
لطیف النساء
قرآن مجید ہمارے لیے راہنما ہے،روشنی ہے،ہدایت ہے۔ اللہ کا کتنا شکراداکریں کہ اس نے نہ صرف ہمیں مسلمان پیدا کیا بلکہ زندگی گزارنےکا مکمل نمونہ آپﷺ کی صورت
میں عطا کیا۔ ان کی پوری زندگی قرآن کا عملی نمونہ ہے۔ گویا ہمارے لیےپوری زندگی کا لائحہ عمل ہے۔آپ ﷺنےآخری خطبےمیں بھی تاکید کی کہ تم کبھی گمراہ نہ ہو گےاگر کلام الہٰی یعنی قرآن کریم کواورمیری سنت کوتھام لو۔ سبحان اللہ! قرآن کے حقوق ادا کرنے کو باربار کہا گیا ہے۔ایمان کے بعد دوسری اہم چیزعمل صالحات ہیں۔وہ اعمال جن کےکرنے پر ہم فلا ح پائیں گے جگہ جگہ ایک ہی بات ہےکہ اے لوگوں! جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے جبکہ مختلف صورتوں میں طرح طرح سے صالح عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
سورۃ الکہف میں کہا گیا ہے کہ گرتی دیوار کیوں درست کی گئی؟کیونکہ اس کے نیچےدو یتیم بچوں کے لیے خزانہ تھا اور اس کا باپ نیک اور صالح تھا اس لیے اس خزانے کی حفاظت کی گئی تاکہ بچے جوانی کو پہنچ کر وہ حاصل کر لیں۔ گویا نیک اعمال نہ صرف کرنے والے کے لیے فلاح و کامیابی کا ذریعہ ہوتےہیں بلکہ اس کا اثرنسلوں میں بھی آتا ہےاورکہا گیا کہ" الباقیات صالحات"میں بتاؤں۔ اعمال کے حساب سے باقی رہ جانے والی کیا چیزیں ہیں؟مکان،دکان، بنگلہ،کوٹھی،زروجواہر نہیں،بلکہ واقعی رہ جانے والی صرف نیکیاں ہیں اچھے صالح اعمال ہیں جووہاں کی کرنسی ہے۔
پس ہمیں ان پر ہر وقت فوکس رہنا چاہیے کہ ہراچھے کام کے لیے ہمارے پاس ہروقت ہو اورہروقت کے لیے ہمارے اعمال صالح ہوں،مطلب اللہ کا ڈر،جوابدہی کا احساس اور آخرت کا یقین۔ رب کے سامنے جو ابدہی کا احساس رکھتےہوئےگناہوں اور خرافات سے بچتےبچاتےجو زندگی گزاری جائے نیتوں اور اعمال میں جو نیکی پائی جائےوہی ہمارے لیے عمل صالح ہیں۔" حقوق اللہ اورحقوق العباد دونوں کی کسوٹی اعمال صالح ہیں۔ "مرنےوالےہربندے کا ایک خاموش ساپیغام ہوتا ہےکہ میں نے پیچھےکیا چھوڑا ہے؟ اور کیالےجارہاہوں؟لوگ لواحقین دوست احباب گواہی دیتے ہیں کہ بندہ جانےوالا مرحوم یا مرحومہ کیسی تھی؟ کسی کو نہیں معلوم کب اس پر مرحوم کا لفظ لگ جائے،کب وہ مرحومہ کہلانے لگے گی؟
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
دسمبر کا مہینہ تو میرے احساس کو دگنا کر دیتا ہے اور موتیں جو حق ہیں سچ ہیں ہمیں یہ باور کراتی ہیں کہ جان لو! اجل کتنی قریب ہے مرنے والے کو بھی خبر نہیں! ابھی کچھ دنوں میں کتنی موتیں اچانک ہوئی ہیں۔ نسرین آنٹی تھوڑا بہت بیمار تو تھیں مگر ایک خون کی الٹی بہانہ بن گئی اور انہیں مرحومہ بنا گئی۔ واقعی مرحومہ بے پناہ کام کرنے والی نیک اور مخلص خاتون تھیں ۔اللہ انہیں جنت الفردوس عطا فرمائے (آمین)۔ہرآنکھ اشکبار، ہر دل اداس اور ان کے لیے دعا گو تھا۔ وہیں معلوم ہوا کہ مُدرسہ بتا رہی تھیں کہ واقف کار میں ایک 15 سالہ لڑکا بائیک سے گرافٹ پاتھ سےٹکرا کرفوت ہو گیا۔ اللہ اکبر! اسی طرح ہمارے جاننے والوں میں دو بچوں کا باپ ٹھیک ٹھاک رات سویا اور صبح اٹھے ہی نہیں۔
اسی طرح ایک لڑکی 22 سالہ ہنسی مذاق کرتی، اِدھر اُدھر باتیں کرتی، ماں کے ساتھ موج مستیاں کرتی،نہا دھوکر کنگی سے بال سلجھا رہی تھی نہ جانے کیسے پاؤں پھسلا ذرا سی دیوار سے لگی اور زمین پر گری اور اسی وقت انتقال کر گئی۔ کسی کو یقین ہی نہ آیا۔ ڈاکٹرز نے کہا کہ اس کو دفنانے میں جلدی کرنا۔ یہ تو عام موتیں ہیں ہماری گلی میں بھی ایک صاحب کی موت سردی اور گھبراہٹ سے ہو گئی۔ سال جاتے جاتے اپنے ساتھ کتنوں کے چراغ گل کر دیتا ہے تو ساتھیوں یہی سچ اور حقیقت ہی تو موت ہے جو ہمیں خاموش پیغام دیتی ہے کہ ساتھیوں مجھے دیکھو! میں چلی۔ ساتھ صرف کیا گیا؟ کچھ نہیں صرف دو گز کفن کا ٹکڑا میرا لباس ہوگا اورقبر سے حشر اور آگے کے ساتھی صرف میرے اعمال صالح باقی کچھ نہیں۔
واقعی سمجھ آتا ہے کہ عبرت کے لیےتو موت ہی کافی ہے۔ زندگی کا ہر پل میرے لیےانعام بنے گا یاعذاب! کتنا نازک موقع کتنی قیمتی اورمختصر زندگی! اس میں بھی چین ایک پل نہیں اورکوئی حل نہیں،نہیں کیوں نہیں حل ہے،زندگی کوبندگی بنائیں کیونکہ زندگی بےبندگی شرمندگی! مجھے پچھتاوا نہ ہو، مجھے کاش والا لفظ نہ بولنا پڑے۔ مجھے حسرت نہ ہو کہ میں نے یہ کیا ہوتا،وہ نہ کیا ہوتا، میں نے شرک نہ کیا ہوتا اورمن چاہی نہ کی ہوتی،رب چاہی کی ہوتی اس سےبچنےکےلیے ہی تو سورۃ الکہف میں آخری آیات میں بتایا گیا ہےکہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہےتو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو۔ اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ بنائے۔ موت تو سب کوآنی ہے جو دنیا میں آگیا، اس کا جانا لازمی ہے۔ زندگی کا انجام ہی موت ہے،دوسری سانس کا بھروسہ نہیں تو اس مختصرسی زندگی کی تیاری،احساس بندگی اور تقویٰ سے ہی توجڑی ہے۔ اللہ تعالی ہمارے حساب کو آسان بنائے اور دین و دنیا میں عافیت عطا فرمائے۔ہر وقت اس رب کی شکر گزاری میں اور زندگی میں قرآن کے حقوق ادا کرنے میں جُت جانا ہی ہمارا مقصدِ حیات ہو جائے۔اللہ پاک ہمارا نام فلاح پانے والے لوگوں میں رکھنا۔ مالک تو ہی تو رحیم و کریم ہے۔ آمین





































