
لطیف النساء
ہےدل کیلئے موت مشینوں کی زندگی
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
مادی دنیا اتنی ترقی کرگئی ہےکہ ہر بندہ اس کامحتاج بن کررہ گیا ہے۔پھر بھی اسے چین نہیں دیکھیےنا فلسطینی مسلمانوں کا حال! کیسے مقبوضہ علاقوں پر بمباری اورمسلسل بمباری، پھر خوراک، بجلی پانی کی بندش، لگتا ہےمغربی ممالک نے بھی اسرائیلی حمایت کو اپنا معمول بنا لیا ہےاور پوری امت مسلمہ کا بدلہ صرف فسلطینیوں سےلیا جارہا ہے اوراور انہیں نشانہ بنانے کے درپہ ہے، جبکہ امت مسلمہ اور پورے مشرقی عرب ممالک اپنی اتحادی قوت نہیں دکھا رہے اورنہ ہی کوئی عملی اقدامات کررہے ہیں جنکی فوری ضرورت ہےکیونکہ ہم نے اپنے فرائض ہی بھلا دیئے ہیں۔
آپؐ نے فرمایا! اے لوگو تم ہمیشہ فرائض سیکھ لواورلوگوں کوسکھاؤ میں تم میں ہمیشہ نہیں رہوں گا۔ وقت بہت قریب ہے کہ وحی کا دروازہ بند ہو جائے گا اورعلم معدوم ہوجائے گا۔ وہ زمانہ قریب آئےگا کہ دو آدمی ایک ضروری مسئلے پرجھگڑتے ہوں گے اورکوئی فیصلہ کرنے والا نہ ملے گا (المستدرک للحاکم)
دیکھ لیجئے آج گھرگھر کی یہی کہانی ہے اور پھر تمام مسلمانوں، ان کے سارے حکمران اور افواجی قوتیں!کیسے مظلوموں نہتےفلسطینیوں کو بے یار و مددگار چھوڑے بیٹھے ہیں؟ اگر ذرا بھی احساس باقی ہو کہ احساس کا مرجانا موت سےبھی بڑا ہےتو کھل کر آگےبڑھیں ظالم کا ہا تھ توڑیں اوراپنے نہتے مسلمانوں کی دل دماغ کھول کرمدد کریں اورہر قسم کی دہشت گردی سے روکیں۔ یہ تو اب سب پر فرض عین ہے۔
اب توانتہا ہی ہوگئی ایٹم بم سے بھی بڑھ کر تباہی اتنے دنوں سے! ایٹم بم سے تو بیک وقت لاکھوں کوموت کی نیند سلایا تھا۔ یہ توظلم کی انتہا ہے!مسلسل بم باری، خوراک رسد بند اور دادا گیری کس لئے؟ کس نے اتنے اختیارات دیئے ہیں؟ کیسے یہ نسل کشی کرسکتے ہیں؟ سارے کیا مسلم کیا غیر مسلم سب تماشائی بنے ہوئے صرف بیانات دےرہے ہیں۔ خدارا اس ظلم کو بند کرو۔ واقعی آپ لوگوں کو کیا ڈرہے؟ ذرابھی احساسِ انسانیت باقی نہیں؟ مغربی دنیا کےعالمی ادارے توکتے کوریسکیو کرنے پرجانیں لڑا دیتے ہیں تواب کیا کر رہے ہیں؟ کھل کرسامنے آئیں نا؟ ہم تو جانوروں کو بِلکتا نہیں دیکھ سکتے!اللہ پاک ان معصوم بچوں کو غائبانہ طور پرآسمان پرعارضی طور پرفلسطین کی سر زمین سےاٹھا لے۔
ان کو ظالموں کےچنگل سے بچالے۔عورتوں مردوں کی حفاظت فرما۔اللہ پاک مسلمانوں کوجذبہ ایمانی دے۔ شوق شہادت دے ۔ ہم دعائیں تو مانگتے ہیں عمل کہاں گئے؟ میڈیا تو سویاپڑا ہے۔ ہر روزہرلمحہ صرف اذانیں سنائے،دیکھائے، آیت کریمہ سنائے۔ اتنا سنائے کہ ہر بندے کو شعوری طورپرازبرہوجائے اور سارے انسانوں کے اند راللہ کی کبریائی ازبر ہوجائے اور ان کے دل نرم ہو جائیں۔ سجدے اوردعائیں دکھائیں احساس شکرگزاری کی لجاہت کے ساتھ،یہی طریقہ ہے اللہ کو راضی کرنے کا۔ بلا ؤں کو ٹالنے کا اور ساتھ ساتھ اپنے وسائل خلوص سےمکمل طور پرادا کریں۔ جنگ بندی کیلئے حکمت عملی سے متاثر فسلطینیوں کیلئے امت مسلمہ مدد گار بنے،سمجھیں ضروریات زندگی کی بندش کتنا بڑا ظلم ہے؟وہاں تولمحوں میں چراغ بجھ رہے ہیں!زخمی بھوکے پیا سے فریاد کر رہے ہیں! اخدارا انسانیت کا احساس جگائیں، گمراہی مٹائیں، حکمت سے اپنےفرائض منصبی اورفرائض زندگی ادا کریں:
سانسوں کے سلسلے کو نہ دو زندگی کا نام
جینے کے باوجود بھی مرجاتے ہیں کچھ لوگ
سوچیں!ہم تو ہر لمحہ مجرم بنتے جارہے ہیں۔ اسی دن کیا کرو گے؟ جو دورنہیں کہا جائے گااےمجرموں! الگ ہوجاؤ جب زندگی کہاں سےلاؤ گے؟ اللہ کی راہ پرچلنےکیلئےقربانی دینی پڑتی ہےپسندیدہ چیزوں کی اوراپنی خواہشات کی۔ یہ سب کون کرتا ہے؟ جو اس دنیا کو فانی سمجھتا ہے! پھر وہ اللہ سے مانگتا ہے اوراس کی خاطر ہرشے قربان کر دیتا ہے، پھرجا کے اللہ کو پا لیتا ہے اور معلوم ہے جو اللہ کو پا لیتاہےوہ کچھ سوچ رہاہوتا ہےتو لب پر آنے سے پہلے ہی اس اللہ کو پانے والےکیلئے اللہ کُن کہہ دیتا ہےاورجنہیں اللہ مل جائے پھرانہیں کسی اور چیز کی طلب نہیں رہتی!۔
سبحان اللہ!اَللّٰہُم صلِّ عَلٰی مُحَمَّد۔ زندگی ایک بار ملتی ہے اس کو کیوں نہ اچھائی،سچائی اورحق کی راہ میں لگادیں؟ دنیا کی کامیابی کچھ نہیں! اصل کامیابی تو آخرت کی ہے! اللہ ہمیں آخرت کی کامیابی نصیب فرمائے۔آمین۔ یاد رکھیں ظلم کی سزا ایک فطری حقیقت ہےجبکہ آخرت کا انصاف عقل کا واضح تقاضا ہے۔





































