
لطیف النساء
اللہ کو اپنی مخلوق سے بے انتہا پیار ہے،ظاہر ہے وہ ستر ماؤں سےزیادہ اپنے بندوں کو چاہتا ہے۔سدھار نے کے لیے تو ماں باپ بھی بچوں کو دھنک کے رکھ دیتے ہیں۔ سوا
سال سے کی گئی نسل کشی اور بربریت انسانیت سو زظلم و زیادتی ایک نہیں دو نہیں تقریباً پچاس ہزار شہادتیں اور مٹھی بھر اسرائیل کی پشت پناہی میں امریکہ سر فہرست ہےپھر دیگر ممالک اور جو کوئی ان کے خلاف نہ حصہ لے نہ بولے نہ کچھ کرے وہ سب اس فساد فی الارض میں شامل ہیں۔
امن کمیٹیاں، انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے دیگر تنظیمیں، کیا مسلم،کیا غیر مسلم حکمران، سیاستدان لیڈر اور فوج کے حکام سب ہی ایک طرفہ تماشا بنے ہوئے ہیں اور انسانوں پر تمام تر جدید جنگی اسلحہ اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے تیز ترین جان لیوا میزائل، بم اور دیگر زمینی حقائق ہر طرح کے خون خرابہ کرنے والی ٹیکنالوجی کا انسانوں پر جارحانہ استعمال، نہتے،بے بس اور بے کس لوگوں پر مسلسل پانی، خوراک،انٹر نیٹ، لائٹ سب کچھ بند کرکے جو ظلم کر رہے ہیں اور مزید بھوکا پیاسا رکھ کر امدادی کاروائیاں تک رکوا کر زخمی لوگوں پر، طبی عملے پر، قبرستانوں پر، ہر ہر جگہ بے بسی سے مجبوراًبنائے گئے خیموں کو تک نہ چھوڑ رہے ہیں اور اب بھی بزدلی کی جہالت دکھا رہے ہیں تو کیا ظلم کرتے ہی رہیں گے؟ قدرت جوش میں نہ آئے گی؟ کوئی بھلے ساتھ نہ دے۔
نیتوں پر ہی تو اٹھائے جاؤ گے۔قدرت کے نظارے چاروں طرف عبرت کے اشارے ہمیں ہی جگانے کے لیے ہیں۔کیسی ہولناک آگ، کیسے نظارے،درخت، مکانات، دکانیں،پل ہر جگہ آگ ہی آگ۔کتنی خطرناک صورتحال کتنادلخراش منظر،اللہ اکبر! آگ سے خاکستر ہونے میں لمحے نہیں لگتے!اتنی خطرناک آگ۔اسی لیے تو پناہ مانگی جاتی ہے کہ اے اللہ!آگ کے عذاب سے بچا کہ یہ جہنم کا ایندھن ہے۔ احساس احساس احساس! ہر بندہ دیکھ کر یہی سوچتا ہوگا بھلے نہ کچھ کہے،مکافات ہے، اللہ کی سزا ہے، پکڑ ہے۔
یہ بھی خیال آتا ہوگا لیکن ہمارے لیے تو صاف واضح احکامات ہیں کہ جب زمین پر انسانوں کا ظلم بڑھ جاتا ہے تو قدرت اپنا رنگ دکھاتی ہے ایک "کن "میں دیر نہیں لگتی۔ کنارے کنارے عذاب دکھا کر ہمیں بھی تو جھنجوڑا جا رہا ہے!!! ہر سال کہیں نہ کہیں ایسی زمینی آسمانی آفات بھیج کر ہمیں سدھرنے کے مواقع دیتا ہے۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ہم کیوں یہ بھول جاتے ہیں کہ مسلمان ہو کر ایمان کی دولت ملنے کے بعد بھی ہم غافل بنے رہتے ہیں۔ وقت ضرورت اپنے مظلوم مسلمانوں کی مدد نہیں کرتے، جہاد نہیں کرتے اور اللہ کی ناراضی مول لیتے ہیں۔
وہ رب کتنا مہربان ہے جو ہمیں نوٹس پر نوٹس بھیجے جا رہا ہے کہ مسلم امہ معذرت کےساتھ خواب خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف ہے۔ ہمارے لیے تنبیہ ہے، للکار ہے، پکار ہے کہ اب بھی سدھر جاؤ اللہ کے عذاب سے اور جہنم کی آگ سے اپنے اپ کو اور اپنی آل کو بچالو کہ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہے۔ ہم کیا سمجھتے ہیں ہمارے اپنے بارے میں،اپنے کرتوتوں کے بارے میں، کیا ہم انسانیت کا درد رکھتے ہیں؟نہیں نا! کیسے ایک دوسرے کے دشمن بنے ہیں تو اللہ کی رضا کیسے ملے گی؟اب تو بندہ بندے سے ڈرتا ہے۔
ایمان کی کمزوری کا یہ لیول ہے کہ بے سکونی اور خوف کا عذاب ہر وقت ہم پر طاری ہے۔کیلیفورنیا کی آگ ثبوت ہے کہ اللہ نہ کرے کوئی زمینی آسمانی آفت میں ہم گرفتار ہوں۔گزشتہ سالوں میں خشک سالی کے باعث آسٹریلیا یا نہ جانے کون سے ملک میں بہت سارے اونٹوں کو مار دیا گیا تھا اللہ نے اپنی اس مخلوق کو کیسے سپورٹ کیا کہ بڑے پیمانے میں آگ بھڑکی اور کافی لوگ جان سے گئے مطلب جو بھی ظلم کرے گا اللہ ضرور اس کی پکڑ کرے گا۔ ہمیں عبرت کی نگاہ رکھتے ہو ئے توبہ استغفار کرتے ہوئے اپنے روئیے،اخلاق اوراعمال بدلنے ہوں گے، رب چاہی کریں اور کسی کا کبھی حق نہ ماریں۔اپنی ذمہ داریوں کو اہمیت دیں اور انجام پر نظر رکھیں تاکہ ہم اللہ کی شدید پکڑ سے بچے رہیں اور اپنے رب کو راضی کر لیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں زمینی اور آسمانی آفات سے بچائے رکھے،ہمارے شر سے دوسرے محفوظ ہوں اور دوسروں کے شر سے اللہ پاک ہمیشہ ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین





































