
لطیف النساء
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ اس حیثیت سے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے دکھ درد تکلیف اورمشکلات میں
اس کا احساس کرنا اس کی تکلیف کو محسوس کرنا اور اس کا درد دُورکرنےکی ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔ صرف زبانی نہیں، تحریری نہیں اپنے پورے نیک سچے اوراچھے جذ بے کے ساتھ پرخلوص ہو کرکیو نکہ کہتے ہیں کہ ایک جسم کے مختلف اعضاء کیسے ایک دوسرے سے مربوط ہوتے ہیں اورکسی بھی حصے یا عضو کی تکلیف برداشت نہیں کرپاتےمثلاً:
مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
مسلمان کی مثال بھی ایسی ہی ہونی چاہئے۔مسلمان کہیں بھی ہو دنیا کےکسی بھی مقام پرتکلیف میں ہوپوری دنیا کے مسلمانوں کو اس کا احساس ہونا چاہئے اوراس کی تکلیف رفع کرنے میں اپنی ہرممکن کوشش کرنی چاہئے۔ دنیا کتنی ظالم ہے اورخود ہم مسلمان کتنے بےحس ہوگئےہیں،کیسے بمباری کی جارہی ہے، ان بے بس اوربے کس مسلمانوں پر یہ نو آبادیاتی دشمن اسرائیل اوراس کےحمایتی! اللہ کی پناہ! ان کی تواپنی کوئی بستیاں نہیں۔ وہ تو گھس بیٹھیے ہیں۔
تربیت لے کر آئے ہوئے ظلم کرنےکی اوراس سے بھی آگے جدید ٹیکنا لوجی سے لیس میزائل اور فضائی بمباری وہ بھی اسکولوں، گھروں، مساجد اوراسپتالوں تک کو نہیں چھوڑ رہے۔ کھلی آبادیوں پربمباری کرنا، خوراک کی رسد بندکرنا، بجلی، گیس اور دیگرالیکٹرانک میڈیا کو ختم کرکےدُورسےبمباری کر نا کتنی بڑی مکاری اور ذلالت ہے؟
اقوام متحدہ کی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی،خوراک کی رسد بند کرکے،بحران پیدا کرکےمزید تکالیف دینا انسانوں کا کام ہوہی نہیں سکتا؟یہ کیسے درندے ہیں؟ اسرائیلی توخیرغیرمسلم ہیں۔ ہمارے اپنےبھائی بندوں اوردنیا کے 57 ملکوں کےمسلمانوں میں بھی وہ اخوت کا جذبہ کیوں جوش نہیں ماررہا؟ کہ اس جنگ کو رکوائیں، ظالم کا ہاتھ توڑیں۔ عالمی امنِ عامہ کی تنظیموں کو جھنجوڑیں اورخود اپنےآپ کو بھی صحیح معنوں میں اُن کی پوری مدد کیلئےکھولیں، جب جہاں جس چیز کی ضرورت ہےپوری قوت سے پہچاننے کی پوری کوشش کریں ۔ کیارب نہیں دیکھ رہا؟ اتنی جانیں رُل رہی ہیں۔ اتنے معصوم بچے،عورتیں بےکس اور بے بس بھوکےپیاسے، بے گھر،بےآسرا اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
دودھ کی بوتل اٹھائےبچہ بھی پتھرلئےغصے کا اظہار کررہا ہے! ہمیں کیوں درد نہیں؟ ٹی وی دیکھو،میڈیا دیکھو وہی ناچ گانےاوربے تکی سیاست اورمیچ! ارے کوئی غم ہے! میڈیا کو تو سوگ دیکھانا چاہئے۔اپنی برہمی، اپنا غم اوراپنا مقصد جتانا چاہئے۔ ان کی مدد کیلئے لوگوں کو تیار کروانے کا وقت ہے۔ کیسے بھی ہو ، کسی بھی لیول پرہو ، مال اور اشیاء سےجانی اورخیر سگالی وفود بھیج کر،میڈیا پہ ظلم کےخلاف تہلکہ مچا کرعالمی طاقتوں کو خبردار کرنا چاہئے کہ ظلم بند کروورنہ خود تباہ ہوجاؤ گے۔ جنگ سے تو صرف نقصان ہی ہوتا ہے۔ اس کی نوبت نہیں آنی چاہئے۔
ایک ذراسا زخم بھرتے کتنا وقت لگتا ہے؟ اس طرح بمباری، تباہی بربادی انسانیت کی کھلی خلاف ورزی بربریت نہیں تو اور کیا ہے؟ دوسروں کا حق مارنا اورمارتے ہی رہنا ظلم ہے۔جانور بھی نہیں چھوڑتا۔پکا سچامومن تو خودبم بن کرتمھیں اڑا دے گا۔ ساتھیو! اللہ کی مدد چاہوشروع سےآخر تک وہی کارساز ہستی ہے ۔ اتناتو ہرمسلمان کا حق ہے۔
ہم خرافات میں پڑے ہیں!کیسے ہماری دعائیں قبول ہوں گی؟ذراجائزہ لیں! ہم تواپنے ہی ملک میں ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ پانی، بجلی، گیس بند کر کے،مہنگائی اور ناجائز تجاوزات کرکے، گھیرگھاٹ کردادا گیری سے دوسروں کا حق مارے جارہے ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کیسی پولیس، کیسی رینجرز سب کے ہوتے ہوئے سب کچھ دھڑلے سےہو رہا ہے۔
یہی تو ہماری غفلت ہے۔مادرزمین جگہ جگہ سےتڑپ تڑپ کرزلزلےکی جھلکیاں دیکھا کرخبردارکررہی ہےلیکن ہم ہیں کہ سوئے ہوئے ہیں۔ کیا نہیں پڑھا حضرت لقمان ؑنے کیا وصیت کی تھی۔ شرک نہ کرو، والدین کا احترام کرو، زمین پر اکڑ کرنہ چلو،کسی کا حق نہ مارو ،اونچی آواز میں بات نہ کرو، تکبر نہ کرو تو آج ہم کیا کر رہے ہیں؟
حق ہی توماررہے ہیں ورنہ احترام کرتے تو خود محترم رہتےمگراب مجرم ہیں۔ ابھی بھی وقت ہےاگرکچھ نہیں تو ندامت کے دوآنسو استغفارسےہی میرارب راضی ہو جائےگا۔ اس کا وعدہ ہےاس کی ذات سے مایوس نہیں۔ اللہ ہم تمام مسلمانوں کو راہ ہدایت دے۔ آمین۔
ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کی قوت بنیں اورانہیں ظلم سےنجات دلائیں۔ آئیے اپنی ہرممکن کوششوں کےساتھ ساتھ اپنے رب سےایسے جڑیں، ایسی دعائیں کریں کہ دشمن کی چالیں ان پرپلٹ جائیں۔ایسی ایمانی قوت اورمدودے ہر فلسطینیوں کےدل، آنکھیں،روح ٹھنڈی ہو جائے اور ظالم کا خاتمہ تو ہمیشہ کیلئےہوجائے۔ ہرخوشی غم کے موقع پر جوآداب سکھائے گئے ہیں ،ان کے مطابق عمل کریں۔ تہجد پڑھیں اور زبان کو ذکرِ الٰہی اور دعاؤں میں مشغول رکھیں۔
میرا مالک کریم ہے،علیم ہے،ضرورنوازے گا۔یہی میراایمان ہےاوربھروسہ۔ اللہ مدد فرما ،ہمیں اپنی محبت اوررحمت عطا فرما اوردونوں جہاں میں سرخرو فرما۔ مالک تو ہی عظیم ہے سب تعریف تیرے ہی لئےہے۔ آمین





































