
لطیف النساء
لوگ دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں اُن کی باتیں رہ جاتی ہیں۔ بچپن میں چارلی چپلن کا پروگرام دیکھا کرتے تھے بہت زیادہ ہنستے تھے۔ کسی کو ہنسانا بھی کمال
ہے۔ وہ کافی بوڑھے ہو کر مر گئے لیکن ان کی حرکتیں، باتیں، سچائی اور تجربات کچھ نہ کچھ اثر رکھتے ہیں۔ کہتے تھے کہ:
۔ اس دنیا میں کچھ بھی ہمیشہ کیلئے نہیں ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے مسائل بھی۔
۔ بارش مجھے اسی لئے پسند ہے کہ اس میں چلنے سے کوئی میرے آنسو بھی نہیں دیکھ سکتا۔
۔ زندگی کا سب سے کھویا ہوا د ن تو وہ ہوتا ہے جس دن ہم ہنسے نہیں یعنی زندگی میں خوش رہیں، شکر کریں۔
۔ بقول چارلی کے دنیا کے چھ مشہور ڈاکٹر ہیں۔ سبحان اللہ ایساہی ہے۔
سورج ۔ آرام ۔ ورزش ۔ خوراک ۔عزت نفس ۔ دوست
اس لئے ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی کے ہر مرحلے پر ان سے جڑے رہیں اور صحت مند زندگی سے لطف اندوز رہیں۔ واقعی اللہ کی تخلیق ہمارے لئے کھلی آیات ہی تو ہیں
جیسے چاند کو دیکھو تو خدا کا حسن دیکھتا ہے۔ سورج کو دیکھو تو اللہ کی قدرت نظر آتی ہے۔ آئینہ دیکھنا گو یا اللہ کی بہترین تخلیق دیکھنے کے مترادف ہے! تو واقعی ہمیں یقین آجانا چاہیے کہ ہم سب اس دنیا میں ایک سیاح ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارا ٹریول ایجنٹ ہے جس نے بہت پہلے سے ہی ہمارے راستوں کی بکنگ کی ہے اور ہمارے لئے منزلوں کی نشان دہی کی ہے، بیشک اس لئے ہم اس پر بھروسہ کریں اور زندگی سے لطف اندوز ہوں کیونکہ زندگی بس ایک سفر ہی تو ہے لہٰذا آج زندہ رہو! کل نہیں ہو سکتا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ زندگی کو غنیمت جانو اور یہ ایک امانت ہے، اسکا اچھا استعمال کرو۔ اپنے تمام کام اور ذمہ داریاں بھر پور طریقے سے انجام دینے کی پوری پوری کوشش کروجن کی آنکھیں سجدوں میں جا کر اپنے رب کے آگے روتی ہیں تو وہ رب کریم کبھی بھی انہیں دنیا کے یا دنیا والوں کے سامنے رونے سے بچاتا ہے۔
غمگین رہنے کی ضرورت نہیں کیونکہ شیطان کے واروں میں سے ایک واریہ بھی ہے کہ وہ بندے کو نا خوش اور غمگین رکھتا ہے ہمیں ہر وقت، کسی بھی مشکل پریشانی یاغم میں، تکلیف میں اپنے اللہ تعالی سے ہی جڑ جانا چاہئے تاکہ وہ قدیر رب ہماری تکلیف دو رفرمائے کیونکہ تمھارا رب سب کچھ کر سکتا ہے۔ وہ دعا جو منہ سے نکلتے ہی قبولیت کے مراحل میں داخل ہوجاتی ہے وہ ٹوٹے ہوئے دل کے پکار اور دعا ہے۔ پھر تو جو مانگو عطا میں دیر نہیں ہوتی، چاہے وہ اسکے نصیب کا حصہ نہ ہو یعنی دعائیں تقدیر بدل دیتی ہیں۔
آج امت مسلمہ کی بے بسی دیکھ کر مخلص دلوں سے ٹوٹے دلوں سے یہی دعا نکلتی ہے کہ یا رب اس دنیا میں ہی قیامت صغریٰ ان بے رحموں کے ہاتھوں مزید نہ دیکھا! ان کی چالیں اُن پرہی پلٹ دے اور ہمارے فلسطینی مسلمانوں پر رحم فرما اور اس عالمی شر سے ایسی خیر نکال کہ آئندہ کبھی کہیں بھی جنگ نہ ہو، تباہی نہ ہو۔ آمین۔ یہ دنیایہ زندگی تومحبت کیلئے تھوڑی لگتی ہے پھر اس میں نفرتیں کیسی! اللہ پاک اپنے بھٹکے ہوئے بندوں کو حکمرانوں کو فوج کے سپہ سالاروں کو اور ہر سرکش بھٹکے ہوئے مجھ جیسے نسانوں کو راہ ہدایت دے اور اپنی رضا کیلئے چن لے۔آمین۔
اللہ پاک ہم آپ سے آپ کو ہی مانگتے ہیں آپکی محبت اور رضا چاہتے ہیں ہم بہت گنہگار اور دنیا پرستی میں گھر گئے ہیں۔ دین سے دور بلکہ بہت دور نکل گئے ہیں ہمیں تھام لے، ہم پر رحم فرما! اللہ پاک بس اب ہم میں یہ ظلم اور بربریت دیکھنے کا حوصلہ نہیں ہم اس مقدس رمضان میں روزے کی حالت میں تجھ سے ہدایت چاہتے ہیں، رحم چاہتے ہیں اپنی رحمت اور کرم کے دروازے ہم پر کھول دے۔ امت مسلمہ کو بیدار کر دے!اوراپنے مقصدِ حیات پر لگادے اور ہماری ڈولتی کشتی پار لگا دے۔ آمین یا رب العالمین





































