
لطیف النساء
ہر مسلمان فلسطین کا سپورٹر ہےاوراسے ہونا بھی چاہیے، دنیا میں کتنے برے حالات ہوتےجارہے ہیں کہ انسانیت مرتی جا رہی ہے۔ امن عامہ کی
بین الاقوامی تنظیمیں اور اقوام متحدہ کے ادارے لگتا ہےبالکل ہی بے بس ہیں کہ پچھلے چھ سات دنوں سےظالم اسرائیلی اور ان کے نام نہاد حمایتی کتنی غیراخلاقی اورغیرمہذب ظالمانہ حرکات کر کے فلسطینیوں کا قتل عام کررہےہیں اورلگتا ہے، باقی انسانی حقوق کے عالمی ادارے جنگ رکوانے،بمباری رکوانے پردباؤڈ النےکے بجائے صرف تماشائی بنےہوئے ہیں!کتنے دکھ کی بات ہے کہ زبر دستی قبضہ کرکے نہتے،بے بس عورتوں بچوں مردوں پر دادا گیری سے ہروقت ہرجگہ بمباری کر رہے ہیں۔ انٹرنیٹ بند کر کےبجلی، پانی،خوراک کی رسد بند کرکےظلم تشدد اوربربریت کا بازارعام گرم کیا ہواہےاوردنیا کی نظروں میں ہیروبنے ہوئے ہیں!
ارے یہ تو خود ضمیر کےمردہ اوراحساس سےعاری لوگ کیا کسی کا درد سمجھیں گے؟ مگرہمارے مسلمان ممالک! اوران کے لوگ کیوں اپنی سرگرمیاں تیز نہیں کرتے؟ مسلمانوں پرکفار، یہو د ظلم و ستم کے پہاڑ توڑیں،رات دن انہیں پریشانیوں اور مصیبتوں میں مبتلا کریں قتل عام کریں تو کیا ہم دیکھتے رہیں؟ ۔ وقت پراگر ہم نے ان کا ساتھ نہ دیا اور ان کمزور لاغر مسلمانوں کوان کےظلم وستم کا تختہ مشق بنتے ہوئے چھوڑدیا تو ہم سے بڑا ظالم بھی کوئی نہیں۔ اپنا اپنا کرداردیکھیں جو بس میں ہو کریں، مال،اسباب دعائیں، تحریکیں، مظاہرے،احتجاج، بائیکاٹ جو بھی ممکن ہو کریں اور کسی نہ کسی طرح جنگ کو رکوائیں۔
یقین مانیں آپ کا دیاہوا مال آپ کا جذبہ، دعائیں اپنے فلسطینی بھائیوں کیلئے، آپ کی مخلص نیت خرت میں بہت بڑا اجر بنے گا اور اس دنیا میں بھی ان شاء اللہ ہمیں سرخرو کرے گا۔ ایمان تو بہت پھیلا ہوا ہے لوگ ہر جگہ سے حقوق وفرائض سمجھ سکتے ہیں۔ دین سیکھ سکتےہیں مگراصل چیز تو عمل ہے عمل بِنا دینی علم بے معنی ہے اور اس کا کوئی فائدہ نہیں!۔ الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں بنیان مرصوس کی مانند کیوں نہیں ہو کر دیکھاتے؟ ہمیں ہونا ہی ہے، یہ ہمارا مشن ہے کہ فلسطین کی صورت حال پران سے ہمدردری اور اظہار یکجہتی کے حوالے سے مسلم ممالک اکٹھے ہو کر کوئی لائحہ عمل جلد از جلد بنائے اور مزید جانی مالی نقصان سے اپنوں کو بچائیں۔
امن کے قیام میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایسےعالمگیرریکا رڈ بنائیں کہ کسی ظالم کو آئندہ جرأت نہ ہو ظلم کرنے کی۔ عالمی سطح پر دنیا کو قابض اسرائیلی افواج اور ان کے گھناؤنےمظالم سے آگاہ کریں۔ ان کی پراڈکٹ کا مشترکہ بائیکاٹ کریں ۔ اس طرح کا ایک خاموش جہاد انہیں ضرورخبر دارکریگا۔ پھرفنڈنگ اورریلیاں بھی نکالیں۔ دعائیں کریں، شکر الحمدللہ سعودی عرب کے سربراہ اور ترکی کے صدر قابل فخر ہیں جو اپنی خدمات پیش کررہے ہیں۔وقت پرہی کام آنا فائدہ دیتا ہے، ورنہ تو لفاظی زہرِ قاتل ہوتی ہے مزید دکھ کا باعث! اللہ نہ کرے جب مجبوروں کو چن چن کر مارا جا رہا تھا اور فلسطینی بھائی اپنے مجبور، بے کس بے بس اپنے پیاروں کو دفنا رہےتھے تو بھی دنیا تماشائی بنی ہوئی تھی لیکن دیرینہ ظالم!ظلم آخرظلم ہے! پوری دنیا کشمیری اورفلسطینی باشندوں کیلئے چپ سادھےہوئے تھی۔
شاباش ہے فلسطینی بھائیوں کی ہمت اوراستقامت پر،سلام ہےان کی ۔جرأت پر کیونکہ انہوں نے پوری مسلم امت کوجھنجوڑدیا اورظلم اور بربریت کے خلاف آزادی کی ایک نئی روح پھونک دی ہے،کیونکہ واقعی لگتا ہےوہ یعنی اخوان المسلمون اورحماس اپنا فرضِ کفایہ سمجھ کر پوری امت کا قرض اتاررہے ہیں۔ قربانیاں دیتے جارہے ہیں اور ہرظلم کے آگے ڈٹے ہیں۔ سعودی عرب، پاکستان، ترکی اور دیگراہلِ دل امت کے مسلمان ممالک صاف کہہ رہے ہیں کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ ہمیشہ کھڑے ہیں۔ وہ یقیناً عالمی علاقائی فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور جنگ اور کشیدگی کوروکنے کی پوری کوششیں کر رہے ہیں۔ تمام عالمی قوتوں کو چاہئے کہ وہ قیامِ امن کی بات کریں اورتحمل سے کام لیتے ہوئے صرف اس خطے میں ہی نہیں بلکہ تمام تر تنازعے والی جگہوں پر امن کے قیام کو بات چیت سے یقینی بنا کراپنا کردار نبھائیں اور انسانیت کی تذلیل نہ کریں۔ یاد رکھیں جب ہم خوشیاں بانٹتے ہیں توخوشیاں دگنی ہوجاتی ہیں لیکن جب غم بانٹتے ہیں تویہ ضرب کھا کرکئی گناخوشیوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور ہم سب کیلئے یہ خطہ زمین سکھ چین اور امن کا گہوارا بن جاتا ہے۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ آمین





































