
لطیف النساء
لوگ ذرا ذرا سی بات سے مایوس ہو جاتے ہیں، دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ الزام دینے لگتے ہیں،یہاں تک کہ اپنے آپ کو کوسنے لگتے ہیں بعض تو اتنے
کمزور عقیدہ ہو جاتے ہیں کہ زندگی کا خاتمہ تک کر لینے کی باتیں کرتے ہیں اور کچھ تو خود کشی تک کربیٹھتے ہیں۔ اس سے کیا ہوتا ہے؟ مزید نقصان! اللہ قاد رہے، مالک ہے، رازق ہے اور ہما را ولی ہے اس بات کا سب کو یقین ہونا چاہئے۔ ہم اس کی طرف سے آئے ہیں اور اپنا مقصدِ زندگی پور ا کر کے ہمیں اسی رب کے پاس واپس جانا ہے سب کو معلوم ہے کہ یہ دنیا ہمارے لئے امتحان گاہ ہے اور ہمارا امتحان ہر لمحے ہو رہا ہے۔ اس کی تو فلم تک بن رہی ہے جو آخرت میں نامۂ اعمال کے طور پر گلے میں لٹکی ہوگی۔ آج تیرا حساب لینے کیلئے میراضمیر ہی کافی ہے والی بات ہے۔ رب فرماتا ہے لوگوں سے اچھی بات کی تو ان کو سکون ملے۔ دوسروں کو کبھی غم نہ دو، دوسرے تو سب ہی یہاں غم دیتے ہیں ، ہمیں برا لگتا ہے نا، اس لیے ہم کسی کو بھی کبھی بھی غم نہ دیں اپنے الفاظ اور انداز کو اتنا خوبصورت بنائیں کہ سننے والے کو تو راحت ہی ملے۔
کتنی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جب ہم غم میں مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو کیسے کسی کی ذراسی کوئی بات سن لے،گویا کوئی غم سننے والابھی بن جا ئے تو کتنا سکون مل جاتا ہے، لہٰذا ہم بھی لوگوں کا غم بانٹنے والے غم سننے والے بن جائیں تو یقین جانیے اللہ کی ذات اتنی رحیم ہے کہ وہ تمہارے دلوں کو سکون قرار عطا فر ما دے گا، جو لوگوں کے کاموں میں لگ جاتے ہیں اللہ پاک اُن کے کام کیسے سنوار دیتا ہے۔ اسی لئے ساتھیوں ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکرادا کرتے رہنا چاہیے اوراپنے رب کی تقسیم پر شاکر رہنا چاہئے۔ اسی طرح تو ہم رب کے بندوں کےشکر گزار ہوتے جاتے ہیں۔
اپنے والدین کے، اساتدہ کے،عزیز رشتہ داروں کے،دوست احباب کے جو ہمارے لئے تھوڑا ہی کریں اُن کیلئے دل سے دعا نکلتی ہے ،ظاہر ہے مومنین کی صفات میں ہے کہ نا حق دوسروں کو تکلیف نہیں دیتے بلکہ دوسروں کی جانب سے پہنچائی گئی،بدسلوکی اور ایذاؤں پر نہ صرف اپناصبر دکھاتے ہیں بلکہ اُن کے ساتھ مزید احسان کرتے ہیں،اس کے باوجود بعض دفعہ انسان شیطانی وسوسوں کا شکار ہو جاتا ہے اور خود کوہی اذیت دینے لگتا ہے۔ اپنی ہی آگ میں جلتاہے۔ یہ بھی ہمارا امتحان ہے کہ بعض دفعہ ہم دنیا کے ہاتھوں ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اللہ تو کبھی کسی کو بے وجہ نہیں توڑتا، کوئی غم کوئی پریشانی مطلب اگر ہم دنیا کے ہاتھوں توڑ دیے گئے ہیں تو ا س کا مطلب ہے کہ میرا رب مجھے اپنے سے مزید قریب لا کریہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ میرے سوا تمہارا کوئی مددگار نہیں۔دنیا کے رشتے تو سارے وقتی ہیں کیونکہ ایک ایک کر کے سب چھوڑہی دیتے ہیں جبکہ اللہ ہمارے ساتھ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی ہمارا رب رہے گا، الٰہ رہے گالہٰذا جو تکلیف یا جو غم تمہیں ملے یا ہمیں ملے گا دراصل یہ بھی اللہ کی مہربانی ہے۔ ہم نے سنا ہے نا کہ جب اللہ کسی پرفضل کا ارادہ کرتے ہیں تو اسے کسی آزمائش میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ تو گویا ہمارا ٹوٹنا اور ٹوٹ کربکھرنا ہی تو دراصل اپنے رب سے ملنے کا ایک بہانا ہوتا ہے تو ایسا غم یا تکلیف جو ہمیں اپنے رب سے قریب کر دے۔اپنے رب سے ملوادے تو وہ غم یا تکلیف تو میرے لئے کتنی بڑی نعمت ہے۔ اس لئے تو نعمتوں کے شکرکی بار بار تاکید ہے۔ اللہ پاک ہمیں اپنے پسندیدہ بندوں میں شمار کر لے اور ہم پر ہر وقت نعمتیں عطا فرمائے اور دنیا و آخرت کی کامیابی عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین





































