
لطیف النساء
برسوں سےاسرائیلی کیسے ظلم پر ظلم کیے جا رہے ہیں۔ نہتے مسلمانوں پر اور اُن کی پشت پناہی بھی ایسے ممالک کو حاصل ہے جو ترقی یا فتہ
اور ایڈوانس ممالک کہلاتے ہیں لیکن دراصل یہ مسلمان ہی ہیں الحمد اللہ صبر کئے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنا فرمانبردار بنا لے تاکہ ہم فلسطینی مٹھی بھر لوگ بھی حواری ثابت ہوں۔ اسلام تو ہمیں کتنے اچھے اسباق سیکھا تا ہے کہ حالتِ جنگ میں بھی کسی پر ظلم نہ کریں نہ کھڑی فصلوں کو تباہ کریں اور نہ عورتوں اور بچوں کو نقصان پہنچا ئیں۔ بزرگوں اورمفلس حال لوگوں کی مدد کریں کہ یہی تو اصل انسانیت ہے کل مخلوق اللہ کا کنبہ ہےاور اسی حیثیت سے ہی ہم ایک دوسرے کی جان کی حفاظت کرتے ہیں اور کرنی بھی چاہئے۔
جان کی حفاظت تو الگ بات ایک دوسرے کا دل تک نہ دکھا ئیں!کیوں؟ کیونکہ دنیا کا امن اِسی صورت میں ہے۔کسی صورت ممکن نہیں کہ آپ کسی پر ظلم کریں۔اللہ کی خاطر جب ہم کام کرتے ہیں تو ہمارے اندرایک الہا می قوت ہوتی ہے جو ہمیں مضبوط توانا اور متحرک رکھتی ہے۔
آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ کس طرح اسرائیل میں ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد غزہ سے راکٹ داغے جارہے ہیں چند منٹوں میں مجاہدین اسرائیلی بستیوں میں گھوم رہے ہیں۔ اللہ اکبر کی صدا بلند کرتے یہ فلسطینی ہیروزکس طرح اسرائیل میں داخل ہو کر اُن کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اللہ پاک انہیں خاص رُشد عطا فرمائیں ایسی طاقت دے جو ظالموں کو زیر کردے۔ شاباش آپ نے اسرائیل کا مرکاوا ٹینک غزہ کی سرحد پر تباہ کردیا۔ دواسرائیلی فوجیوں کو پکڑااور کئی کے مارے جانے کی اطلاعات ملی ہیں۔
اللہ کا شکر ہے جبکہ بیرونی دنیا سے اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کارابطہ بند کیا ہوا ہے۔ایک وہ دور بھی تھا جب تیس چالیس سال پہلے ہمارے فسلطینی بھائی اپنے بچپن اور جوانی میں بھی ان ناپاک اندھے ظالم اسرائیلیوں کو اپنی غلیلوں سے مارتے حملہ کرتے تھے لیکن آج وہ وقت نہیں رہا کیونکہ:
رنج کا خوگر ہو اانساں تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں
والی بات ہے۔ یہ اللہ ہی کی محبت ہے جو چند اسلامی ممالک کسی نہ کسی طرح انکا ساتھ دے رہےہیں۔ ظاہر ہے ہمارا نظریہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔ اسی لئے تو ساری عالمی طاقتیں جس کی مدد کر رہی ہوں اور یہ چند مٹھی بھر فلسطینی کیسے صبر سے اپنا دفاع کر رہے ہیں؟
میڈیا کی طاقت بھی ان سے چھین کرسمجھتے ہیں کہ وہ ظالم ہیرو ہیں اللہ ان کی اس طاقت کو بھی چھین لے گا۔ ہم جب مستقل اپنے فلسطیینیوں کیلئے کسی نہ کسی طرح فیس بک،انسٹا گرام اور اپنے ایک الگ میڈیا کو متحرک نہ کریں گے اور ہم فیس بک اور واٹس ایپ کو ہی لے کر اپنے مسلمان ہونے کا حق نبھا سکتے ہیں۔ اللہ انہیں اتنی قوت ایمانی دے کہ وہ چپے چپے پر کھل کر اللہ کی کبریائی کا اعلان اذان کے ذریعے دیں۔ اطلاع یہ بھی آئی ہے کہ کچھ اسرائیلی کمانڈوز کو گرفتا ر کیا گیا ہے۔ سبحان اللہ کس طرح غزہ شہر پر سرعام بمباری کرکے بچ جائیں گے؟ بلڈینگوں پر کئی حملے کر کے اسرائیل سوائے تباہی کے کچھ نہیں حاصل کر سکتا۔
مسلمانوں کو اس وقت یکجہتی اور اپنی قوت دیکھانے کی ضرورت ہے پرجگہ ہر طرف ہر طرح سے انکی مدد کریں، ان کے لئے دُعائیں کریں۔ وقت پر ہی کمر بستہ نہ ہوئے تو آپ کے مسلمان ہونے کا کیا فائدہ اب تو وقت ہے کھل کر اس اسلام دشمنی کے خلاف ڈٹ جائیں ہر لیول پر ہر میدان سے ان کی مدد کی جائے۔ 57 ممالک کیوں اپنے بھائیوں کو نہتا چھوڑ سکتے ہیں۔
وہ فلسطینی بھائی کس طرح آپکے تعاون کے منتظر ہیں۔ان کا حُسن سلوک دیکھیں جواسرائیلی عورتوں اور بچوں کو کیسے تحفظ اور احترام دے رہے ہیں جو انسانیت ہے۔ اسلام کا شعار ہے لیکن باقی ہم سب لوگ!شکر اللہ کا کہ ان فلسطینیوں کے حق میں اپنا احتجاج دیکھانے جمع ہورہے ہیں۔ پوری جد وجہد اور پوری محنت تمام عالم اسلام سے درکار ہے کیونکہ ہر بندہ مسلم با ضمیر ہوتا ہے۔ فلسطینیوں کی زمین پر ناجائز طریقے سے قبضہ کرکے اسرائیل کیسے خوشی رہ سکتا ہے۔
مسلمانوں ایک دوسرے پر ظلم کرنا چھوڑ دیں خود اپنے ملک میں بھی ناجائز قبضےچوری چکاری، ڈاکہ، لوٹ کھسوٹ اور بےحیائی فحاشی عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہیں اور ہم ڈنکے کی چوٹ پر یہ کرتے جارہے ہیں۔ اپنے ہی مسلمان بھائی اپنے ہی بھائیوں کا استحصال کر کے انہیں تکلیف دے رہے ہیں اور ایک دوسرے کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ہمیں اب بھی سدھرنے سنورنے اور دین کے نفاذ کیلئے کل امت مسلمہ کے امن کیلئے اپنے کردار سدھارنے ہوں گے۔
سجدہ شکرادا کرناہوگا اور ایک نئے ایمانی جہد سے ظالم کو زیرکرنا ہوگا۔ اب یہ تو فرضِ عین ہے۔ زندگی مختصر صرف ایک ہی بار ملتی ہے تو کیوں نہ اسے جائز مقصد کیلئے استعمال کریں! احترامِ انسانیت ہی ہمارا شعار ہونا چاہئے۔ کردار کی جیت دنیا کی جیت بن سکتی ہے بشرطیکہ صبر شکر کے ساتھ مخلص ہو کر ظالم قوتوں کے آگے ہر جگہ ڈٹ جائیں! نتیجہ اللہ کے ہاتھ ہے۔





































