
لطیف النساء
بہت دنوں سے سوچ رہی تھی اس فتنے موبائل کے بارے میں جس نے مجھےجلا کر راکھ کر دیا ہے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں ہر وقت! لگتا ہے اس دجالی فتنے موبائل نے پورے
گھر والوں کو کیا ساری دنیا کے لوگوں کو اغوا کر لیا ہے۔ مائیں اسے شیطان کہتی ہیں مگر خود بھی اسی شیطان سے نہیں بچتیں بھائی اسے ضرورت کہتے ہیں۔ مانا بڑاہی کام آتا ہے مگر خود بھائی کو اکیلا کر گیا ہے یہ موبائل! نہ بہن نظر آتی نہ دیگر بھائی رشتہ دار!صرف میں ہوں میرا موبائل! اسی طرح بیوی اسے تو سوکن کہتی ہے کہ ہر وقت
لیے بیٹھے ہو!کبھی میری ہی توجہ سے سن لیا کریں۔ میں کہتی رہتی ہوں اور آپ ہاں ہاں کہ کر مجھے جلاتے رہتے ہیں زیادہ بولوں تو سختی سے کہتے ہیں تم بھی تو ہمہ وقت اس پر یعنی موبائل پر لگی رہتی ہو! بچے ماؤں کی گو دوں سے نکل کر موبائل کی گود میں آگئے ہیں۔ سکون سے موبائل سامنے ہو تو کھاپی لیتے ہیں نہ اماں کی فکر نہ ابا کا لحاظ! اوقت کی اسی ایجاد جس نے سب کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کیا ہے۔ مانا کے بہت سی ضروریات کا م تجارتی، کار وباری اورعلمی معاملات اس سے طے پاتے ہیں۔ وقت اور ضرورت پوری کرنے کے لیے چُپ چاپ یہ غلام بلا چوں وچراں آپ کا خادم بنا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے تو اکثر روٹھے لوگ عزیز دوست مخلص ساتھی سمجھتے ہیں۔ کچھ اپنا غصہ چھپانے کیلئے اس میں مصروف ہیں تو کوئی آنسو چھپانے کے لیے بھی اسے استعمال کرتا ہے تو کوئی کام سے جان چھڑانے اور وقت کاٹنے کیلئے حالانکہ سب کو معلوم ہے وقت کو کا ٹویانہ کا ٹو وہ تو برتنے کی چیز تھا بہت اہم چیز تھا آپکی زندگی تھا مگر آپ نے اس فتنے موبائل میں ضائع کر دیا اپنی توانائی بھی روپے پیسے بھی! اسکے علاوہ ہر وقت ایک خطرہ لئے پھرتے ہو!دیکھا نہیں موبائل کے چھیننے کے چکر میں کتنے زخمی اور کتنے ہلاک تک ہو چکے ہیں۔ مگر پھر بھی اس کا استعمال بڑھتا ہی جارہا ہے۔اسک ا ایک استعمال تو شادی بیاہ یا دیگر تقریبات میں دیکھنے جیسا ہوتا ہے جب کہیں لڑکے اور زیادہ تر لڑکیاں خود ارد گرد کے ماحول سے بے خبر یا با خبر بے باک طریقے سے عجیب غریب سیلفیاں بنا رہی ہوتی ہیں۔ عجیب عجیب پوزیز دے رہی ہوتی ہیں۔ کہتی ہیں یہ تو آئینہ بھی ہے اور عجوبہ لگتی ہیں۔ مگر آئینہ اُن کو دیکھایا تو برا مان گئے!! دوست نے اسی حسین خوبصورت فتنے کو رفیق اور رقیب جان کر مجھے یہ اشعار بھیجے ہیں نہ جانے کس نے لکھے ہیں مگر ہے بالکل بجا!
خطاؤں پر خطائیں ہیں موبائل پر نگاہیں ہیں
تلاوت نہ دعائیں ہیں، موبائل پر نگاہیں ہیں
یہ شب بھر جاگنے کی لَت محبت ہو نہیں سکتی!
یہ گمراہی کی راہیں ہیں، موبائل پر نگاہیں ہیں!
عجب دورِ فتن آیا کہ فکرِ غیر محرم میں
ہماری سب وفائیں ہیں، موبائل پر نگاہیں ہیں
پریشاں ہیں میرے بھائی پریشاں ہیں میری بہنیں
پریشاں میری مائیں ہیں، موبائل پر نگاہیں ہیں
بظاہر دین داری ہے لبوں پر دین کی باتیں
تہہِ دل میکدائیں ہیں، موبائل پر نگاہیں ہیں
یہ شوق بدنگاہی نے ہمیں بے حِس بنا ڈالا
مصیبت کی ہوائیں ہیں، موبائل پر نگاہیں ہیں
ہوانا احساس!بے حس لوگ!ہم لوگ! اللہ کی پناہ!یہ تو سزا ہے!
خدارا اس کا درست استعمال کریں۔کیونکہ آپ کو پتا ہے ناکہ انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے سائنسی ایجادات کا صحیح استعمال ٹیکنالوجی کہلاتا ہے۔ تو ہمیں اسکا صحیح استعمال کرنا چاہئے۔ ہمیں تو بسا اوقات ایسا لگتا ہے کہ ہم اس کا بے جا اور بلا ضرورت استعمال کر کے الٹا نقصان اٹھا رہے ہیں تہذیب اور اخلاقیات سے دور جارہے ہیں۔ یاد رکھیں ٹیکنالوجی اللہ کی مہربانی سے ہماری ایجاد ہے کسی بلاکی جادو بنی ہوئی ہے لیکن دراصل جادو یہ ٹیکنا لوجی نہیں بلکہ یہ جادو یا میجک تو ہم ہیں۔ ہم اس کے ہاتھ کا کھلونا نہ بنیں! بلکہ اس کا انسانیت کیلئے اسکی فلاح اور بہبود کیلئے مؤ ثر اور درست استعمال کر کے اپنی انسا نیت کا میجک دکھائیں تو بات ہے۔ کیوں ٹھیک کہانا؟





































