
لطیف النساء
دنیا کا جدید ترین اورامیر ترین ملک دبئی آج کل سب کی زبان پرآیا ہوا ہے۔دبئی میں کوئی سمندرنہیں اس کا اپنا پانی نہیں بلکہ
پانی تک امپورٹ کیاجاتا ہےمگر دنیا میں اس قدر بلند وبالا عمارات اورتفریحی مقامات کیلئےپوری دنیا میں مشہورہی ہوا جا رہا ہے۔ پچھلے دنوں دبئی سعودی عرب کی سرزمین گویا صحرائی زمین پرجنگل میں منگل بنانےکا انتظام کرانے جا رہا تھا۔
نیون سٹی نام کا ایک ایسا منصوبہ جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہرطرح کی سہولیات بمع خرافات لوگوں کو دعوت خرافات دینے جارہا تھا اوربقول میری پھوپھی ساس کےجو امریکہ میں کئی برسوں رہیں،مر حومہ کواللہ جنت نصیب فرمائے آمین۔
کہتی تھیں کہ یہاں لوگوں کو سرپرائزدینےکی عادت ہے۔ کوئی چیز دوسروں کو نہیں دیکھا تے،چھپاتے ہیں۔ کپڑے، گاڑی، جوتے، فون، مکان، دکان، کاروباریہاں تک کہ نئے ہونے والے رشتے بھی سرپرائزرکھے جاتے ہیں اور پھراچانک سےبھانڈا پھوٹتا ہے۔۔۔۔ یہی حال دبئی کا ہے۔ یہاں جا کر دیکھو تو ایک سے ایک گاڑی، مکان، مالز، شاپنگ سینٹرز اور مصنوعی تالاب اور فوارے، میوزیکل فاؤنٹین،برج خلیفہ نہ جانے کیا کیا! دیکھنے والے کو بھی حیران کردے۔ ہر جگہ واقعی لوگوں کے اسٹائل انداز، رہن سہن اتنے مختلف کہ حد ہےوہاں تو اتنی گرمی تھی کہ میں سوچتی تھی کہ لوگ یہاں کیسے رہتے ہوں گے؟ جگہ جگہ ائیر کنڈیشن، گاڑی،مکان، دکان،ہوٹلز، مالزکہیں بھی اس کے بغیر گزارہ نہیں مگر پھربھی میں نے دیکھا بچے روڈوں پر کھیلتے ہیں۔ مزدورکام کر رہے ہوتے ہیں۔
سڑکیں اتنی بڑی بڑی اورگاڑیوں کی وہ بھی مہنگی ترین گاڑیوں کی قطاریں تا حد نظر! دیکھ کرہی حیرت ہوتی ہے۔ ہوٹل میں کھانا کھانا اتنا مہنگا کہ صرف امراء ہی کا کام ہے۔ اس لحاظ سے ان کی شان و شوکت! مخصوص آمدنی والوں کوہی فیملی ویزابھی ملتا ہے، ورنہ وہ بھی اکیلے بنا فیملی کےرہنے پرمجبور ہوتے ہیں۔ بہرحال اس جدید ترین ملک جوہمارا اسلامی ملک ہے،آج قدرتی بارشوں کی زد میں ہے۔واقعی قدرت کیا کیا رنگ دکھاتی ہے! کبھی کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ ایک دن میں اتنی بارش ہوگی! کہ پوا دبئی ڈبوگئی، ایک کلپ دیکھا لوگ گاڑیوں کی چھتوں پربیٹھے ہیں جان بچانے کیلئے۔ مالز، شاپنگ سینٹرز،گراؤنڈ فلور کے تمام مکانوں تک میں پانی بھراہے۔ اسکولز،کالجز، یونیورسٹیز سب بند پڑے ہیں۔نکاسی آب کا کوئی اتنا اچھا نظام ہی نہیں۔ سڑکیں تالاب ندی نالے بنی ہوئی ہیں توائرپورٹس بھی تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ میں سمجھی یہ پلاسٹک کی تھیلیاں ہیں! معلوم ہوا نہیں یہ سڑکوں پر قیمتی ترین گاڑیاں ہیں جو تیررہی ہیں اوربعض الٹ پلٹ رہی ہیں اورائیر پورٹ پرتو کئی جہاز تیررہے ہیں۔
اف اللہ کی پناہ! یہ کیسا رنگ!عمان کےمقابلے جانی نقصان بےشک کم ہوا ہے اللہ کا شکر،مگر مالی نقصان کا اندازہ لگانا بڑاہی مشکل ہے۔ وہاں تو انشورڈ گاڑیاں ہوتی ہیں ظاہرہے اتنی مہنگی گاڑیاں لینا ہرکسی کے بس کی بات بھی نہیں تواب انشورنس والے حضرات تو کوڑیوں کے ہوگئے۔
مقام عبرت ہے! ہم سب مسلمانوں کیلئے! انسان کتنی ہی مادی ترقی کرلےاورکتنا ہی اوپراڑجائےآنا اسے زمین پرہی ہے۔ سامان سوبرس کا ہے پل کی خبرنہیں کتنے منصوبے بناتا ہےبندہ۔۔۔۔ مگر فطرت کے خلاف نہ جائے،رات کو رات رہنے دے، دن کو دن، فطرت میں بگاڑ براہے،فطرت قدرتی رنگ یں ہےاور قدرت کےرنگ ہی کا ہمیں حکم ہے کہ" صبغۃ اللہ " اللہ کا رنگ اختیارکرو کیونکہ اللہ کے رنگ سے بڑھ کر کوئی پکا رنگ نہیں! مگرہم بھول جاتے ہیں۔
ہمیں دعائیں سکھائی گئی ہیں۔ قدرتی آفات سے بچنے کیلئےاورہرسال ہر جگہ دنیا میں کہیں نہ کہیں ایسےرنگ انوکھے رنگ نظر آتے ہیں کہ اس کے آگے انسان کی تمام ترقیاں فیل ہیں۔انسان بے بس اور بے کس ہے،اسے اس کا شعور ہےمگر ہم جیسے غافل انسان ہردفعہ ان قدرتی آفات گویا اللہ کی قدرت کے رنگ دیکھ کر ششدر رہ جاتا ہے۔ خود سے ہی احساس ہونے لگتا ہے کہ اللہ تو مہر بان ہے ہی ہمیں اس کا کتناہی قدردان ہونا چاہیے۔یقین کی وہ حد جہاں ہمارا عمل بدل جائے۔ اللہ کو تو وہ عمل گویا عملِ صالح درکارہیں۔ قدرت کے یہ رنگ الہامی اشارے ہیں،وہ عیدیں ہیں،خبر داریاں ہیں،کہیں جنگلوں میں آگ لگ جاتی ہے،جو انسانی دسترس سےباہرجلا کرسب خاک کر دیتی ہیں۔ اسی طرح زلزلے،آندھی، طوفان، ٹارنیڈو وغیرہ یہ سب قدرتی آفات کہلاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو قدرتی آفات سےبچائے رکھے آمین لیکن ایسے قدرت کے ایسے غضبناک مناظر دیکھ کرہمیں اپنی کوتاہیوں،غلطیوں اور لغزشوں کا اندازہ ہونے لگتا ہے، اُس کی پکڑ بڑی شدید ہے۔ کروڑوں کو کوڑیوں والا بنا دیتی ہے۔
ہم سب کو اپنا احتساب کرنا ہوگا اوردبئی کےلوگوں کی ہر حال میں مدد بھی کرنی ہوگی۔ اُن کیلئے بھی دعائیں کریں جیسے بھی ممکن ہو ان کی مدد کریں اور اپنے رویئے بھی درست کریں۔ اللہ نہ کرے کہ ایسی بارشیں یا کوئی اورصور ت حال کسی اور کے ساتھ کسی دوسرے ملک کے ساتھ پیش آئے۔ حادثات بھی ایک بہت بڑا پیغامِ اصلاح ہوتے ہیں اوراس طرح کی قدرتی تبدیلیاں بھی ہمارے لئے آگاہی ہوتی ہے۔
حدود اللہ میں رہ کرہی کام کرنے چاہئیں اورایمان لانےکےبعد اللہ ہی کی ماننی چاہئے۔کہنے کو ہمارابھی اسلامی ملک ہےمگر میڈیاجو معاشرہ دیکھا رہا ہے اور جسے لوگ بھی فالوکر رہے ہیں وہ بھی بہت تشویش ناک حد تک بگڑتا جا رہا ہے۔ سچی توبہ اوراستغفار کرتے ہوئے ہم سب مسلمانوں کو حقوق اللہ اور حقوق العباد نبھانے کی ضرورت ہے۔ اتحاد کی ضرورت ہے۔ انسان بچ نہیں سکتا خود کہتا ہے:۔
تیرے رنگ رنگ تیرے رنگ رنگ تیرے رنگ رنگ تیرے رنگ رنگ!
میں جہاں بھی جاؤ ں دنیا میں تیرے جلوے میرے سنگ سنگ
ایسا ہی ہےاس گلوبل ولیج میں ہم کتنی حقیقتیں دیکھتے ہیں مگر مثبت عمل نہیں کرتے۔ اللہ سےدعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ٹیکنالوجی کی ایسی ترقی اورخرافاتی تعمیرات، تقریبات اورتفریحات سےبچائے جوہمیں عذاب الہٰی سے بچائے اور ہم ہمیشہ اللہ کی ناراضی سے بچے رہیں۔ مقصد زندگی کو ہر لمحہ یاد رکھیں کہ یہ زندگی امانت ہے موت کی اور موت تو برحق ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔ آمین





































