
لطیف النساء
اللہ تعالیٰ کے رسولؐ نےجو نشانیاں بتائی تھیں وہ واقعی نظرآنے لگی ہیں۔ یہ اس وقت کی بات تھی جب فلسطین کےمسلمانوں کا ذکر تک نہ تھا بس صرف اتنا
کہا تھا کہ ایک وقت وہ ہوگا کہ سچے پکےمومن ہوں گے۔ ہرآنے والےدن فیصلے کےدن سےہمیں کس قدر قریب کرتا جارہا ہے!آنے والےواقعات، فلسطین کے ناقابلِ برداشت حالات، زمینی آسمانی آفات یہ سب ہمیں کتنا ہراساں کر رہے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا تھا کہ ایک بہت ہی تباہ کن جنگ ہوگی جہاں لوگ جان دے رہے ہوں گےجوق درجوق شہیدہورہے ہوں گے۔ یہ یہودی اور ایمان والوں کےدرمیان ایک جنگ ہوگی جس سےلوگوں میں فرق نظرآئےگا سچے پکےمسلمان جوق درجوق شہید ہوں گےلوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ؐ وہ لوگ کہاں ہوں گے؟ آپ ؐ نے فرمایا یہ بیت المقدس مسجد اقصیٰ کے اردگرد یعنی چاروں طرف ہوں گے۔
آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مہینوں سے وہاں کیا ہورہا ہے؟ یہی سب کچھ تو ہو رہا ہے! بلکہ برسوں سے ہورہا ہے تو سمجھو کہ جو کچھ آپؐ نے فرمایا وہ ہو کر رہے گا۔ انشاء اللہ! آپؐ کا ہر قول پورا ہوگا۔ کوئی گھر ایسا نہ ہوگا، جہاں اللہ کا کلام نہ داخل ہوگا! انشاء اللہ! ایسے سچے اورپکے مسلمانوں یعنی ایمان والے اپنی قربانیوں کا انعام پائیں گے،شرمیں سے خیرنکلےگی۔ ہمیں بہت خبردارہو کررہنا ہوگا کیونکہ جوحق کا ساتھی نہ بنے جو پیسہ پیسہ میں لگا رہے، یعنی مسلمانوں کا ساتھ نہ دے، غلطیوں کو نہ چھوڑیں،گناہوں سے بعض نہ آئے تو یہ دور اور اسکی دجالی حرکات بڑھتی جائیں گی اور لوگ سمجھ ہی نہ سکیں گے کہ کس طرح ہم تقویٰ پر جمے رہیں؟ اکابرین مبلغ مفکر اسلام جن پر ہمیں اعتماد ہوتا جائے۔ غفلت کے ساتھ اب نہیں رہنا جو سچے مفکر جو اللہ کی بات مانیں شریعت پر چلیں، ان میں استقامت پائی جائے اب ان کے ساتھ چلنا ہے۔
زمانے میں غفلت کے ساتھ زندگی گزارنے والوں کے ساتھ نہیں چلنا۔ اللہ اور رسولؐ کی منشا پر چلنے والے، جن کو دنیا نے مانا ہے ان کے ساتھ چلنا ہے۔ ویب سائٹس کو پرکھنا ہے۔ ہمارے نوجوان بجائے علماء کے سوشل میڈیا سے جوابات لےکرمزید الجھ جاتے ہیں مگر کنفیوز رہتے ہیں۔ ظاہر ہے بیماری کیلئے ڈاکٹر اور فیصلے کیلئے جب وکیل کے پاس جایا جاتا ہے تو ظاہر ہے مسائل کے حل کیلئے ہمیں اپنے اکابرین اورعلماء دین کے پاس چانا چاہئے! قیامت کی نشانیاں،عرب کے لوگ کس طرح مشرکین سے دوستیاں بڑھارہے ہیں اور مشرکانہ حرکات، بت پرستی عام ہوتی کیوں جا رہی ہے؟ دنیا کی حیرانی کی وجہ یہ ہے کہ انہیں آپؐ کے بیان اور آنے والی ان علامات کا علم ہی نہیں جنہیں آپؐ آخرت کےآنے والی نشانیوں میں بتا چکے ہیں۔
ہمیں تو اپنے ہی نقصان پہنچا رہے ہیں ہم خود اپنے ہی دشمن بن رہے ہیں لا علم رہ کر، دین سے دوری اختیار کرکے جب ہم شریعت کو پڑھیں گے، آپؐ کی اطاعت کرینگے۔ دین کا تفصیلی علم حاصل کرنے جائینگے تو ہمارا ایمان مضبوط ہوگا، تقویٰ حاصل ہوگا، رب کے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا اور دجال کے فتنے سے بچیں گے انشاء اللہ۔ مخالف باتوں اور خرافات جو دنیا میں بڑھتے جارہے ہیں ان کی حقیقت اور فیصلے کے دن کی علامات خود بخود نظر آنے لگیں گی تو گویا ہمیں ہر لمحہ گزشتہ لمحے سےبہتر بنا کر جینا ہےاوردین پرعمل پیرا ہونا ہے، استقامت دکھانی ہے،چاہےجان جائے ایمان نہ جائے۔ آج فلسطین کی مثال ہمارے لئے دعوت فکر و عمل ہے اور احساس کی بیداری اور ضمیر کا جھنجوڑنا ہے۔ اگر آج بھی ہم نے سچی توبہ کرکے اپنے گناہوں سے بچتے بچاتے احکامِ الٰہی کے مطابق زندگی نہ گزاری تو سمجھو اللہ نہ کرے ہم بھی دجال کے ساتھی بن گئے لہٰذا برائی کوجڑسے ختم کرتے رہو، شریعت پر چلتے رہو۔
مہلت زندگی بہت کم ہے کام بہت زیادہ، آخرت کا زمانہ ہے۔ جیسے جیسے واقعات ہورہے ہیں فلسطینیوں کے جہاد کے باوجود کیسے یہودیوں کا ظلم اور مسلمانوں کی بے حسی، عربوں کی خرافاتی، گمراہی ڈنکے کی چوٹ پر مندروں سے دلچسپی ہم سب کیلئے الارمینگ نہیں تو اور کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت دے اور ہم زندگی کو مؤثر اور با مقصد بنائیں نہ کہ اس امانت کے بھی خائین نہ بن جائیں؟ لہٰذا فکرِ آخرت لازمی پکڑیں۔
لط




















