
لطیف النساء
ہم کتنے خوش نصیب ہیں کہ ہمیں ہمارے ملت کے پاسباں محمد علی جنا ح ؒ نے اپنی پوری زندگی کی محنت اورجانفشانی کے بعد ایک آزاد مملکت پاکستان
عطا کیا۔یہ اللہ کا فضل ہے ۔سبحان اللہ!ہمیں واقعی قائد کی ان کوششوں کا اور آزادی کے لیے قربانیاں دینے والے ہر ہر بندے کا تہہ دل سے شکر گزار ہونا چاہیے۔کتنی انتھک محنت اور لگن سے محمد علی جنا ح ؒ نے یہ پاکستان بنایا۔ہم بچپن سے سننے والا وہ نغمہ کبھی نہیں بھولتے کہ
یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
ہم نے بارہا قائداعظم کی پرانی تقاریر،جلوس، خطابات اور اقوال سنے ہیں۔ ان کےاصول،یقین، اتحاد اور تنظیم واقعی لاجواب ہی ہیں۔اسی طرح ان کا یہ کہنا کہ کام کام اور کام!آج بھی قوم کو متحرک رکھنے اور پروان چڑھانے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک ان کا قصہ ہم نے سنا تھا کہ ایک مرتبہ کسی میٹنگ میں وقت پر پہنچے،وہ ویسے بھی وقت کی پابندی کو بڑی اہمیت دیتے تھے تو میٹنگ میں دیکھا کہ چند کرسیاں خالی تھیں جبکہ میٹنگ کا وقت شروع ہوا چاہتا تھا۔آپ نے فرمایا کہ یہ خالی کرسیاں ہٹالی جائیں۔ بعد میں آنے والوں کو کچھ نہ کہا! آنے والےحضرات پیچھے کھڑے رہے اور میٹنگ ہوتی رہی جس کے بعد وہ حضرات کبھی آئندہ تاخیر سے میٹنگ میں نہ پہنچے ہوں گے بالکل اس طرح حکومتی اشیاء کو اپنی ذاتی ملکیت کبھی بھی نہ سمجھتے تھے بلکہ عوام کا سرمایہ سمجھ کر پھونک پھونک کر استعمال کرتے تھے۔ بلاوجہ لائٹیں تک نہ جلا دیتے۔اپنی تنخواہ اور حیثیت میں ہی رہتے تھے، نہ دکھاوا تھا نہ لالچ بلکہ احساس ذمہ داری اور فرض شناسی کوٹ کوٹ کر ان میں بھری تھی۔ ان کی بہن محترمہ فاطمہ جناحؒ آپ سے بہت محبت کرتی تھیں اور آخری وقت تک ان کی تیمارداری اپنا فرض سمجھتی تھیں، وہ بھی بھائی کی طرح باہمت محنتی اور فرض شناس بہن تھیں۔
مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ بیماری میں جب انہوں نے کھانا پینا کم کر دیا تھا تو ساتھیوں نےمشورہ دیا کہ ان کی پسند کی فلاں چیز جو فلاں باورچی بنایا کرتا تھا۔ اس کو بلوایا جائے اور اس سے ان کی پسند کا کھانا پکوا کر کھلایا جائے۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا لیکن ایسی حالت میں بھی ہمارے عظیم قائد نے اپنے باورچی کے پکے ہوئے کھانے کو پہچان لیا اور غیر سرکاری طور پر ان کی خدمات لینے کو ناپسند فرمایا! سبحان اللہ! کتنی اچھی بات محض زبان کے چٹخارے کے لیے کسی کو اذیت دینا یا خدمت لینا نا منظور تھا۔
ایسے قائد کے عوام کی آج حالت دیکھیں!ہر جگہ اوپر سے نیچےیانیچےسےاوپر ہر لیول پرکیسےکیسے لوگ ہیں اور کیا کچھ ہتھیا رہے ہیں؟اللہ کی پناہ! ہونا تو ان جیسا چاہیے تھا مگر ہم خود کیا کر رہے ہیں۔کتنے بگڑ گئے ہیں؟اگر آج بھی ان کی اس قربانی کا احساس کر لیں اور اپنے وطن کو اپنی ملت کے پاسبان کے اصولوں کو ہی زندگیوں میں نافذ کر لیں۔اتحاد، تنظیم اور یقین کو اپنائیں، کام سے کبھی نہ جی چرائیں اور آزادی کی اس نعمت کی سچے دل سے قدر کریں،ہر بندہ اپنا کام محنت اور ایمانداری سے اور احساس ذمہ داری سے ساری زندگی بھی ادا کر ے تو بھی ہم اپنے قائد کا احسان نہیں اتار سکتے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب کے ہر لمحہ شکر گزار ہوں اور اپنے قائد محمد علی جنا ح ؒکے بھی شکر گزار ہوں،پکے سچے مسلمان رہتے ہوئے اس آزادی کے تحفظ کے لیے ہر طرح کی قربانی مرتے دم تک بھی دیں تو کم ہے۔ بے شمار کارنامے اور وقت کی قدر، ذمہ داریوں کا احساس، لوگوں کا خیال، بے شمار اخلاقی کہانیاں ان سے وابستہ ہیں جو ہمیں جوش دلاتی ہیں۔ ضرورت ہے انہیں اپنانے اور ملک کی بے لوث خدمت کر کے ان کے احسانات کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ ہمارایہی نذرانہ ان کا شکرانہ ثابت ہوگا۔ رب تو ہے ہی قدردان! جو بندوں کا شکر گزار ہوتا ہے وہی پہلے ہمیشہ رب کا شکر گزار ہوتا ہے اور رب کا شکر گزار بندہ ہمیشہ فائدے میں رہتا ہے۔
اللہ پاک میرے قائد کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس عطا فرمائےاور ہماری آزادی کی حفاظت فرمائے اورواقعتاً اسے اسلام کا قلعہ بنا دے اور ہم سب کو اس نیک کام پر لگا دے۔ آمین یا رب العالمین





































