
لطیف النساء
شکر اللہ پاک کا ہم اس مرتبہ دورہ قرآن کررہے تھے تو مجھے یہ گتھی پہلی مرتبہ سمجھ آئی کہ مشکلات سے مقابلے کے دوہتھیار تلاوت قرآن اور نمازہیں!
سبحان اللہ!قرآن ہمارے لیےضابطۂ حیات اس کی تلاوت ایمان لانے کے بعد کتنی بڑی سعادت ہے؟قرآن کی زبان کو سیکھ کراُس کی تلاوت کرنا کتنا مسحورکن احساس ہوتا ہے؟جنہیں قرآن پڑھنا نہیں آتاانہیں بھی اللہ کے کلام کو" تلاوت قرآن" کوسننے میں بہت اچھالگتا ہے۔ قرآن کا موضوع ہی انسان ہے۔گویا یہ تو ہماری زندگی کی کیٹلاگ ہے،ضابطہ حیات ہے، طریقہ زندگی ہے،اس لیے اس کو پڑھنا سمجھنا،تدبر کرنا یعنی غورو فکر کرنا، اپنے عمل میں لانا گویا زندگی کے ہرمید ان عمل میں اس کو یعنی احکام الٰہٰی کو لاگو کرنےکی پوری کوشش کرنا اورپھر اس کو مزید آگے پھیلانا یعنی اس کے نفاذ کی پوری پوری کوشش کرنا ہی ہماری زندگی کا اولین مقصد ہے۔
دوسروں کو بھی اس پیغام الٰہیٰ کو پہنچانا اپنےعمل سے، کردار سے، بیان سے، جیسے بھی ممکن ہو۔اسی لیے بچوں کو شروع سے ہی ہم چھوٹی چھوٹی دعائیں سورتیں یاد کرواتے ہیں۔ ساری زندگی ہماری یہی کوشش ہونی چاہیے کہ خود بھی سیکھتےجائیں، سیکھاتے جائیں، عمل کرتے جائیں کہیں نہ رکیں، کبھی نہ رکیں، اتنی اہمیت دیں۔ پھر اس طرح دوسری چیز یا دوسرا بڑا ہتھیار جو مشکلات کا مقابلہ کرنے کو درکار ہے،وہ ہے ہماری" نماز" نماز فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے۔
فرمایا گیا قرآن میں کہ "تسبیح کرو اپنے رب کی" مطلب نماز ادا کرو۔ ایک جگہ فرمایا کہ ہم نے جن وانس کو اللہ کی عبادت کیلئے پیدا کیا ہے۔دن رات کے مختلف اوقات میں " اذان " گو یا اللہ کی پکار کہ "آؤ فلاح کی طرف آؤ نماز کی طرف "جبکہ انسان با ر بار بھول جاتا ہے، بھٹک جاتا ہے اور بہک جاتا ہے دنیا کی رنگینیوں میں، مگر جو اللہ کا ڈر رکھنے والے اور قرآن پر ایمان لانے والے یوم آخرت پر یقین رکھنے والے ہیں اور اپنے رب سے محبت کرنے والے ہیں انہیں نماز ہر وقت یاد رہتی ہے بلکہ مومنین اور محسنین تو نماز کے انتظار میں رہتے ہیں اور مزید نیکیاں سمیٹتے ہیں۔ اس سے انکے ماحول میں کیسے سکینت آ جاتی ہے؟ انکا جسم پاک، جگہ پاک، کپڑے پاک، خیالات پاک تو پھر ظاہر ہے ان کے اعمال بھی نیک اور صالح ہوں گے تو انھیں سکون ملے گا کہ ہمیں؟ غافل بنے بیٹھے ہوتے ہیں، تقریبات میں دیکھ لیں! شادی بیاہ میں دیکھ لیں تو بازاروں میں دیکھ لیں۔ کیسے لوگ مگن ہوتے ہیں نہ اوقات کی فکر نہ نماز کا اہتمام سوائے چندچنیدہ بندوں کے! مطلب کیسے ہمارے دل غافل ہو جاتے ہیں کہ ہمیں دھیان ہی نہیں جاتا کہ نماز بھی پڑھنی ہے! یا سستی کاہلی دیکھا کر ٹال دیتے ہیں قضاء پڑھ لیں گے؟
یہ بھی کتنی بڑی بھول ہے۔ ہمیں اگلے لمحے کا معلوم ہے زندگی کی مہلت ملے نہ ملے؟ اتنا ڈر لگا ایک مرتبہ مسجد کی بیرونی دیوار پر ایک تابوت رکھا تھا اور نیچے لکھا تھا کہ" نماز پڑھو اس سے پہلے کہ تمہاری نماز پڑھائی جائے" واقعی کتنی ہلا دینے والی بات ہے؟آج تو میڈیانے ہر چیز ہمارے سامنے کھول کر رکھ دی ہے۔ آئے دن ہونے والے واقعات دنیا کے مختلف مقامات پر اور" فلسطین کا طویل ترین قیامت صغرا ''! اللہ کی پناہ! اللہ جلداس نسل کشی کو بند کر دے آمین، ورنہ ان ظالموں نے جو قیامت ڈھائی ہے اور فلسطین کے بچے بچے نے جہاد کا پورا پورا حق ادا کیا ہے اور دنیا کیلئے اور خصوصاً مسلمانوں کیلئے نشانِ عبرت پیغام عبرت بنا ہے۔ اتنا سب کچھ دیکھ کر بھی ہماری توجہ رجوع الی اللہ نہیں ہے! کیوں ہماری نمازوں میں وہ خشوع و خضوع نہیں؟ دنیا میں ہی اس کی رعنائیوں میں ہی دل اٹکے ہوئے ہیں، ابا نے ایک مرتبہ اس شعر کا مطلب سمجھایا تھا آج حقیقت لگتا ہے۔ وقت اور حالات کے ساتھ بعض مرتبہ باتیں، حکمتیں سمجھ آتی ہیں۔ شعر تھا کہ:۔
میں جو سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمین سے آنے لگی صدا
تیرا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں؟
یعنی نماز میں بھی میرا دل اپنے صنم یعنی بنائے ہوئے بتوں، مال دولت، میڈیا، کاروبار، مرغوب عورتیں، عہدے، محلات، باغات، روپے پیسے اور نفسانی خواہشات میں پھنسا ہوتا ہے بظاہر میں نماز پڑھ رہاہوتا ہوں تو پھر بھلا ایسی نماز میں مجھے کیا ثواب ملے گا؟ بالکل ایسا ہی ہے جب نماز ہمیں فحاشی اوربرے کاموں سے نہ روک سکے تو اس نماز کا فائدہ ہی کیا؟
یہ سب باتیں ہمیں کیوں بار بار کلیک کرتی ہیں، گویا ہمارا دل سیلم فطرت لیےاب بھی بھلائی کی طرف مائل ہے مگرہم خود مائل نہیں۔ تقریباًیہی حال میرے ساتھیوں کا ہے،ورنہ تو ہر جگہ میرے وجود کی وجہ سے صفائی ستھرائی نیکی اور بھلائی ہی بھلائی نظر آئے۔ اے کاش! اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے اور ہم سنبھل جائیں، فلسطین کے لوگوں کے ایمان افروز واقعات دیکھ کر ہم اپنے روئیے درست کر لیں، برائیوں سے منہ موڑ کر نیکی پر آجائیں۔ حقوق العباد اور حقوق اللہ کی مکمل پاسداری کریں۔ اپنا ہی احتساب کریں۔ تو کل بڑھائیں ایمان بڑھائیں،ان دونوں ہتھیاروں کامؤثر اور بر وقت بلکہ ہر وقت استعمال کریں،پوری "امت مسلمہ " توکوئی وجہ نہیں کہ آج بھی ہمارے دل سکون پاجائیں اور روح کو چین ملے ٹھیک ہے نا؟




















