
لطیف النساء
بچپن سے سنا ہے کہ ایک پودا جنت کا سودا نیم کا درخت کتنا گھنا سایہ دار ٹھنڈی ہوا دن میں ان درختوں کے نیچے سستانے کا اور ہی مزہ اسی
لیے تو جنت کے نظاروں میں بھی نہروں کا گھنے درختوں کاپھلوں سبزیوں کا ٹھنڈی اور خوش گوار ہواؤں کا جھرنوں کا ذکر باربا ر کیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق رازق مالک ہے ہماری فطرت کو جانتا ہے ہمیں یہی چیزیں پسند آتی ہیں۔
کہیں پکنک ہو کوئی تفریح ہو بچے بڑے سب ایسی ہی جگہوں باغ باغیچوں کی طرف جانا گھاس میں چلنا سائے میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ دنیا بھی حسین ان ہی چیزوں کی وجہ سے تو ہے!ان جگہوں پر رہنے والی مخلوق چرند پرند, مویشی سب ہی ایک الگ دل موہ لینے والی چیزیں ہیں۔
آج کل کتنی گرمیاں ہیں لوگ ہر وقت سایہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں اور ہم کتنے ظالم ہیں کہ بجائے جگہ جگہ درخت لگا کر مخلوق کیلئے سکون فراہم کرنے کے خود رو پودوں تک کو پنپنے نہیں دیتے کہیں اپنی ضروریات فضولیات کے لیے برسوں پرانے گھنے درختوں کو تک کاٹ ڈالتے ہیں،خدا کی زمین کتنی وسیع ہے؟ تھوڑی بھی جگہ آپ کے پاس خالی ہو کچھ نہ کچھ اگائیے تاکہ خوشنما منظر ہو، درخت لگائیے تاکہ سال دو سال میں سایہ اور ماحول دوست فیکٹریاں تیار ہوں اپنے مطلب کیلئے نہیں کہ جگہ گھیر لوبلکہ اس کے سائے تلے تک پر قابض ہو جاؤ، کسی کو بیٹھنے تک نہ دو،نہ گاڑی چند لمحوں کیلئے کھڑی کرنے دو بلکہ اسے جنت کا سوداسمجھ کر انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے لگاؤ۔
یہ سودا ہے دھوکہ نہیں! اسی طرح ارد گرد قیام گاہیں بنوا دیں حکومت کی بنائی گئی قیام گاہوں کو مستقل بنیادوں کو درست حالت میں رکھیں۔ اُن کی حفاظت کریں تاکہ دوسروں کا بھلاہو۔ مخیر حضرات ہی کیا ہر بندہ اپنا فرض نبھائے۔کہیں سڑکوں کے کنارے چلنے پھرنے کی جگہوں پر مستقل میٹھا پانی عوام کیلئے رکھیں اور دوسری طرف عوام بھی اس کی قدر دانی کرے چوری کرکے نہ لے جائے! آج مجھے یہ دیکھ کر اتنا افسوس ہوا کہ کچی سڑکوں کے کنارے تنگ جگہوں پر جہاں چلنا پھرنا زیادہ ہوتا ہے کسی اللہ کے نیک بندے نے ایک کولر لوہے کی زنجیر کے ساتھ درخت سے باندھا ہوا تھا اور گلا س بھی کولر کے ساتھ بندھا تھا تاکہ لوگ گلاس بھی پانی پی کر رکھ جائیں لیکر بھاگ نہ جائیں آپ کو تو قدر دان ہونا چاہیئے!کہ کسی نے نیک کام کیا،آپ اور آگے بڑھئیے کوئی دوسرا اس میں پانی ڈال دیا کرے کوئی چند گلاس لا کر رکھ دے۔
اسی طرح میدا نوں اور کھلی جگہوں میں بھی پرندوں کیلئے چارہ دانہ اور پانی رکھ دیں لوگ اپنی چھتوں پر اسکا اہتمام کریں، کسی کی جھونپڑی دیکھیں تو کوئی پنکھا کوئی کولر دے دیں،مریضوں کیلئے کچھ کر دیں خاص کر وہ کینسر کے مریض جو اپنا علاج نہیں کروا سکتے۔ میری تو ان لڑکوں اور لڑکیوں سے بھی گزارش ہے کہ فی سبیل اللہ ایسے ضعیف بوڑھے مرد یا خواتین جن کو چلنے پھرنے سے منع کیا گیا سے یا ورزشیں بتائی گئی ہیں یا وہ بستر کے ہی ہیں ان کے لیے خیر سگالی کے طور پر بے لوث ہو کر دو چار گھنٹے کام کریں کتنی دعا ملے گی، کبھی کسی کوبے بس اور بے کس ہوتے دیر نہیں لگتی اپنی ہمت کا بھر پورفائدہ اٹھائیں مجبوری کافائدہ گناہ ہے اپنے ارد گرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں،گندی گلی کا تصور تک مٹانے کیلئے ہردم کوشاں رہیں نہ خود کچھ پھینکیں نہ دوسروں کوپھینکنے دیں۔
مکانوں دکانوں کے چھجے صاف ستھرے رکھیں تاکہ مکھیاں، مچھر،بلیاں اورچیونٹیاں ہمیں پریشان نہ کریں۔ اپنے ہی گھر کے سامنے اور پیچھے والی جگہوں کو ہر بندہ صاف رکھے تویقین جانئے کتنا فرحت بخش نظارہ ہوگا؟ اس چھٹیوں میں پھولوں والے پودے لگائیے،اپنے ماحول کو سجائیے۔
میونسپل کمیٹیوں کو متحرک بنائیے ان کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے بجلی کے تاروں کھمبوں وغیرہ کے ارد گرد بڑھتے ہوئے درختوں کی کاٹ چھانٹ، کٹائی کا کام کروائیں۔ گٹروں کے ڈھکن لگوائیں، پھر انکی حفاظت بھی کریں،انہیں چوروں، چرسیوں اور موالیوں کے حوالے نہ ہونے دیں۔ اس طرح علاقے کے باغوں کو برقرار رکھیں۔ اپنے علاقوں کو گلیوں کو سڑکوں کو اون کیجئے۔ خاص طور پر سڑکوں کی مستقل بنیادوں پر مرمت کروانے پر اپنا اثر و رسوخ رکھیں، بار بار حکومتی اداروں کی توجہ دلوائیے اور قیمتی جانوں اور گاڑیوں کو بگڑنے سے بچائیں، قوانین کی پابندی کریں، اپنے علاقے میں لائبریریاں ڈھونڈیں انھیں بھی آباد رکھیں، یہ آپکا حق بھی ہے اور فرض بھی۔
چھٹیوں میں تو مساجدیں زیادہ بھری ہونی چاہئے ویسے تو ہمیشہ ہی ہونی چاہئے مگر چھٹیوں میں انھیں آباد رکھنا جنت کا حسین انعام لینے کا مستحق بنائے گا۔ چھوٹے چھوٹے کام میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹائیے، انکی جہاں جب ضرورت ہو بھرپور مدد کریں یقین جانئے آپ سب کچھ کر سکتے ہیں اپنے چھو ٹے بہن بھائیوں کی کمزوریوں کو دور کریں، لکھائیں پڑھائیں، اسی طرح گھر میں بزرگوں کو خاص توجہ دیں اپنا کو الٹی ٹائم دیں یہ انکا حق ہے اور انکے تجربات سنیں۔ آپ کا فرض ہے کل کو آپ کو بھی بزرگ بننا ہے۔
وقت کی قدر جب ہی آتی ہے جب اس وقت کو اچھے اور اعلیٰ مقصد کیلئے استعمال کیا جائے۔ گھر کی صفائی ستھرائی ترتیب دینا کاٹ کباڑ ٹھکانے لگانا یہ سب چھوٹے کام ہیں مگر بہت مؤثر اور اسی کے بڑے بڑے انعام ہیں جن میں سب سے بڑا انعام سکون قلب، اللہ کی خوشنودی اور ماں باپ کی فرمانبرداری ہے۔اللہ پاک ہمیں توفیق دے کہ ہم وقت کا صحیح اور مؤثر استعمال کریں نہ بھولیں کہ:۔
'' ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا ''





































