
لطیف النساء
روزہ روح کی غذا، یہ وہ واحد عبادت ہے جس کا احساس ہر روزہ دار کوبارہ پندرہ گھنٹےبغیرکچھ کھائےپیئے خود سے ہونے لگتا ہے۔اگر چہ شروع کےچندروزوں کےگزرنے
کے ساتھ ساتھ اس کااحساس کم ہو جاتا ہے،مگر اگر سحری نہ کی جائے تو بھوک پیاس کا احساس دوچند ہوجاتا ہےاور بندہ لاغرہو کرکسی کام کا نہیں رہتا! گویا روزے سے ہی ایک بندے کو دوسرے بھوکے پیاسے بندے کی تکلیف کا احساس ہوتا ہے اوریہ احساس کتناہی تکلیف دہ ہوجاتا ہےجب کوئی دیکھے کہ مسلسل کچھ بندوں کے پاس کھانے پینےکا انتظام ہی نہیں۔ وسائل ہی نہیں، ڈر و خوف کا عالم الگ ہے۔
رشتوں کے کھونے کا غم الگ اورزخموں کی تکلیف، بے آرامی اور بے بستری کی اذیت مزید جان لیوا ہے۔آج دنیا میں قیامت صغریٰ مچی ہوئی ہےاورطاغوتی طاقتیں، مصنوعی قلت، آب وخوراک سے قحط سالی پیدا کر کےبندوں کا شکا رکررہی ہے،بھوکوں پیاسوں نہتوں کو جانوروں کی طرح چارہ دینےیعنی امداد دینےکےبہانے بلا کر ان پر بمباری کر رہی ہے! اللہ اکبر! اتنا بڑاظلم اس سےتو شیطان بھی پناہ مانگے۔ کچھ حرکات ادھربھی ایسی ہوتی جا رہی ہیں! اس سے بھی امت مسلمہ بجائےاپنا مؤثر رول نبھانےکے پوچھ رہی ہے کہ کیاغزہ میں قلتِ غذاء یعنی قحط کی وجہ سے جو اموات ہو رہی ہیں امت مسلمہ گناہ گارہوگی؟
افسوس صد افسوس! آج ہی "انٹرنیشنل یونین آف مسلم اسکالرز "کے ڈاکٹر علی قرہ داغی کا بیان آیا ہے کہ پوری کی پوری امت گناہگار ہوگی اور اس سے اس قلت غذا کے سبب ہونے والی اموات کے بارے میں قیامت کے دن ضرور پوچھا جائے گا! کیونکہ مسلمان پر ہر مسلمان کی مدد کا حق ہے اور اس پر کئی احادیث مبارکہ موجود ہیں گویا ہر وہ شخص جس کے پاس اہل غزہ کو امداد پہنچانے کی طاقت اور قدرت ہے اور پھر بھی وہ مدد نہ کرے امداد نہ پہنچائے۔ وہ اللہ رب العزت کے حضور قیامت کے دن ضرور جو اب دہ ہوگا کیونکہ وہ گنا ہ گار ہو گالہٰذا میرے عزیز ساتھیوں آج ہی اپنا اہم فریضہ نبھاؤ۔ آج پوری امت مسلمہ ملوث ہے،ہر طرح سے ہر لیول پر چاہے ہلکے ہو یا بھاری! اپنی استطاعت سے بڑھ کر ان نہتے فلسطینیوں کی مدد کرو یہ ہم اور آپ سب پر فرض عین ہے۔
کیا ہم تماشائی بنے رہیں؟ کیسے ہمارے روزے اور کیسا ہمارا تقویٰ؟ اب کی بار تو عید کے تمام لوازمات اور اپنی بھر پورافطاریوں کو سمیٹ کران مستحق لوگوں کی بھر پورمدد فرمائیں۔ اس دعا کے ساتھ کہ اللہ پاک قبول و مقبول فرمائے اور انھیں ہر طرح کا سکون عطا فرمائے۔ آمین اور ساتھ ساتھ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے بم دھماکوں سے ہونے والی اموات کو بند کروانے کیلئے جلد از جلد عملی اقدامات کریں۔ خدا را حکمران طبقہ متوجہ ہو!اے اہل امت کے حکمرانوں!اپنی ذمہ داریاں کب نبھاؤ گے؟ کیا ان بے کسوں، مجبوروں، زخمیوں کی مدد نہ کرو گے جو بڑی حوصلہ مندی صبر و استقامت کے ساتھ اپنا فرض کفایہ نبھارہے ہیں حالانکہ یہ تو ہم سب پر فرض عین ہے پھر بھی ہم ان کے ہاتھ مضبوط نہ کر کے جرم کر رہے ہیں۔ کیوں ہمار ے دل سخت ہوتے جا رہے ہیں؟اپنی زندگی کے ان مستعارلمحات کو امربناؤ! دکھی انسا نیت کی مدد کر و! عوام توشروع سے منتظر ہے اور چاہ رہی ہے۔
جوسورہے ہیں وہ تو اپنی دنیا و آخرت کھورہے ہیں۔ پلیز پلیز! جاگو اور جاگو، اپنی آخرت بناؤ،یہ دنیا کی زندگی تو واقعی کھیل تماشا ہے ہی مگر ظالموں کے ہاتھوں انہیں تماشا نہ بناؤ۔ مزید ظالموں کو موقع نہ دو۔ شیطان کو تو رمضان میں بند کر دیا جاتا ہے۔ پھر یہ ہمارے اندر کا انسان کیسے مر رہا ہے؟ضمیر جگاؤ۔ اللہ کے غضب سے اپنے آپ کو بچاؤ، زمین اور آسمانی آفات جہاں تاک رہی ہیں ہمیں تنبیہہ اور آگہی دے رہی ہیں اور ہم ہیں کہ اب بھی غفلت میں ہیں! اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھو، بچپن سے نہیں سنا کہ "ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا" اپنے لئے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں! مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں نا، کتنے بچے مر رہے ہیں؟ یہ سب ہمارے ہیں۔ مجھے بچپن میں ہرتان دیپک دیکھ کر یہ گانا متاثر کرتا تھا۔ یقین جانئے اس وقت تقریبا ًہر ہفتے اس گانے کا اعادہ کیا جاتا تھا تو آہستہ آہستہ آج سمجھ آیا ہے کہ:۔
تم اپنی خوشی قربان کرو، ان کے سکھ کا سامان کرو
یہ گھرکے ستارے سکھی رہیں، تم ماں ہو تمہیں دکھ سہنا ہے
تم قوم کی ماں ہو سوچو ذرا! عورت سے ہمیں یہ کہنا ہے





































