
لطیف النساء
اللہ تعالیٰ کی تقسیم پر راضی رہنا اور پوری دیانت سے اپنا کام کرنا،محنت کرنا،دوسروں کیلئے گھر بنانا، پتھرتوڑنا، اینٹیں اٹھانا، چھتیں ڈالنا اور جب چھت
ڈالی جاتی ہے تو کیسے چیونٹیوں کی طرح مزدور تیزی تیزی سے چند گھنٹوں میں کتنا سارا کام کیسےمنظم انداز میں کرتے ہیں؟باوجود مشینری کے ان کا اپنا تو ایک الگ ہی رنگ نظر آتا ہےجس سے سب حیران ہوتے ہیں۔
شور، دھواں، مٹی کسی چیز کی پروا نہیں ہوتی بس کام ہی کام! کتنی تعمیرات ہیں،بلڈینگیں تو بنتی ہی جا رہی ہیں۔ یہ تو ایک جز ہے ہر جگہ ہر وقت کوئی نہ کوئی کاریگر لگا رہتا ہے۔ رنگ وروغن سے، پلستر،ویلڈنگ،الیکٹرک کا کام پھر زمین کی گھسائی، نل پانی، باغیچہ، گاڑی، ٹھیلہ، رکشہ، بس، دکان کی صفائی ستھرائی، سجاوٹ ،روزانہ سامان کا ترتیب دینا، باہر نکالنا،لگانا، پھر رات واپس سیٹ کرنا۔ اسی طرح گھروں میں مالی سے لے کر ڈرائیور حضرات ،ماسیاں اور کھانا پکانے، جھاڑو پوچھہ کرنے والے اور والیاں سب کی سب مزدور پیشہ ہیں۔ ہم عموماً تعمیراتی کام کرنے والے کوہی مزدور گرانتے ہیں مگر در اصل ہر وہ بندہ جو اپنا مخصوص کام روزانہ کرتا ہے اوروہی اس کا ذریعہ معاش ہوتا ہے وہ مزدور ہی ہے۔ کل صبح نو بجے معمول کے مطابق بیل بجی دروازہ کھولا! تو جمعدارنی سیڑھیوں پر بیٹھی کچرے کیلئے اور چائے کیلئے انتظار کررہی تھی اور جھاڑو پوچھے والی بھی پیچھے کھڑی تھی اگر چہ میں اسے پچھلے مہینے بتا چکی تھی کہ تمہاری پہلی مئی کوچھٹی ہے مگر وہ بھول گئی مجھے اسے دیکھ کر تھوڑا افسوس بھی ہوا کہ بے چاری کتنی مصروف ہے ، اسے دوسرے لوگوں نے کیوں نہیں بتایا؟ وہ خود بھی لا پروا معمول کےمطابق چلی آئی۔
میں نے کہا آج چھٹی ہے جاؤ گھرواپس کہیں نہیں جانا سب کی چھٹی ہے۔ خاصی خوش ہوئی مگر فوراًہی کہنے لگی سامنے والی کو نہ بتانا کہ میں آئی تھی میں نے کہا تم کہہ دینا کہ میری چھٹی تھی۔ اس لئے نہیں آئی۔ کہنے لگی سب لوگ تو نہیں دیتے! میں نے کہا خود دیکھا کرو کہ کیوں چھٹی ہے؟ اگر کسی وجہ سے کوئی بلوا لے تو اپنے لحاظ سے کام کر لو مگر جب سب کی چھٹی ہے یا ہواکرے تو تم بھی چھٹی کیا کرو۔ خیر وہ چلی گئی مگر میں سوچنے لگی کہ ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ لوگ دوسرے کے حقوق دیتے تنگ ہو جاتے ہیں اور اپنے فرائض سے بھی غافل ہو جاتے ہیں ہم کیسے مسلمان ہیں؟ سب نے سنا ہوگا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی اجرت دےدیا کرو اور کتنا اچھا کہا گیا ہے کہ "الکاسب حبیب اللہ " محنت کار اللہ کا دوست ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو محنت کرکے کمائی کرنے والے بندے پسند ہیں بلاوجہ ہاتھ پھیلانااور مانگنابری بات ہے۔
صبر شکر کے ساتھ محنت کرکے اپنی صلاحیتوں کو استعمال کر کے کمانے میں جو مزہ ہے وہی در اصل حق حلال کی کمائی ہے۔آپ گھروں دفتروں ہسپتالوں میں ہر جگہ دیکھ لیں کام کرتے پھر تیلے لوگ کتنے بھلے لگتے ہیں۔ کتنا تقدس آجاتا ہے ان کے چہروں پر بیچارے اتنے کمزور بوڑھے بچے جو ان سب کیسی کیسی محنتیں کرتے ہیں؟ اور روزی کماتے ہیں۔ معذور لوگ یعنی اسپیشل لوگ بھی اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بناتے بلکہ محنت کرکے کھانا پسند کرتے ہیں۔ اس کے برعکس بھی لوگ پائے جاتے ہیں جو کما تو بہت کجھ لیتے ہیں لیکن بے سکون خو د بھی رہتے ہیں اور دوسروں کیلئے بھی اذیت کا باعث ہوتے ہیں۔
یکم مئی کو اگرچہ چھٹی تھی مگر دیکھ لیں تندور بھی کھلے تھے، سارے رکشہ ٹیکسی والے سوائے چند کے روڈ پر تھے۔ میں نے خود جائزہ لیا اتنی شدید گرمی کے باوجود مارکیٹس بھی پوری نہ صحیح مگر اکثر کھلی تھیں۔ اسی طرح سبزی والے، بھوسی ٹکڑے والے اور صبح ہی صبح سے پرانے کپڑے جوتے برتن والے اخبار والے سب کے سب اپنے کاموں پر ویسے ہی گئے تھے۔مجھے تو افسوس ہوا ایک جگہ ٹائر پنکچر والے کی دکان پر دس بارہ بچے اتنی دھوپ میں کام رہے تھے تو کچھ گاڑیاں صاف کر رہے تھے۔
صبح ہی صبح بالٹیاں لئے فلیٹس کی گاڑیاں دھونے والے بھی موجود تھے۔ باقی لوگ چھٹی منا رہے تھے جبکہ یوم مئی کا مقصد احساسِ ذمہ داری سے کام کرنے والوں کو ان کا جائز حق بخوشی دینا اور ان کو تنگ نہ کرنا ہے۔انہیں بھی معاشرے کا سب سے فعال اور معتبر ممبر سمجھنا ہے تاکہ وہ بھی آسودگی سے زندگیاں گزار سکیں۔ ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر ان کے حقوق مارنا گناہ ہے بلکہ اس دن تو انہیں بہت زیادہ قدر کی کہ نگاہ سے دیکھتے ہوئے کچھ انعام وغیرہ دیکر خوش کرنا اور اُن کے ساتھ مل کر خوشی خوشی ایسے کام کرنا جن سے وہ مزید خوش ہوں اور مزید محنت، ہمت اور شکر گزاری سے کام کرتے رہیں ویسا رویہ رکھنا چاہئے۔ ہم سب بھی مزدور ہیں اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ اگر ان کا کام آپ کو کئی دن کرنا پڑ جائے!تو آپ کو ان کی محنت کا پتا چلتا ہے۔ جب اللہ کو محنت کرنے والے ہاتھ پسند ہیں تو ہمیں بھی ان عظیم ہاتھوں کی قدر کرنی چاہیے۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ خلیفہ اول فرماتے تھے کہ میری تنخواہ ایک مزدور کے برابر مقرر کی جائے۔اگر میرا گزارا نہ ہوا تو میں مزدور کی اجرت بڑھا دوں گا ۔ اس لئے تو جو خود محنت کرتے ہیں تاکہ دوسرےسکھی رہیں، آرام میں رہیں، خوش رہیں۔ تمام محنت کشوں کو جو حق حلال کماتے ہیں اور صبر شکر سے رہتے ہیں ۔ سلام ہے اور دعا ہے کہ
میرے محنت کشوں ہوں ہوں ہوں ہوں
آسمان وطن پر چمکتے ہوئے چاند تارے بنو
میرے محنت کشوں۔۔۔۔۔
انہیں انکی محنت کا جائز حق دیکر ہی خوش رکھا جا سکتا ہے۔




















