
لطیف النساء
گویا جس کےدل میں ایمان ہوگا وہ نہ باطل کےتسلط پرراضی ہو سکتا ہے اور نہ نظامِ حق کےقیام کی جدوجہد میں جان و مال سےدریغ کرسکتا
ہے۔ تو تمام اہل ایمان اپنے آپ کو چیک کریں جو بھی اس معاملے میں کمزوری دیکھائے توجان لیں کہ اس کا ایمان مشتبہ ہے۔
کتنی ہی خطرناک بات ہے! اللہ کی پناہ! پھر بھلا کوئی دوسراعمل اسے کیا فائدہ دے سکتا ہے؟ظاہرہےقرآن اسی جہاد کوتوکسوٹی قراردیتا ہے۔جب ہی تواسلام کے نقطہ نظر سےقیامِ امن کیلئے ضروری ہےکہ امامتِ صالح کا قیام ہی مرکز ی اورمقصدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
ایمان کا یعنی ہمارےمسلمان ہونےکا تقاضہ یہی ہے کہ اپنی تمام سعی وجہد کواس مقصد پررکھےکہ زمامِ کارکفاروفاسق کے ہاتھ سے نکل کر ہرلمحہ صالحین کے ہاتھ میں ہی ہو۔ اجتماعی اور انفرادی کوششیں کرتارہے۔ چاہےاکیلا کھڑا ہوکر لوگوں کو پکارتے پکارتے مرجائےمگر ان راہوں پر نہ چلے جن پر کفار کی امامت میں دنیا چل رہی ہو۔واقعی یہی تو دین کا تقاضہ ہے اور کتاب الٰہی کا مطالبہ بھی۔
مسلم دنیا ماشااللہ ہےمگر منتشر ہے،اسےاس مقصد کیلئےجلد ازجلد منظم ہونے کی ضرورت ہےآج کفرتومنظم ہےاوراپنی طاقت دکھا رہا ہے،جبکہ مسلم دنیا اتنی بڑی تعداد رکھنےکے باوجود ضعف الایمانی کی وجہ سےبداعمالیوں اور فعال نہ ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ مارکھا رہی ہے، گویا منتشر ہے۔ ہم کہتے تو ہیں کرتے نہیں،اس لئے جگہ جگہ منہ کی کھاتے ہیں۔اس وقت تو منظم ہونےکی ضرورت ہے، مسلم اقوام کااتحاد اوراخوت کفارکو دیکھانے کی ضرورت ہے، ابھی بھی اگرمسلم عوام ان کے حکمران سوتےرہےتوتف ہے اُن کی حکمرانی پر! اپنے مسلم بھائیوں کی بے کسوں اوربے بسوں کی دل و جان سے مدد نہ کی تو زندگی بیکار ہے۔
فلسطینی بموں سےلڑرہے ہیں۔ یہ توہیروشیما ناگاسا کی سےبھی بڑھ کر درندگی ہے،ذلالت ہے۔ انسانی آبادیوں کو یوں محصور کرکے ناکہ بندی کر کے، بنابجلی، پانی خوراک ان پر بم برسانااوردرندگی دکھانا جرمِ عظیم،گناہ کبیرہ، انسانیت کاقتل،کوئی برےسے برانام نہ ملے گا،جوان بزدلوں کیلئے استعمال کیا جائے!یہ ترقی نہیں یہ تو انسانیت کی موت ہے۔ ذلالت کا عروج اوردرندگی ہے۔ انسانی حقوق کی بات کرنے والوں کے منہ پرتما نچہ ہے،جو تماشائی بنےہیں یا بن رہے ہیں ،انہیں میرا رب پوچھے گا۔
وہ تو بڑا قدردان ہے تمہاری نیت پرصلہ دینے والا! کیا تم اپنے ضمیرکےآگے بھی جواب دہ نہیں ہو؟اے مسلمانوں! اےامت مسلمہ!اٹھواس کڑےوقت کا حساب دو،ہرلیول پران مظلوموں کی مدد کرو،ظالم کوروکو، ان کا ہاتھ مروڑو، ان پربھی بمباری کرو۔پاکستانی فوج!دنیامیں مشہورہےتو آج کیوں نہیں کچھ کرتی؟ ایٹمی طاقت کیا صرف نام کی ہے؟ کب جاگو گے؟ امی کہتی تھیں کہ جئے تو جلائے مرے تو پلائے یعنی زندگی میں ہر وقت تنگ کرتے رہے،جلاتے رہے مرنے پر رونا دھونا اور دیکھا وا! یہ بھی غداری ہے! یاد رکھیں وقت جب بدلتا ہےتو اپنی اوقات بتا دیتا ہے۔
وقت پر گربات نہ مانی تم نے وقت کی
وقت پھر وقت نہ دیگا تمہیں پچھتانے کا
دوڑو کہ زمانہ چال قیامت کی چل گیا جو ملک آگے بڑھ رہے ہیں جو سعودی عرب، ایران،اردن اور پاکستان آگے سرک رہا ہے،ان کو مبارک ہو مگر دوڑو اور ظلم کو رکو اؤ!ورنہ یہ آگ ہمیں بھی لپیٹ میں نہ لے لے۔ اس سے بڑھ کر ہمیں اپنے رب کو فلسطینی مظلوموں کو ضرورروز قیامت منہ دکھانا ہے۔ چھپانے کا موقع جب نہ ہوگا۔ اللہ ہم سب کی مدد فرمائے۔آمین





































