
لطیف النساء
آج سوشل میڈیا کا ہی دور ہے یہ جتنا مؤثر ہےاتنا ہی خطرناک بھی،اسی لیے زمانے میں برائیاں جنگل کی آگ کی طرح تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ لوگ سوچے سمجھے بغیر ہر
بری بات،برا فیشن برے اخلاق اور روئیے یہاں تک کہ پیشے بھی اپنائےجا رہے ہیں۔ صحیح ہی توکہا ہے کسی نے کہ" کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا" لباس کسی ملک کی پہچان اور تہذیب کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
انگریزوں سے ہم آزادی تو ضرور حاصل کر چکے ہیں مگر ذہن ابھی تک ان کے چنگل میں اٹکے ہوئے ہیں۔ جب ہی تو ان کی زبان، ان کا لباس اورا سٹائل زیب و زینت اختیار کرنے کو فخر سمجھتے ہیں۔ہندوانہ تہذیب کے اثرات بھی ابھی تک جان سے چپکے ہوئے ہیں۔یہ سب کیوں ہے اورایسا کیا ہے؟سوچیں!ہماری تہذیب،ہمارا کلچر،ہمارا کردار اور مقصدِ حیات!اللہ اکبر!
سنا ہے ڈوب گئی بے حسی کے دریا میں
وہ قوم جس کو جہاں کا امیر ہونا تھا
ہماری پہچان بحیثیت مسلمان کیا ہے؟ایک راعی اور داعی ہونے کی حیثیت سےہماری ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیں؟انفارمیشن ٹیکنالوجی نے تو سوشل میڈیا کے ذریعے بے شمار علوم کے میدان کھولے ہیں۔کھیل، ثقافت، فلمیں، ڈرامے،معاشرت، معیشت،صحت اور نیچرل سائنس کے کئی میدان ہمارے سامنے ہیں۔جنگی،اصلاحی، بری، بحری، فضائی،دنیا کی الگ الگ وسعتیں اور عجوبات لمحوں میں آپ کے سامنے، کیسے کیسے جنگی ہتھیار ان کی تباہیاں اور فحاشی بے حیائی کے فتنے سب کچھ دکھاتا ہے!مگر سوشل میڈیا کا بھی ایک اہم اور مؤثر کردار ہے جو متاثر کن ضرور ہے۔ اس لیے ہمیں اس ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں اور مؤ ثر طریقے سے اپنانے اور دنیا کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا ہرلیول پر اسے اپنانا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔اپنی انفرادی،اجتماعی اور مشترکہ اعلیٰ نصب العین کے لیے، مؤثر تعمیری طریقے کے لیے، دنیا کے امن کے لیے اس پر دسترس رکھنا علم کے میدان میں ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ جب ہم فیشن،کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر سہولیات اور پرتعیش زندگی کے گر سیکھتے ہیں اور اس میں بھی چار ہاتھ آگے نکل جاتے ہیں تو اسی میڈیا کو ایک ہمہ جاتی ہتھیار کے طور پر اپنانے کی اشد ضرورت ہے، ٹیکنالوجی کا زہر اگر فضا کو آلودہ کر رہا ہے تو ہمیں اس کا اتنا مؤثر اور مثبت استعمال سیکھنا ہوگا جو تریاق بن جائے اس زہر کو جو معاشرے کا امن و سکون غارت کر رہا ہے اور زندگی کو خرافات اور لغو یات سے جوڑ رہا ہے۔
میڈیا کا منفی استعمال نہ کریں اور نہ ہی کرنے دیں پہلے تو خود ہی اس کے منفی اثرات سے دور رہیں اورمؤثر حکمت عملی اور منصوبہ بندی سے اس کی تعمیری اور مثبت راہیں نکالیں۔قوت کو اپنی صلاحیت کو کیش کریں،تعلیم و تعلم کے ساتھ ساتھ دین کے پیغام کی تبلیغ میں استعمال کریں۔
اسلام کے پیغام کو تعلیم کے مقصد کو سمجھتے ہوئے ہر فرد کو پہلے ایک اچھا مسلمان،باخلاق اوربا کردار بنائیں اور پھر انہیں انہی نوجوانوں کے لیے ان کی سائنسی ایجادات کو انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیےپرامن مقاصد کے لیےملک کی ترقی کے لیے،روزی روزگار کے لیے نیک نیتی کے ساتھ استعمال کریں کیونکہ ٹیکنالوجی کا درست، مؤثر، بامقصد اور پرامن استعمال ہی تہذیب ہے۔ جو اس ٹیکنالوجی کا اولین مقصد ہونا چاہیے۔
وقت کا درست استعمال، احساس ذمہ داری اورخداخوفی کے ساتھ کرنے کا نام ہی امن ہے جو ہر طرح کی برائی اور جنگ کے لیےڈھال ہے۔تہذیب توفلاح و بہبود کی متلاشی ہے نہ کہ مفلسی، بے بسی،بے کسی یا خوف کہ گھر کا پرامن پرسکون ہونا ضروری ہے جب گھروں میں سکون ہوگا تو محلہ معاشرہ بھی محفوظ اور پرامن ہوگا اور زندگی تمام لوگوں کے لیے خوش آئندہوگی،کوئی کسی سے ڈرے گا نہیں، ڈر خوف سے آزاد زندگی ہی پرامن اور سازگار ہوگی یہی تو دنیا کا امن ہے بس میڈیا تو وسیع تر مقاصد رکھتا ہے مگر اصل مقصد انسانیت اورامن عامہ ہے جس کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی کی تعلیم ہر لیول پر بڑھانی ہوگی تاکہ دنیا کی دوڑ میں آگے نکلیں مقابلہ کریں تاکہ کبھی کسی معاملے میں پچھتاوا نہ ہو۔





































