
لطیف النساء
کوئی سوچ نہیں سکتا ماں کتنے دکھ خاموشی سے سہ جاتی ہے اورکس طرح درسِ عبرت دے جاتی ہے، یہ اور بات ہےکہ سمجھتے سمجھتے وقت تو کیا
زندگیاں بھی بیت جاتی ہیں لیکن بقول امی کے درخت کو پھل تیار کرنے میں بھی ایک مقررہ وقت درکار ہوتا ہے،تب ہی اسی کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ درخت کی طرح ہزاروں طوفانوں، آندھیوں، برستی آگ، دھوپ اور ڈھیروں خطرات کامقابلہ ہر لمحہ کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں ہر وقت مصلحت کے ساتھ حق کا ہی ساتھ دینا چاہیے ورنہ یہ مکاری اور بے ایمانی بن جاتی ہے، جس کا برداشت کرنا آسان نہیں۔
میں نہیں بھلا سکتی اپنی اسی خودغرضی کو جب میں نے لڑائی جھگڑے سے بچانے کیلئے اپنی ہی ماں سےایک جھوٹ بولاجس کا مجھے آج تک افسوس ہے! شام کے وقت ایک دن میں اپنے شوہر اور بچے کے ساتھ میکےگئی تو دیکھا دوسرے کمرے میں دونوں بھابیوں اور ماں کے درمیان تھوڑی نوک جھوک ہورہی ہے کہ یہ اپنے برتن استعمال کرے میرے نہیں، یہی جملہ دوسری کا بھی تھا جبکہ ماں کہتی تھیں برتنے کی چیزیں ہیں،انہیں احتیاط سے سب استعمال کرو برکت ہوتی ہے۔ نئی بھابی کو تو ظاہر ہے کہ سمجھنے میں وقت لگتا مگر پرانی بھابھی چاہے وہ چھوٹی ہو اسے سمجھنا چاہئے تھا مگر وہ نہ مانی۔
ماں نے کہا دیکھو یہ غلط ہے!میں نے کہا اماں چھوڑیں دونوں کوآپ غلط ہیں۔ ہمارے پاس کم برتن ہیں؟ ہمیں پرانےوالے برتنوں یعنی پیالیوں میں ہی چائے دے دیں۔ شاید اس سے پہلے آنے والے مہمانوں پریا ان کی خاطر کے وقت یہ تلخی پیش آئی ہو گی؟ بہر حال میں نے ذراتلخی سے کہا اماں آپ جھوٹ بول رہی ہیں، پرانی بھابھی صحیح کہہ رہی ہیں، وہ اپنے برتن ہی استعمال کرتی ہیں جبکہ وہ نہیں کرتی تھیں اور اس طرح ماں کومحض لڑائی جھگڑے سے بچانے اور اپنے شوہر کے آگے ماحول کو سازگار کرنے کیلئے ماں کو کہا کہ آپ ہی چُپ ہو جائیں غلط بات نہ کریں۔
ماں مجھے اس طرح غصے سے دیکھ کر خاموشی ہو گئیں کہ میں تاب نہ لا سکی! بہرحال معاملہ ٹل گیا۔کافی دنوں بعد جب میں دوبارہ گئی تو ماں نے کہا کہ تم نے ایسا کیوں کہا تھا؟ میں نے کہا کیا کرتی ماحول خراب ہوتا، میرے شوہر کیا سوچتے؟ ذرا سی پیالیوں کیلئے لڑائیاں ہوتی ہیں کیونکہ وہ اکیلے بچے کے ساتھ کمرے میں بیٹھے تھے۔
ماں نے جواب نہ دیا مگر مجھے معاف بھی نہ کیا اور بالکل صحیح کیا، وقت تیزی سےگزر گیا۔ اس دوران کیا کیانہ ہوا! باپ کےگزرنے کے بعد ماں کی زندگی بچوں کے ہاتھوں ذرا مشکل ہی ہو جاتی ہے،باپ کی موجودگی والی بات ہی نہیں ہوتی۔ ماں ایک گرنے کے حادثے میں ہاتھ اور پاؤں تڑوا بیٹھیں اور آخر کار چار سال واکر کے سہارے چلتی تھیں بمشکل اور اچانک کینسر کے مرض میں مبتلا ہوکر چل بسیں۔ محض چند روز پہلے ہی کینسر کے پھیلنے کا علم ہوا مگر والدہ کو اس کی بھی خبر نہ تھی۔ اتنی صابر شاکر میری ماں کہ میرے لئے رول ماڈل، ہر وقت شکر گزاری کرتیں،پہلے اپنے آپ کو برا بھلا کہتیں، قسمت کا اور دوسروں کے رویوں کا گلہ شکوہ کرتیں پھر خودہی رونے بیٹھ جاتیں اور رو رو کر معافی مانگتیں،اپنے ہی روئیے پر شرمندہ ہوکر شکر گزاری کرتیں اور اپنی غلطی تسلیم کرتیں وقتا ًفوقتا ًسب سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی تھیں۔
کہتی تھیں اللہ خبیرہے ہر لمحے کی خبر ہے اسے، بے بسی میں خاموش ہو جانے والوں کی غورسےسنتا ہے۔ شکر ہے کہ ہم اس کے آگے ہی روتے ہیں سارے دکھ سکھ اسے ہی بتاتے ہیں، اپنی غم پریشانیاں اداسیاں اس سے بانٹتے ہیں یوں ہم اس کے آگے کھل جاتے ہیں، لوگ تماشا دیکھنے آتے ہیں۔
جب میں اس کے آگے کھل کر روتی ہوں، معافی مانگتی ہوں توہی سکون پاتی ہوں ورنہ تو شاید میں وقت سے پہلے مر ہی جاؤں۔ واقعی وہ رب سنبھال لیتا ہے ہمیں پھر سے جوڑ دیتا ہے اور ہم دوبارہ اپنی زندگی جینے لگتے ہیں۔ بس یہی باتیں مجھے یاد آتی ہیں اور میں بھی سوچتی ہوں اتنی بڑی غلطی مجھ سے ہوگئی صرف دوسروں کی خوشی کی خا طر! کیوں نہ میں نے رب کی خوشی اور رضا دیکھی ہوتی؟ماں کا کہا سُناہوتا!اور صحیح بات کی صحیح گواہی دیتی! زندگی کے اس طرح کے واقعات اکثریت کے ساتھ پیش آتے ہونگے مگر ہمیں چاہیے کہ ہم حق بات کریں ۔حکمت کےساتھ، مگر اپنے بڑوں کا کبھی مان نہ توڑیں۔ رب کی سزا سے خائف رہیں اور رب کی مانیں۔
ظاہر ہے کہ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا ہی تو ہے جو ہمیں ایک ماں کی محبت سےآزماتا ہےاورہم اسی میں دھوکہ دیتے بھی ہیں،دھوکا کھاتے بھی ہیں۔پس دھوکہ دینے والا اور جس کو دھوکا دیا گیا ہو وہ کبھی نہیں بھولتا؟ پس اللہ سے دعا ہے کہ ہم رب کے بنائے ہوئے رشتوں کا احترام کریں۔ چھوٹوں پر شفقت کریں،بڑوں کا ادب احترام کریں تا کہ معاشرہ پُرامن ہو ورنہ تو فساد ہی فساد ہے اور فساد اللہ کو کبھی پسند نہیں اور نہ ہی دنیا میں کوئی فساد پسند کرے گا۔
اللہ پاک ہمارے تمام مرحومین پر رحم فرمائے اور ہماری کوتاہیوں کو اپنی رحمت سے معاف فرمائے آمین۔ سبق یہ ہے کہ مجھ جیسی غلطی کوئی بھی کبھی بھی اپنے بڑوں سے نہ کرے چند لمحوں کی خوشی کی خاطر آخرت کا عذاب اور اللہ کی ناراضی بہت گھاٹے کا سودا ہے۔ اللہ ہم سے راضی ہو۔ آمین۔





































