
لطیف النساء
کتنے مجبور ہیں ہم اپنی انا کے ہاتھوں
ریزہ ریزہ بھی ہوئے ٹوٹ کے بکھرے بھی نہیں؟
کیا کہوں کیسے کہوں؟ دل خون کے آنسورورہا ہےاس بےبسی بے کسی پرجوہمارے نہتے فلسطینی مسلمان پچھلے7 ماہ سے سہہ رہے ہیں۔ظالم یہودی اور یہودی ذہنیت رکھنے والے اور ہمارے ہی آستین کے سانپ، سپولے، نیولے، بے ضمیر ڈھیٹ لوگ نہ جانے کتنے ظلم ڈھا رہے ہیں؟ انہیں ذرا شرم و حیانہیں! انسانیت کے نام پرطمانچہ ہیں یہ لوگ جو نہ ظلم کو روک رہے ہیں اور نہ ظلم رکوانے کی ذرہ برابر عملی کوشش کررہے ہیں؟
یہ سب بھی ہمیں فلسطین کے دشمن ہی نظر آتے ہیں۔اسرائیلی تو ہیں ہی درندے، لوفر، گھٹیا ذہنیت کے لوگ!اللہ پاک ان کو اور ان کی ذہنیت رکھنے والے تمام لوگوں کو غارت کرے جو بد ترین ٹیکنالوجی کا بدترین استعمال کر رہے ہیں اور تمام امن کے اداروں کو ان کے احکامات کو تمام اقوام متحدہ کے عالمی امن اداروں کو بے حیثیت کرکے انکا مذاق اڑایا ہے۔
انسانیت تو یہ ہے کہ کہیں خوف نہ ہو اور امن و امان ہو! یہ کیا بہادری اور دیدہ دلیری ہے کہ اتنے گندے زہریلے ہتھیاروں کا استعمال فاسفورس بموں کا استعمال، آگ اور خون کی ہولی نہتے لوگوں پر بجلی پانی خوراک بند کر کے حملے پر حملے کرنا! زخمیوں کو بے کسوں کو بے بسوں کو مارنا! تف ہے ایسی حرکات کرنے والے تمام درندوں پر اور ان تما تماشائیوں پر بھی جو مہینوں سے معصوموں کا خون ہوتے ہوئے،جلتے ہوئے، رلتے ہوئے، بھوک پیاس سے بلکتے ہوئے بچوں،عورتوں کو تہس نہس کر رہے ہیں اور ڈنکے کی چوٹ پر! یہ تو بزدلی اور انتہائی درجے کی ذلالت ہے۔ مردوں کے ان اسرائیلی فوجوں کے منہ پر خود انکا اپنا طمانچہ ہے اور ان نہتے لوگوں کی زخمی فلسطینیوں کی کھڑی لات ہے، ان کے منہ پر جو بم گرا کر جینا چاہتے ہیں۔ ان بے ضمیر لوگوں کو یہ ظلم کر کے نیند کیسے آتی ہو گی؟
یہ تو خود اپنے ہتھیار اپنے ہی اوپر استعمال کریں، جل مریں، اپنےآپ کوٹریکٹروں کے نیچےدے ماریں تو بھی اپنےظلم کا ازالہ نہیں کرپائیں گے اور ایک اسرائیلی ہی کیا ہر وہ بندہ جوان کو یا ان کی مصنوعات کو کسی بھی طرح سپورٹ کرے وہ ایمان سے خالی ہے، زندگی کے مقصد سے ہی بے بہرہ ہے۔ ہم پاکستانیوں فوجیوں جرنیلوں کرنیلوں اور حکمرانوں کو اللہ نیک توفیق دے جو بجائے عملی اقدامات کرکے جنگ بند کروائیں، اپنے ایٹمی قوت کا دن بنا بنا کر انہیں مزید تپا رہے ہیں۔ کیسی ہیں وہ قوتیں طاقتیں جوسچائی کے ہمدردی اور انسانیت کے جذبے سے خالی ہوں۔
مانا کہ ایٹمی صلاحیت رکھتے ہوں مگر اسکابر وقت استعمال نہ کرنا میر ے نزدیک تو جرم کے مترادف ہے۔ اتنی بڑی طرح انسانیت کا قتل اور سر عام نسل کشی کو رکوانا اپنی جان کے عوض بھی ضروری تھا فرض عین تھا۔ اپنے ضمیر کو جھنجھوڑیں، دل سخت ہو گئے نا،تب ہی قیامت کی نشانیاں دیکھا رہے ہیں۔ عرب دنیا بھی تماشائی بنی ہوئی ہےاورعریانی، فحاشی اور شرکیہ اقدام پر تلی ہوئی ہے ،جب اپنے ہی اپنوں کودکھ دیتے ہیں ناتو تکلیف کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے اور اس لئے ہی غم بانٹنے اور ایک دوسرے کا غم دور کرنے کی عمر بھر کیلئے تاکید کی گئی ہے۔
مسلمان ایک جسم کے مانندہوتے ہیں ایک عضو بھی درد کرے تو پورا جسم متاثر ہوتا ہے، اسی طرح ایک مسلمان کو تکلیف ہو تو تمام مسلمانوں کو اسکا درد محسوس ہونا چا ہئے یہی ایمان ہے۔آج دیکھ لیں اپنے ہی ملک میں آئے دن کتنی تباہیاں ہیں، قتل غارت، لوٹ کھسوٹ اور قوم کے محافظ پولیس، فوج، رینجرز سب کے کرتوت آپ کے سامنے ہیں۔ عمل بولتا ہے نا۔
ان کو کیا نام دیں اگر وہ ظلم کو شہریوں کے قتل عام کو اپنے ملک میں نہ روک سکیں تو باہر کیا کرینگے؟ سڑک پر مساجد میں اور سر عام عورتوں کی مکاری، دھوکا بازی، فقیرانہ مافیا رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ ہر بندہ دوسرے کو لوٹ رہا ہے۔ گویا آدمی آدمی سے ڈرتا ہے، یہ کیسا ماحول ہوتا جا رہا ہے ساتھیوں زمین پر فساد اللہ کو سخت نا پسند ہے حقوق العباد نہ نبھاؤ گے تو شدید سزا پاؤ گے۔جو لوگ ظلم کر رہے ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ اللہ ان سے غافل ہے۔
اللہ نہ کرے کہ ہم اسلامی ملک ہوتے ہوئے بھی آخرت کے خسارے میں ہوں۔ کامیابی تو اصل ہےہی آخرت کی۔ سنا نہیں زندگی کیا ہے؟ "ہے زندگی کا مقصد اوروں کے کام آنا" نہیں ہے یہ کوئی گانا، تیزی سے گزر رہا ہے زمانہ، ہوش میں آؤ نا، تا کہ نہ پڑے پچھتانا! اے اللہ تو اپنے فضل سے ہم پر رحم فرما اور تمام مسلمانوں بالخصوص فلسطینیوں پر رحم فرما۔ بس ہم تیری رحمت کے طلبگار ہیں۔ تجھے راضی رکھنا چاہتے ہیں۔





































