز کیلئے کھڑے ہوئے اسی وقت ان کے جسم ِ مبارک سےتیرنکال لیا گیا اورآپ کی نماز نہ ٹوٹی۔ گویا ایمان کا وہ لیول آج کے دور میں سبحان اللہ! اس طرح اس نے تلاوت کی اور ڈاکٹر نے آپریشن!پھر ایک جگہ عورتیں رات وضو کر کے عبایا پہن کر یعنی با پردہ ہو کر سونے کی کوشش کرتی ہیں کہ اگر ہم سونے کی حالت میں بم سے اڑائے گئے تو بھی بے پردہ نہ ہوں تو کہیں بچے اپنے ہاتھوں پر اپنے نام لکھ رہے ہیں اورلکھوارہے ہیں بلا خوف وخطر یہ ایمان ہی تو ہے جو انہیں سب کام کروا رہا ہےجی تو واقعی یہ 57 ممالک کیا کر رہے ہیں؟ یہ صرف احتجاج کرکےبیان بازیاں کرکے کیسےاپنے آپ کو بچارہے ہیں یہ سوچیں!ہم کس کے غلام ہیں۔ بندے ہیں۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بے وقعت بے مقصد ہےاگروہ ہزاروں مسلم غیر مسلموں کے احتجاج کونہ مانیں اورتقریباً تین ہفتوں سے جو بموں کی بارش کرکے نسل کشی کررہے ہیں ۔ باقاعدہ منصوبہ کے تحت خون خرابہ کررہے ہیں انھیں نہ روک سکے توایسی تنظیم اور ایسی کمیٹیوں پرامن کا نہیں ظلم اور بربریت کا الزام ہوناچاہئے جو کہیں بھی خون ہوتا دیکھیں اور کچھ نہ کریں۔ وہ بچہ تو چاروں طرف مدفون آبادیوں کی ویرانیوں پر کھڑا ہو کر کہہ رہا ہے کہ ہم تو اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں اور 57 ممالک کے مسلمان،عرب ممالک سب ہمیں صرف دھوکہ دے رہے ہیں!کس نے کس طرح نہ پکاراہوگا۔
معصوم بچے اپنی پریشانی کیسے چھپائیں؟کسے بتائیں؟ اپنے ضمیر سے پوچھیں؟کیا ہم اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں؟اتنی بڑی مسلمانوں کی تعداد ہےنا! ذہن کی بیماری میں مبتلا؟کیا کہوں انتہائی معذرت کےساتھ میں بھی اس میں شامل ہوں۔رب جانتا ہےسب جانتا ہےہمارے لئے یہ الزام بھی درست ہے بلکہ ہماری لئے تو ابھی بھی یہ خبرداری ہے، آگا ہی ہے۔
فلسطینی بچہ کہتا ہے کہ میں تمام فلسطینیوں کوپیغام دیتا ہوں تم اپنی تاریخ پر فخر کرو اپنےحسب و نسب پرفخر کروکیونکہ کوئی پوچھے کہ تم کون ہو تو کہو کہ ہم اسی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں جوعظیم سرزمین ہے۔ انبیاء کی سرزمین ہے۔ نام بنام اس نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ کس طرح ان انبیاء کا تعلق اس مقدس فلسطین سےتھا، عربی زبان اتنا اچھا اثر رکھتی ہے کہ ہر بندہ سمجھ سکتا ہے۔ظاہر ہے اگر کوئی آپ سے کہے ابھی کے ابھی گھر بار چھوڑ جاؤ! تو آپ کہاں جاؤگے؟ کیوں جاؤ گے؟تمہارا گھر ہے،بھلا اس کو بھی کوئی چھوڑکرجاسکتا ہے؟جبکہ میراتوایمان ہے،اس مقد س سرزمین پرمیراحق ہے وہ تواتنے ظالم ہیں کہ انہوں نے ہسپتال تک نہ چھوڑے اورلائنوں میں لگے ہوئے امدادی روٹیاں لینےوالے بچوں، پانی لینے والے مٹھی بھر بچوں تک کوبم سے اڑایا۔
ان کی بزدلی اورانتہائی درجے کی ناکامی ہےکہ تقریباً اٹھارہ ایک ماہ سے ڈھیٹ شیطان بن کرجانوروں سے بدتر سلوک کررہے ہیں ۔ کبھی بم بھی انسانی طاقتوں کیلئےاستعمال کرکے طاقت دکھائی جا سکتی ہے؟ بزدل ہیں یہ مہذب نہیں ظالم جا برباغی جنونی اوردیوانے ہیں۔ اللہ ہی ہم سب کی مدد کرے ہمیں صحیح جذبہ ایمانی اورہدایت دے کہ ہم اور ہماری زندگیاں اپنےاُن مسلمانوں کیلئے وقف کرجائیں اللہ تو کریم ہے لیکن بندوں کی اپنی کوشش!مگر یاد رکھیں!اللہ خبیر ہے علیم ہے۔





































