
لطیف النساء
وقت اتنی تیزی سے گزر رہا ہے کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا؟اگرچہ اس کےسامنے روز سورج نکلتا ہے ۔ نئی روشنی نئی زندگی لے کر ۔ سارا دن تپتی
دھوپ، روشن ماحول،تیزی سے گزرتی سرگرمیاں، مختلف زندگی کے جھمیلے، ہولے سے ہی گزرتے ہیں۔ درد کا ایک ایک لمحہ گزرنا ہی دشوار بلکہ بہت ہی دشوار ہو جاتا ہے لیکن پھر بھی روشنی سمیٹی ہی جاتی ہے اور اندھیری رات آ جاتی ہے۔ دن کتنا ہی روشن،تابناک خطرناک ہو گزر ہی جاتا ہے اور رات دبے پاؤں آکرسکون دے دیتی ہے۔ ا سٹاپ لگ جاتا ہے ساری خلقت جیسے منتظر ہو، تھکان دور کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی ماحول نہیں۔ سبحان اللہ! کیسی پرسکون نیند!کیسا چین! گویا تمہیں تو چاند سلاتا ہے لوریاں دے کر والی بات ہے۔
بس پھر اسی طرح دن رات گزرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ سالہا سال زندگی میں ہزارہا نعمتیں پائیں،سکھ چین اپنائے،تاریخ بھی دیکھی، حال بھی دیکھامگر وہی بے فکری کی غافل زندگی جسے فطری طور پر آخرت کو نظر میں رکھ کر تاریخ سے عبرت لیتے گزارنا چاہئے تھا، خود بخود گزر گئی۔
ایک مؤرخ "ٹائن بی "کا واقعہ یاد آگیا جب میری دوست نے نئے سال کا کیلنڈر مانگا!کہ مجھے ضرور دینا میری باجی کو اسلامی تاریخیں دیکھنی ہوتی ہیں اور انہیں روزے بھی رکھنے ہوتے ہیں،انہیں بہت اچھا لگتا ہے۔ میں نے کہا ہاں مجھے بھی اسلامی کیلنڈر اچھے لگتے ہیں،آیات کے ترجمے مؤثر ہوتے ہیں مناسبت سے بھی اور تاریخیں بھی۔ تو مجھے یاد آیا ابھی تو نیا سال نہیں آیا پھر مجھے خود خیال آیا کہ جنوری کے مطابق نیا سال کا کیلنڈر مانگ رہی ہیں تو آج اسلامی تاریخ کیا ہوگی؟تو وہی مؤرخ "ٹائن بی" کا حصہ یاد آگیا 1957ء کے دورے پر تھا اور ایک تاریخی سیمینار میں شرکت کی تقریب بہت شاندار تھی، اختتام پر پاکستان کے ایک اعلیٰ سرکاری ملازم نے ڈائری لی اور ان کے آگے آٹوگراف کے لیے بڑھائی۔"ٹائن بی " نے قلم پکڑ کر دستخط کئے اور اپنی نظریں اٹھائیں بیوروکریٹ کی جانب اور کہا میں ہجری تاریخ لکھنا چاہتا ہوں کیا آپ مجھے آج کی ہجری تاریخ بتائیں گے؟ سرکاری ملازم نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں۔ پھر ٹائن بی نے خود ہی ہجری تاریخ لکھی اور مسکرا کر کہا " تھوڑی دیر پہلے اسلام کے مستقبل کے بارے میں بڑے زور و شور سے تقاریر ہو رہی تھیں! تو گویا وہ لوگ اپنی تاریخ کیسے بنا سکتے ہیں جنہیں اپنی اسلامی تاریخ بھی یاد نہ ہو! تاریخ باتیں کرنے سے نہیں عمل کرنے سے بنتی ہے۔
سرکاری ملازم اور مصنف نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور میں نے بھی کہ ہم اب تک ویسے ہی ہیں۔تاریخ پر فخر کرتے ہیں مگر خود تاریخ نہیں بناتے!خود عملی طور پر کچھ کرنے کو تیار نہیں۔ معمولی معمولی روز مرہ کے کام بھی خوش اسلوبی سے ہم نہیں کر پاتے، جس زمین پر اکڑ کر چلتے ہیں اس کی صفائی تک کا خیال نہیں کرتے۔ جگہ جگہ کچرا پھینک دیتے ہیں۔ جب نفس میں خود صفائی نہ ہو تو بات کیسے آگے بڑھے، خود صاف ستھرے ہوں، کپڑے صاف، جسم صاف،وضو کرنے والے، نمازیں پڑھنے والے تو ظاہر ہے راستوں کو اپنے ارد گرد کے ماحول کو خود ہی صاف رکھنا چاہیں گے!کبھی گندا نہ کریں گے، یہ خود بخود ایک روحانی عمل ہونا چاہیے۔
اس طرح ہم اپنے خیالات نیت تک میں صاف ہوں گے، تو جھوٹ، چوری چکاری،بےحیائی اور فحاشی سب سے بچتےہی چلے جائیں گے۔ دوسروں کے لیے بھی نفع بخش ہوں گے اوردوسرے آپ کے لیے یوں ہمارا گھر،محلہ،پورا علاقہ کیا،میرا ملک جو کہ میرا بڑا گھر ہے خوبصورت گھر ہے، اس کو چار چاند لگ جائیں گے۔ وہ خود بخود نمایاں ہوتا جائے گا۔ آج ہمارے ہی بھائی بندے ہسپتالوں میں، سیڑھیوں کی ہر منزل کے کونے کھدروں میں، کھڑکیوں کے باہر نیچے چاہے گلی ہو، سڑک ہو، باغ ہو، درخت ہو یا کسی کا چھجا ہو، صحن ہو،کچرا، گندی غلیظ چیزیں بچوں کے پیمپرز تک پھینکتے نہیں چوکتے تو اعتراف کیسے کر سکتے ہیں؟ہم نے اپنے بچپن میں بھی اتنی گندگی کبھی نہیں دیکھی۔سب بچے محلے کی پچھلی گلیوں یا کھلی جگہوں پر ہی کھیلتے تھے مگر ایسے آسیب زدہ علاقے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ آج کیا ہو گیا؟ پڑھے لکھے، باشعور، فیشن ایبل لوگ! سب کچھ جانتے ہوئے شیطانی چالیں چل رہے ہیں مکر رہے ہیں محض سستی کاہلی اور دین سے دوری کی وجہ سے غفلت اور اپنی جاہلیت کی وجہ سے جواب شکوہ یاد کریں نا! اپنی اصلیت پہچانیں نا! یہ کُل انسانوں کے لیے ہے، تاریخ کیا تھی ہماری؟ ہم کیا ہیں؟ پھر ہماری تاریخ کیا ہونی چاہیے؟
صفحہ دہر سے باطل کو مِٹایا کس نے؟
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے؟
میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے؟
میرے قُرآن کو سِینوں سے لگایا کس نے؟
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو





































