
لطیف النساء
یہ سیل فون، یہ میڈیا، یہ ٹیکنالوجی، یہ دنیا، یہ ترقی، یہ ترقی یافتہ ممالک اور یہ اسلامی ممالک!اور اللہ اکبر ان کے سربراہان!انھیں میں کیا نام دوں؟ یہ
خود کو پہچانیں! یہ کیوں اسلامی ممالک کے سربراہان بنے؟ کتنے اچھے خلیفۃ الارض اور کہاں گیا ان سب کا فرض؟ چھ ماہ ہونے کو آئے 31 ہزار مسلمان فلسطینی جان سے گئے تقریبا ًلاکھوں زخمی ہیں، مکان دکان بازار تو کیا ہسپتال اور قبرستان تک تباہ کردیئے گئے۔ کتنے بچے بمباری کر کے قیمہ بنا دیئے۔ ظالمو ں نے کتنے گھر اجاڑ دیے۔ دودھ پیتے بچوں کے آکسیجن اور انتہائی نگہداشت کے یونٹس تک کو تباہ کر دیا۔
حال ہی میں ایک ہسپتال کے تمام ڈاکٹرز کو اغواء کر لیا اور مریضوں کو بے یارو مددگاربغیر کسی دوا دارو کے تڑپنے کیلئے چھوڑ دیا گیا۔ کیا اسکا کوئی روکنے والا نہیں؟ معلوم نہیں کہاں سے ایک خاتون کی کلپ لگ گئی جو باقاعدہ نام لیکرعرب ممالک کے سربراہان کو لتاڑ رہی تھی کہ انہیں ذرا بھی شرم نہیں کہ وہ یوں اپنے مسلم ساتھیوں کوتنہا چھوڑ کر بے فکرکیسے بیٹھے ہیں؟ کیسے اتنے دنوں سے مظالم دیکھ رہے ہیں اور صرف زبانی کلامی باتیں، میٹینگیں اور مذاکرات تک بات رہ جاتی ہے۔ ساری دنیا کے غیر مسلم لوگ تک احتجاجی مظاہرے مسلسل کر رہے ہیں اور مسلم ملک کے سربراہان اور فوجی لیڈرزکیوں تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ میں تو پاکستان کی بھی بات کرتی ہوں کہ اب اور کونسا عمل کا وقت رہ جاتا ہے؟ کیا رمضان کا مقدس مہینہ بھی ہمارے پتھر دلوں کو نہ پگھلا سکا؟ ابھی تک انسانی حقوق کی تمام تنظیمیں فیل ہیں۔ بین الا قو می امن کے ادارے غیر فعال ہیں۔ ہم تو شروع سے ہی باخبر ہیں کہ یہودی ہمارے دوست ہو ہی نہیں سکتے تو پھر ہم کیوں چپ بیٹھے تماشا دیکھ رہے ہیں اور دیکھتے ہی جارہے ہیں!وہ خاتون بار بار کہہ رہی تھی شیم آن یو،شیم آن یو، ایکٹ ناؤ، ایکٹ ناؤ! کیا اب بھی ہماری آنکھیں نہیں کھلیں گی، ضمیر نہیں جاگیں گے؟ کیا ہمیں مرنا نہیں ہے؟ اپنے رب کو جواب نہیں دینا؟ کیا واپسی کو بالکل فراموشی کر بیٹھتے ہیں؟ دعا کے ساتھ دوا کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ جن کو اختیار ہے وہی انجان بن جائیں تو کیا یہ اس موقع پر منافقت والی بات نہ ہوئی؟آخر زندگیوں کا،موت کا اور تمام ترانسانیت کا مسئلہ ہے آپکے کردار اور ذمہ داری کا مسئلہ ہے،آپکے فرائض کی للکار ہے!کیا اب بھی نہ جاگو گے۔ شعلے جنہیں ہم بڑے آرام سے ہوا دینے کا موقع دے رہے ہیں لمحے میں ہمیں تمہیں سب کو اللہ نہ کرے آ لیں!خدارااحساس کیجئے! تماشا نہ بنا ئیے اور نہ بنیں، غیرت اور حمیت بھی کوئی چیز ہے۔
ہم مسلم جسد خاکی نہیں ایک دوسرے کے لئے؟ پھر اب کیوں سب کچھ بھول گئے۔ اپنی مشغولیات سےفرصت نہیں؟ سب سےاہم کام کہ بہتے ہوئے خون کو بند کرو جان بچاؤ،کہ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کی جان بچانے کے مترادف ہے! تو ہماری جان کیسے بچے گی؟ اور آن؟ اللہ اکبر! روزوں میں بھی بمباری، ہلاکتیں! بچے کتنے بچے بے ماں باپ کے یتیم اور ہم سب کو اپنی اپنی لگی ہے۔ کوئی سیاست تو کوئی سیاحت، کوئی زیارت تو کوئی عمرہ،افطار پارٹیاں، عید کی تیاریاں، اس کرب اور المناک موقع پر یہ سارے کام کیا ہمیں زیب دیتے ہیں، عبادات اپنی جگہ اس سے انکار نہیں بلکہ حقوق العباد بھی تو ہم پر فرض ہے اس کا حساب کب اور کیسے چکائیں گے؟ مجھے تو لگتا ہے۔ ان سب فلسطینی بچوں کی بد دعائیں ہماراسکون بھی غارت کر دینگی اور دنیا تو خیر ہے اورآخرت؟ اللہ نہ کرے وہ تو بڑی کامیابی ہے ہمیں تو آخرت کی کامیابی درکار ہے۔ تو اے میرے مسلم حکمرانوں اور بندوں کے لیڈروں آپکو اپنے فرائض سے غافل نہیں ہونا ہے۔ چھ مہینے گزر چکے ہزاروں لوگ گزر چکے اور گزر رہے ہیں ہم عملی اقدامات کب شروع کرینگے اور کب جنگ بند کروائیں گے؟ ان ضرورت مندوں، زخمیوں، بے گھروں، بھوکوں پیاسوں کو کب سکون پہنچائیں گے؟ سوچیں؟ انکی عید کیسی گزری ہوگی؟ انکے تو روزے اور تراویح کیسی تھی۔ اس دفعہ تو عید بھی سوگوار عید تھی۔
عید میں بھی اتنی مصروفیت، گرمی، طبعیت خراب، گھر میں یہی چلتا رہا شکر اللہ کا تمام فرائض انجام دیےگئے۔ سکون بھی سوچ سوچ کرغارت ہوتا رہا کہ عید کے دن بھی سینکڑوں جاں بحق ہو گئےاور مزید دل خراش خبریں سننے کوملیں کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ کے تین بیٹے اور تین چارپوتیوں کو گاڑی پر میزائیل مار کر شہید کر دیا گیا۔ کتنا ظالم اسرائیل ڈرپوک ہےجوبمباری اورمیزائیل کا سہارا لیتا ہے یہی تو اس کی کھلی شکست ہے۔ اس پر بھی اسی بہادر اسماعیل ہانیہ کی بہو کا ایمان کا لیول دیکھیں! اپنے شوہر اور بیٹوں کی موت کو دیکھتے ہوئے بھی رونے دھونے کے بجائے کہہ رہی ہے " تمہاری عید جنت میں ہوگی"تو ان کے مردوں کے حوصلے، ہمت جوانمردی کا کیا مقام ہوگا؟ اللہ اکبر! یہ ہوتا ہے مقصد حیات اور یہ ہوتی ہے شہادت! کسی نے عید پر کیا خوب لکھا ہے کہ واقعی اب کی مرتبہ عید پر چوڑیاں لڑکیوں اور عورتوں کو پہنانے کے بجائے مسلمان ممالک کے جرنیلوں، کرنلوں، لیڈروں اورعالمی امن کمیٹیوں کے علمبرداروں کو پہنانی چاہئے تھی وہ تو شاید اسے نہ سمجھیں مگر میں کہتی ہوں انہیں خدا سمجھے! پانچوں طرف سے عرب ممالک مل کر ایک ایسا حملہ کریں کہ کہیں کبھی انکی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأ ت نہ ہو! اللہ ہمیں شعور دے حکمت دے اور ہم مسلمانوں کی خاص طور پر فلسطنیوں کی بہترین مدد فرمائے، اللہ انکا حامی و ناصر بن جائے۔ ہمیں معاف فرمائے اور ہم سے راضی ہو جائے۔ آمین





































