
لطیف النساء
"انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی ناکامی بنی وبال"
کتنی بے بسی،کتنی بے کسی،کتنی تباہی،بربادی ہی بربادی، اللہ کہاں سےلائیں یہ صبر! اتنی تباہی! بمباری ہی بمباری، درندوں کا بھی مقابلہ کیا جا سکتا ہے! جانوروں کو بھی سدھایا جا سکتا ہے! اللہ یہ کیسے لوگ ہیں کیسے ترقی یافتہ بندے ہیں؟یا درندے! اتنے معصوم بچے، بڑے بوڑھے،عورتوں اور مردوں پر بلاسبب بمباری،ہولناک بمباری اور آگ و خون کی ہولی! اتنی دادا گیری! اللہ کی پناہ! کہاں ہیں یہ امن کے رکھوا لے، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کے ایکٹرز؟انسانیت نام کی چیز سے بھی بے بہرا اور کیسے یہ امت مسلمہ کے حکمران اور ان کی جنہوں نے ان کا ساتھ دیا اور اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم اور نسل کشی پر کیسے منہ سی لئے، کیوں سال بھر ظلم کرنے،نہتے لوگوں کو گھر، مکان، دکان تو کیا ہسپتال اور قبرستانوں کو تباہ و برباد کرنے کے باوجود تباہ حال بھوک اور سردیوں سے سسکتے،زخموں سے بلکتے بھوکے پیاسے لوگوں پر ایک مرتبہ پھر نئے سرے سے ظلم اور درندگی کو جاری رکھنا بے گھر فلسطینیوں کو دوبارہ لپیٹ میں لینا۔ یہ اسرائیل صرف اور صرف امریکہ کی حمایت اور دیگر شرپسندوں کے ساتھ مل کر مظالم کے سلسلے کو مزید طول دینا، دائرہ کار کو بڑھا کر شام اور لبنان کو لپیٹ میں لے کر مزید سعودی عرب اور پاکستان کے لیے رال ٹپکانے پرتُلاہے تو دوسری طرف یہ مسلمان یہ حکمران بھی انہیں روبوٹکس اور ریموٹ کنٹرول بکتر بند گاڑیوں جیسے جدید مہلک ترین ہتھیاروں کے استعمال سے بھی بعض رکھنے کی بات تک نہیں کر رہے! تو کیا یہ جو بچے کچے ہسپتال کے حصوں،معصوم مریضوں،طبی عملے تک کو شہید کرنے پر تلے ہیں۔کیا ان کے لیے بے ضمیر ہونے سے کم بات ہے؟یہ غلطیاں تو کیا تو اب تو گناہ لگنے لگے ہیں! ظاہر ہے اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی چپ، اسرائیلی مکاری اورجارحیت کو بڑھا کر سر چڑھانے کی وجہ بن رہی ہے۔ اسرائیل کو مزید تقویت دینے کی بات ہے بس یہی اس سال کا بدترین المیہ ہے کہ اپنوں نے اپنوں کا غم نہ بانٹا اور صحیح معنوں میں جہاد نہ کیا۔گویا اپنے حقوق کو ہی پامال کر کے گناہ مول لیا، اس کی وجہ سے ماحول میں سوگواری اور خود غرضی کاکرب ہے۔بلا کی بے سکونی ہے! محض رسمی بیانات تک محدود رہنا اور نسل کشتی جاری رکھنا جرم سے کم نہیں! یہ پورا سال ہم نے جرم کیے ہیں۔ محض طاقتور زور آور حکمرانوں کو خوش کر کے ہم کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتے!عوام کو بھی ایک طرح سےمعاشی، سیاسی، معاشرتی جھگڑوں میں پھنسا کر فلسطینی عوام کو یوں الگ کر دینا شرافت نہیں ہے۔
وہ بیچارے کیسے اپنا جہاد کا حق ادا کرتے چلے جا رہے ہیں؟جتنا وہ صبر کیے جا رہے ہیں،جانوں کے نذرانےدےرہےہیں، اتنا ہی ہم دنیا کو تماشا دکھا رہے ہیں۔بس یہی غم اور المیہ ایسا ہے جو مجھے اس سال کو بے بسی، غم،ظلم و بربریت، بے ضمیری اور خود غرضی کا سال قرار دیتا ہے جبکہ ان جانبازوں کے لیے یہ سال تو ہمیشہ کی شہادت اور نوید مسرت کا سال ہوگا۔ امت مسلمہ اب بھی ہوش کے ناخن لے اور متحد ہو کر، منظم ہو کر ان مٹھی بھر اسرائیلیوں کے خلاف ڈٹ جائے اوراپنی ذمہ داری اور حق زندگی ادا کرے تو پھر ہمیں کسی قسم کا نہ افسوس ہو، نہ ملال کیونکہ فرض سے غفلت کوتاہی نہیں جرم ہے۔دعا ہے کہ اللہ امت مسلمہ کو وہ ضمیر دے جو عالمی ضمیر اور عالمی برادری کو نہ صرف جھنجھوڑے بلکہ عالمی اداروں اور حکومتوں کو مظلوموں کا ساتھ دینے پر مجبور کرے اور ناکامی کو کامیابی میں بدل دینے کے لیے مسلسل جہاد کرے۔
فلسطینی عوام کے حق کے لیے ایک ہوں نیک ہوں اور مؤثر اور منظم ہو کر جارحیت کو نہ صرف روکیں بلکہ ہمیشہ کے لیے انسانیت کے وجود کو دوام کریں۔یہی اس سال کی غمگین رات کو، نئی صبح کو بدلنے کے لیے لازمی ہے۔ظاہر ہے آنے والے کل کی بہترین تیاری ہی یہ ہے کہ ہم اپنے آج کا صحیح اور مؤثراستعمال کریں عملی طور پر، ورنہ سمجھ لیں کہ "وقت پھر وقت نہ دے گا تمہیں پچھتانے کا "لہٰذا:
اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے
پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے
چھوڑ دے آسان راستہ زندگی دشوار کر
جس طرف دریا چڑھا ہو اس طرف سے پار کر




















