
لطیف النساء
کیا کھویا اور کیا پایا؟
شکر الحمدللہ خدایا! ہزارہا کرائسز، غموں، دکھوں، بیماریوں، زلزلوں،آندھی،طوفانوں اور وحشی المناک انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والی جنگی
بیماری اور تباہی کے باوجود ہم زندہ ہیں۔ اللہ پاک کا شکر ہے۔ زمینی آسمانی آفات سے اللہ پناہ میں رکھے ہمیشہ! یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی بڑائی ہے۔ رحم ہے، کرم ہے جو ارد گرد وقتاً وقتا ًلوگوں کو تنبیہ کراتا ہے اور وارننگ دیتا ہے کہ سدھر جاؤ! جاؤ گے کہاں؟آنا تو تمہیں میرے ہی پاس ہے ۔کتنی ہی دنیا میں شاپنگ کر لو، کھا لو، پی لو، جی لو اور موج اڑا لو! مگر زندگی اور موت کی حقیقت کو جھٹلانا ناممکن ہے۔کیا کمال بات ہے پیدا ہونے والا بچہ روتا ہے، مگر مرنے والے کے لیے یہ شرط بھی ضروری نہیں۔کتنی ہی مختصر زندگی ہے کہ ادھر اذان ہوئی اور ادھر نماز جنازہ!درمیانی وقفہ تو وضو کے ساتھ طہارت کے ساتھ رب چاہی کرنے کا تھا۔ دنیا کے جھمیلوں میں رہتے ہوئے ذمہ داریاں بھی نبھاتے ہوئے سب کچھ سہتے ہوئے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور اعضاء کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے آخرت کی جی ہاں آخرت کی تیاری کرنے کا تھا لیکن ہوتا کیا ہے؟بعد میں کل سے کرتے کرتے پل میں زندگی گزرتی چلی جاتی ہے۔ ابھی تو31دسمبر4 202 تھا اب پھر کیا شور شرابہ، موج مستی، دھمال اور ساحل سمندر،چوراہوں اور دنیا بھر کے علاقوں میں نئے سال کا استقبال بدتمیزی اور بد تہذیبی سے کیا جاتا ہے ،باوجود گزشتہ سال کی تلخ یادوں کے،گرمی کے انگاروں کے، تو اب پھر سے دسمبر 31 آ ہی گیااور سورج کی روشنی لپیٹ دی گئی۔ گویا ساری فلم تیار ہو گئی۔ تو پھر تاریکی شب میں یاد کریں گزشتہ سے پیوستہ یادیں،باتیں، کیسے چکن گونیا ہوا؟کیسی گرمی پڑی؟ کیا کچھ فلسطینیوں نے سہا اور کیا کچھ انسانیت کا خون ان آنکھوں نے دیکھا۔اس طرح دنیا جہاں میں زمینی اور آسمانی آفات، زلزلے،طوفان، آندھی، برف باری، سیلاب اور آگ لگنے کے واقعات!کتنے ہی چل بسے،کن کن حالتوں میں اپنے اور پرائے دنیا سے ہی گزر گئے،خاموش پیغام دے گئے کہ
رہنا نہیں یہاں پر جاری تیرا سفر ہے
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے
ہر چیز بے بس ہوجاتی ہے۔ جیسے ابھی قلم ،سیاہی کے بغیر رک گیا،سبق دے گیا،یہ انگلیاں،یہ زبان،یہ دل، دماغ،نظریہ اوریہ قلم سب رک جائیں گے مگر دنیا چلتی رہے گی۔ اندھیرے کتنے ہی گھٹا توپ ہوں صبح نمودار ہو جائے گی۔ یہی تو قدرت ہے سوچنا تو ہمیں ہے کیا کیا؟ 12 بجے سے ہی فائرنگ، دھماکے،ناچ گانے،فائر ورکس اور ویڈیوز وغیرہ،سائلنسر نکال کر موٹر سائیکل تیز رفتاری سے چلانے اورشور مچانے سے کیا ہم دنیا کو جیت لیں گے؟ بازار، دکان، روڈیں،چوراہوں پر ہلہ گلہ کرنے اور اس دوران مزید زخمی اور ہلاک ہونے، جانی مالی نقصان کرنے سے کیا حاصل؟ذرا دیکھیں ان بے بس بے کس بیماروں کو جو ہل جل نہیں سکتے۔ ان تیمارداروں کو جو روپیہ پیسہ جان مال لگا کران کے بچنے کی دعائیں مانگ رہے ہیں۔
سوچیں!ان اپنوں کو جو اپنے نوجوان چھوٹے بڑے بچوں کو اچانک سوگوار چھوڑ گئے، کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ وہ اس نئے سال دفتری سال 2025 میں دنیا چھوڑ کر بھی پرانے ہو چکے ہوں گےپھر ہمارا آپ کا یہ 2025 کیا کچھ کر سکتا ہے؟ خرافات سے بچیں،دعائیں اور شکر ادا کرتے رہیں کہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم اتنی تباہ کاریوں کے باوجود زندہ ہیں۔
اللہ پاک ہمیں ان اعمال پر لگادے، ہدایت دے دے جس سے وہ راضی ہو جائےاورہم بھی اپنے انجام سے خوش ہوں۔ اس ڈھلتے سورج کے ساتھ ہی ہماری تمام برائیاں غائب ہو جائیں اور اللہ ہمیں نئی زندگی عطا فرمائے،ایک نیا سورج،نئی روشنی زندگی کی جو بامقصد، باعمل اور انسانیت کے احترام میں ہو اور ہم خلیفۃ الارض ہونے کا نائب ہونے کا حق ادا کریں۔
ظالم نہ ہوں بلکہ ہمدردی اورانسانیت کا احساس رکھنے والے اور اس کے بندوں کا دکھ بانٹنے والے ہوں۔ رات پھر شعوری طور پہ زندگی کی نعمت ملنے، عبرت ناک اموات کو دیکھنے کے بعد سنبھلنے سدھرنے کے بہترین مواقع دے دے یہ دعا کرتے رہیں۔عبادات کریں، دعائیں دیں۔اللہ نے تو کہا ہے مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ،پس ہر وقت اس کے غم کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں۔حق بندگی ادا کرتے رہیں، کسی کے دشمن کبھی نہ بنیں۔ اپنے پیارے مرحومین کے لیے مغفرت کی دعاؤں کے ساتھ ساتھ صدقہ جاریہ والے کام کریں کیونکہ
یہی ہے عبادت یہی ہے دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انسا ں کے انساں
ورنہ تو زندگی بے بندگی شرمندگی ہے۔اے اللہ! ہمیں کاش کبھی نہ بولنا پڑے۔ہمارے ملک کے لوگوں امت مسلمہ کو نیک کر دے، ایک کر دے،منظم کر دے تاکہ میں تیرے دین کو اپنے اوپر بھی نافذ کروں اور دنیا میں بھی تاکہ پوری دنیا پر امن ہو مسلم یعنی صرف رب کی فرمانبردار ہو۔ آمین





































