
لطیف النساء
پہلی دفعہ مجھے معلوم ہوا کہ" نیتیں بڑی رکھنا "یہ صحابہ کرام اور اللہ والے علمائے کرام کی نفع بخش تجارت رہی ہے۔ پچپن سے سنا سنایا سمجھا کہ" تمام اعمال کا دارومدار
نیتوں پر ہے"۔ واقعی بچپن میں لاشعوری طور پر یاد کی گئی احادیث ہمیشہ یاد رہتی ہیں اور آہستہ آہستہ سمجھ بھی آتی ہیں اور الحمد للہ عمل میں بھی، بچپن سے ہمیں قرآن پڑھنا سیکھایا جاتا ہے لیکن مقاصد تلاوت قرآن بہت اچھی طرح سمجھائے نہیں جاتے۔ قرآن واقعی وہ کتاب ہے جس میں کسی شک شبہ کی گنجائش نہیں اور یہ تومتقیوں کیلئے ہدایت ہے، روشنی ہے، رہنما ہے۔ ہماری زندگی کا گزرتا ہر لمحہ ہمارا عمل ہی تو ہوتا ہے اورہمیں اس بات کا شعور بھی ہوتا ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ابن کثیر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ" نیت عمل سے زیادہ اہم ہوتی ہے" کیونکہ بالکل صحیح بات ہے بعض دفعہ عمل اتنے خالص نہیں ہوتے جتنی ہماری نیتیں خالص ہوتی ہیں۔ عمل درمیان سے رُک بھی جاتے ہیں تبدیل بھی ہوجاتے ہیں۔ جب ہم قرآن پڑھ رہے ہوتے ہیں تو ہمیں بہت سی باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ قرآن کی تلاوت کرنے سے پہلے ہمیں پاک صاف اور باوضو ہونا چاہئے تا کہ قر آن کو پکڑا جا سکے۔
ہماری خالص نیت ہو کہ یہ کلام الٰہی میں پڑھنے کیلئے اٹھا رہی ہوں لہٰذا میری کئی خواہشات اور نیتیں ہونی چاہئیں۔ ہماری اکثر مُدر سہ جب قرآن سیکھاتی ہیں تو تعوذ و تسمیہ ضروری قرار دیتی ہیں۔ اس لیے سب پڑھتے ہیں پھر وہ جو دعائیں کرتی ہیں ان میں بھی بڑی خوشی محسوس ہوتی ہے لہٰذا تلاوت قرآن کرتے وقت تعوذو تسمیہ کے بعد دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! اس قرآن کو میرے دل کی بہار،میرے سینے کانور اور میرے غم کو دور کرنے کا ذریعہ اور میری پریشانیوں سے نجات کا ذریعہ بنادے۔ آمین۔
ہمیں قرآن سے ہی ہدایت چاہیے تو ہماری نیت ہو کہ جب جب ہم قرآن کی تلاوت کریں تڑپ،طلب اور لگن کے ساتھ اللہ سے ہدایت مانگیں کیونکہ یہی تو متقیوں کیلئے ہدایت ہے کیونکہ مسلم میں ہے کہ"اے میرے بندوں!تم سب گمراہ ہو سوائے اسکے جس کو میں ہدایت دوں "لہٰذا مجھ سے ہی ہدایت طلب کرو تو میں تمہیں ہدایت عطا کرونگا۔ ہمیں اللہ سے ڈرو خوف کے ساتھ ساتھ ایک الگ سی محبت ہوتی ہے۔ اُسکے عطا کردہ انعامات کی وجہ سے ایک احساسِ شکر گزاری بھی ہوتا ہے تو واقعی قرآن کو اس لگن سے پڑھنا چاہئے کہ ہمیں اللہ کا قرب ملتا رہے اورہمیشہ یہ قرب بڑھتا رہے گویا ہمیں قرآن اس لیے پڑھنا چاہئے کہ ہمیں اللہ کا قرب ملتا رہے۔
حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ "تم اسکے ساتھ ہو جس سے تم محبت کرتے ہو"۔ اسطرح ہمارے ایمان میں اضافہ ہوتا رہے گا، ہمیں اسکی معرفت ملتی رہے گی اور اسطرح ہمیں عاجزی بھی نصیب ہو گی اور ہماری نیت ہوگی کہ ہمیں اس کی ہر وقت ضرورت ہے ہم اس کے ہی ہر ضرورت کیلئے محتاج ہیں اس کے بغیر گزارا نہیں ہے، گویا ہمارا مقصد اسکا فضل عظیم ملتا رہے اور ہم اس طرح اس کے خاص بندوں میں شامل ہوجائیں۔ ہر وقت اس کی فکر اس کی ہدایت یعنی قرآن کو پڑھنے سمجھنے، سیکھنے سیکھانے کا عمل جاری و ساری رہے تو ایک جڑا ؤ ایک طرح کا لگاؤ لگتا ہے جیسے رمضانوں میں ہم محسوس بھی کرتے ہیں تو خالی صرف رمضان میں بھی ایسا نہ ہو بلکہ ساری زندگی یہی احساس رہے اور ہم تلاوت صبح و شام یا کسی بھی وقت کرتے رہیں اپنے مقاصد کو لیے ہوئے توہی ہم اس سے جڑے رہتے ہیں اور شیطان سے بچتے رہتے ہیں ورنہ تو ہم ہر دم بھٹکتے رہتے ہیں جب یاد آتا ہے تو سوائے افسوس اور ندامت کے کچھ حاصل نہیں ہوتا احساس جرم لگتا ہے! اس طرح تو ہمارے دل سکون پاتے ہیں ورنہ کیسی بے چینی اور بے سکونی ہوتی ہے؟ گویا صحیح سنا ہے کہ بے شک دلوں کا اطمینان ذکر الٰہی میں ہے تو یہ ذکر الٰہی ہی تو قرآن کی شعوری تلاوت ہے!فکرآخرت کا ایک مضمون پڑھا تھا واقعی دل کو لگا کہ قرآن کے ہر لفظ پر دس نیکیاں ہیں لہٰذا ہماری نیت اور دعاہونی چاہئے کہ کئی دعائیں ہونی چاہئیں کہ ہر طرح کا اجرو ثواب ملے۔
یہ بات یاد رکھنا چاہئے کہ میری یہ تلاوتِ کلام آخرت میں میری سفارشی بنے اورمیں زیادہ نیکیاں سمیٹوں تاکہ دوزخ سے نجات نصیب ہو۔ اس کی تلاوت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ آپﷺنے فرمایا: قرآن پاک کی تلاوت کرتے جاؤ اور جنت کے درجات بلند حاصل کرتے جاؤ یعنی قیامت میں کہا جائیگا کہ اے قاری قرآن پڑھتے جاؤٹھہر ٹھہر کر اور بڑھتے جاؤبڑھتے جاؤ مطلب جنت کی سیڑھیاں چڑھتے جاؤ!سبحان اللہ کیا سودا ہے۔ قرآن تو جسموں کی روح کی شفا ہے ہمارے لئے رحمت الٰہی کا حصول ہے۔ قرآن تو رحمت اور شفا کیلئے نازل ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے والا بنادے۔ کیا خوبصورت حدیث ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ کہ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن کا علم سیکھے اور سیکھائے۔ سبحان اللہ! آج ہم میں کتنے لوگ قرآن والے ہیں، کتنا اچھا لگتا ہے لوگ مساجد جاتے ہیں، آتے ہیں، تراویح کیلئے جاتے ہیں۔ گھروں میں بچے مائیں، بہنیں اوربیٹیاں قرآن پڑھتی ہیں۔ رمضان واقعی رحمتوں کا مہینہ ہے کتنی خوشی اور سکون ملتا ہے،اللہ تعالیٰ ہماری نسلوں کو ایمان والا قرآن والا بنائے اور ہم اس قرآن کی تلاوت کے تمام مقاصد حاصل کریں۔آمین۔اللہ پاک فسلطینیوں کو دونوں جہانوں میں سرخرو فرمائیں۔ ان سے بھی ہم سب نے قرآن کے حقوق اور مقاصد تلاوت سیکھے ہیں۔ اللہ امت مسلمہ کو دین و دنیا کی بہترین کامیابی نصیب فرمائے۔ آمین





































