
لطیف النساء
اللہ تعالیٰ کی شان ہے کیا کیا رنگ دیکھاتا ہے اور کیسی کیسی کہانیاں جنم لیتی ہیں؟ اسباق دیتی ہیں اوربندے پھر بھی لاپروا، شیطان کے ہاتھ
چڑھے ہوئے. انسانیت کا دم بھرنے والے۔ امن کے خواہاں، کیسے امن کی دھجیاں اڑا رہے ہیں؟ کیسے دل ہیں ان کے،کیسے ضمیر ہیں ان کے؟بچے معصوم، عو رتیں، ضعیف،بیمار، لاچار، گھر بازار دکان مکان تو کیا، ہسپتال تک نہ چھوڑے ،بمباری اللہ کی پناہ! مگرحق تو پھرحق ہے نا،حق کی خاطر لڑنے والوں کو تو ایمان وہ قوت عطا کردیتا ہے کہ کوئی توپ گولی بم اس کے آگے بیکارہیں! دیکھتی آنکھوں سُنتے کانوں کو جو سنائی دیتا ہے، دیکھائی دیتا ہے وہ اور ہے مگر دل جگرارکھنے والے یہ لوگ حق کیلئےجان دینے کی کیسی تیاری؟ کیسا رب کی رحمت پر بھروسہ؟ کتنا ایمان بڑھاتا ہے۔فسلطین کی رہنے والی عورتوں کو سلام، لڑکیوں کو سلام، ایک لڑکی کہتی ہے کہ میں اور میرے ساتھ کی تمام عورتیں رات کو پردہ کرکے سوتی ہیں۔ حشر دیکھ چکی ہوں گی۔ پردہ کرکےاس لیے سوتی ہیں تاکہ اگران ظالموں کی بمباری سےرات سوتے وقت شہید ہوجائیں تو ہماری لاشیں بھی بےپردہ نہ ہوں اور انہیں ہماری بے پردہ لاشیں بھی نہ ملیں۔ سبحان اللہ! یہ ہوتا ہے عزم اور یہ ہوتا ہے حوصلہ،حفاظت،حیا،پردہ۔ میں سوچتی ہوں ہم کہاں کھڑے ہیں؟ہماری تو شادی بیاہ کی تقریبات ہی ہم سب کو مجرم بنارہی ہیں۔
اللہ ہمیں معاف کرے اور حیا کا شعوردے کہ عملی زندگی میں اپنائیں۔آمین۔ کوئی واقعی اُن سےسیکھے!کیسے اپنے شہدا ء پرایک شخص زور زور سے کہہ رہا ہے کہ اللہ ہم سب پر رحم کرے۔ رونا بند کریں،مرد رویا نہیں کرتے ہم سب شہید ہو جائیں گے۔ اللہ مجھے اس کی وصیت کے بدلے اچھا اجردے اور زیادہ اچھی خیر عطا فرمائے۔ ا
یسانہیں ہوگا ہمیں اورزیادہ حوصلہ مند ہونا ہےیہ جہاد کی سرزمین ہے اور ہم سب کو جہاد کرنا ہے۔ یہ جانیں تو رب کیلئے قربان ہیں۔کل ہم آپ میں سے کسی کی بھی جان جاسکتی ہے۔ اللہ سے ملاقات کا اس سے اچھا موقع اور کیا ہو گا؟ اگر ہم ایسا سوچیں گے تو ہی اس زندگی کی اہمیت اور افادیت باقی رہے گی کیونکہ ہر چیزاللہ کی طرف سے ہے اوراسی کو لوٹائی جائےگی۔ سبحان اللہ، کیسے کیسے مناظر! شہداء کے زخمی جسم، مسکراتا چہرہ، زخمی بچے، عورتیں، اجتماعی تدقین کے مراحل!یہ سب حقیقت ہے۔ ہزاروں میل بیٹھے لوگ اور سر عام ہی لوگ دیکھ رہے ہیں مگر کیا؟ انسانیت کہاں ہے؟
وہ روتا بلکتا بچہ رب سے ہماری فریاد کریگا!ہم اب بھی غیرت نہ پکڑیں گے؟کیااب بھی عمل کاوقت نہیں؟اہل مسلمان کہاں ہیں؟؟ شاباش ہے قطر پر، جرأت دیکھائی کہ ہم بھی آپ کی گیس اورتیل بند کردیں گے! کم از کم اتنا تو کہا۔ باقی غلام ذہنیت کے لوگوں کی بے حسی کا کوئی علاج نہیں مگر ایک بات ہے احساس کا مر جانا موت ہے تو مجھے بڑی تکلیف ہے۔ اس بات سے کہ لوگ کیوں بے حس اور بے ضمیربنے ہیں، کردار دکھانے اورزندگی کا امتحان پاس کرنے کیلئے قربانی تو دینی ہوگی۔
ہر قسم کی قربانی، حق کی خاطر،ایمان کی خاطرغیرمسلم اسرائیلیوں کے خلاف اپنےفلسطینی لوگوں کیلئے!کیا ہمیں نہیں مرنا؟ رب کو کیا جواب دینگے؟ ہر قیمت پر مسلم اتحاد کو یقینی بنائیں اور تمام اسلامی ممالک اتحادی طاقت دیکھا تے ہوئےامن کیلئے اقدامات کریں۔ حکومتی سطح پر اپنا رول نبھائیں اور ان مٹھی بھر اسرائیلیوں سے نہ ڈریں۔ مظلوم کا ساتھ دیں۔اللہ ہم سب کا حافظ و ناصر ہے۔





































