
لطیف النساء
کہتے ہیں پوری دنیا ایک گلوبل ولیج ہے۔جی ہاں ہے جبھی ہم تمام دنیا بھر کی چیزیں کھاتے پیتے انکا فیشن اپناتے۔ سستے یا مشہور کے چکر میں جگہ جگہ گھومتے۔بھات بھات
کی خاک چھانتے ہیں۔ کیوں؟ کچھ ہاتھ لگ جائے، کچھ فائدہ مل جائے۔ اپنااسٹیٹس اچھا ہو جائے! بس اسی چکر میں آج کل ٹیکنا لوجی نے سب کو ایک موبائل پر لاکھڑا کیا ہے۔ ہم اپنا زیادہ ترقیمتی وقت، صلاحیت، روپیہ پیسہ اس موبائیل اور اس سے جڑی ٹیکنا لوجی پر لگا کر سمجھتے ہیں کہ ہم تہذیبیں فتح کر رہے ہیں، ترقی کر رہے ہیں!ظاہر ہے لگتا ایسا ہی ہے مگر یہ حقیقت نہیں ہے۔
انسانی فلاح وبہبود کیلئے ٹیکنا لوجی کا صحیح استعمال ہی دراصل اچھی شخصی ٹیکنا لوجی ہے اور ہماری نظر میں یہی اخلاقیات اور انسانیت ہے۔آج برطانیہ، امریکہ، روس، چائنا، جرمنی نہ جانے کون کون سے ممالک ترقی یافتہ ٹیکنا لوجی بلکہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ ممالک کہلاتے ہیں۔
پوری دنیا میں کدھر کیا ہورہا ہے سب کو خبر ہے، سب مگر مصروف ہیں، عورت، مرد،بچہ بچہ اس ٹیکنالوجی کا اسیر ہے۔اتنا بڑا اسیر ہےکہ کے اس کےبغیر وہ بے چین ہے، بے کل ہے۔ تو پھر کل کیا ہوگا؟ اتنی ترقی کیا اتنے بڑے بڑے زہریلے اورخطرناک ہتھیار اور ان کا کھلے عام استعمال! اللہ کی پناہ!دیکھ لیں فلسطین کی حالت اور ترقی یافتہ دنیا کی تہذیبوں کی سستی، کاہلی،بزدلی اور بے بسی، ممالک تو ممالک یونائیٹڈ نیشن، انٹر نیشنل لاء، یورپین یونین، ولڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اگر یہ بڑے ادارے بھی اس درد ناک نسل کشی کو روک نہ سکے۔اپنا کردار نہ نبھا سکے۔جنگ نہ رکوا سکے تو ان تمام انسانی فلاح و بہبود کےبین الاقوامی اداروں کو تو بند ہو جانا چاہئے۔
انہیں شرم آنی چاہئے کہ ایک معمولی مسئلے کا حل نکالنے اور ایک آزاد ملک کو غلام بنانے اور انکی جانوں کو گنوانے میں بہتر کردار ہی ادا نہیں کر سکتے بلکہ تین، چار، پانچ مہینوں سے مسلسل روزانہ بموں کے ذریعے لوگوں کا قیمہ بنتے ہوئے دیکھیں اور ہاتھ نہ روکیں یہ کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ ہر بندہ سوال کر رہا ہے کہ نسل کشی کیوں جاری ہے؟ اسرائیل کیوں اتناچریہ اور داداگیر بنا جارہا ہے؟ باقی لوگ کیوں تماشائی ہیں چاہے وہ کوئی بھی تہذیب ہو،کوئی بھی علاقے، زبان اور مذہب کے لوگ ہوں۔اچھا اوربرا تو جانتے ہی ہونگے نا،پھر کیوں نہیں برائی کے خلاف ڈٹتے؟ میں تو اپنے ہی لوگوں سے کہتی ہوں تم کیسے مسلمان؟سب سے بہترین تہذیب ہماری، دین ہمارا، لائحہ عمل دستور ہمارا، ہم ایک نہیں دونہیں 57 اسلامی ممالک دنیا میں اتنی تہذیبیں ہیں مگر ہمارا مقابلہ سب سے ہے۔ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے ایک ہی اسلامی تہذیب کے علمبردار اتنے ڈرپوک اور بے بس کیوں؟ یہ تو ہمارے کردار کی،اخلاق کی، اتحاد کی بھائی چارے کی توہین ہے کہ ہم دنیا کی تہذیبوں کے آگے کیوں بے بس اور بے کس ہیں؟ تمام اسلامی ممالک اور میرے ہم وطن مسلم بھائیوں تمہیں تہذیبوں کی یہ جنگ ضرور جیتنی ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ زمین پر فساد نہ کرو اور جہاں فساد ہو رہا ہو اسے روکو! اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ تو ہم کیسے فساد د کو روکنے میں کامیاب نہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم خودکمزور پڑ گئے، دل سخت ضمیر مردہ ہوتے جارہے ہیں۔ اسلامی تہذیب سب کی مشترکہ ہے۔ مسلمان تو ایک جسم کی مانند ہونے چاہئیں نا؟ یہ کیا بات کہ ہم اپنے ہی بھائیوں کو نہتا چھوڑ دیں
۔ "یا شیخ اپنی دیکھ "! نفسا نفسی میں لگے ہیں۔ تمام تر کاموں کے ساتھ ساتھ ہمارا سب سے اہم کام ان تہذیبوں کی جنگ کو جیتنا ہے۔ہم سیاست، وکالت، کھیل تماشے اور دیگر خرافاتی کاموں میں لگے ہیں، مٹھائیاں کھا رہے ہیں!اور وہ ظالم نہتے بھوکے پیاسے بے بس مسلمانوں کو امدادی غذائی اشیاء کے بہانے اکٹھا کرکے بموں سے گولیوں سے بھون رہے ہیں اور سوائے چند با ضمیر لوگوں کے جو احتجاج کر رہے ہیں انہیں غیرت دلارہے ہیں اور دکھی انسانیت کی مدد کرنا چاہ رہے ہیں۔ باقی اصل کر نے والے تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ کچھ تو شرم پکڑیں! کچھ تو کردار نبھائیں، معصوم بچوں بے کسوں بے بسوں کی فریادیں خالی نہ جائینگی، ڈرو زمینی اور آسمانی آفات سے، اللہ نہ کرے عذاب نازل ہو! حالات کبھی یکساں نہیں رہتے مگر اپنا اثر ضروردیکھاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا کہ لوگوں سے اپنا شر روک لو(یعنی انہیں تکلیف نہ دو) یہ تمھاری طرف سے خود تمھارے لیے صدقہ ہے۔ کیا ہم ظلم دیکھ کر اس کو روک نہیں رہے۔
کمزور بے بس ہمیں مدد کیلئے بلا رہے ہیں!تو چاہے ہلکی ہو یا بھاری ہمیں مدد کرنی چاہئے نا۔ پہلا اولین کام زندگیاں بچانا ہے کہ نہیں، وہ بھی اپنے مسلم بھائیوں بہنوں کی! پھر ہمیں کیسے عزت ملے گی؟ کیسے جنت ملے گی؟ کیسے اللہ کی رضا ملے گی؟ عزت دنیا کے شاباشی دینے کا نام نہیں ہے اور نہ ہی عزت وہ ہے کہ جسے دنیا دیکھ کر واہ واہ کرے بلکہ عزت تو ہمارے لئے اپنے ضمیر کو مطمئین کرنے کا نام ہے۔ اپنے اعمال کا جائزہ لیں ہم تو خود بے ایمانیوں سے اپنی ہی لوگوں کو لوٹ کر اذیت دے رہے ہیں، بچانا تو دور کی بات ہے!صرف اللہ پاک ہی دکھی دلوں کی خاموش پکار سنتا ہے، عمل دیکھتا ہے! تو کیا ہم عزت چاہتے ہیں؟ مطمئین رہنا چاہتے ہیں؟ تہذیبوں کی جنگ جیتنا چاہتے ہیں؟ تو ہمیں یکسر اپنا عمل بدلنا ہوگا، ضمیر جگانا ہوگا۔ ایمان بڑھانا ہوگا اور رب کی ماننی ہوگی۔ رب چاہی کرنی ہوگی، اللہ تعالیٰ ہمیں چن لے۔ آمین!مگر طلب،تڑپ،لگن تو ہو۔ اللہ اس رمضان میں ہمیں ہر طرح سے دلوں کو اطمینان اتنادے کہ ہمارے تمام غموں کا مداوا ہو جائے۔
اے خدا میری دعاؤں میں وہ اثر کردے
میں مانگوں قطرہ تو سمندر کردے





































