
لطیف النساء
یہ سچ ہے کہ اشاروں کی اپنی ایک زبان ہے یا یوں کہہ لیں کہ باڈی لینگویج بھی ہے۔ کسی کو بلانا ہویا چلے جانے کو کہنا ہو تو اشارے سمجھ آجاتے ہیں لیکن یہ کیا کہ ٹیکنا
لوجی نے ہماری خوبصورت حکمت بھری باتوں یا چھوٹے چھوٹے کلمات کویکسر بدل دیا ہے اور اتنا ہماری زندگیوں میں رچ بس گئےہیں کہ یہ کلمات اورخوبصورت جملے جو ہمیں ایک احساس محبت اور دُعا دیتے تھے، اب بدل کر عجیب و غریب حلیے اختیار کر گئے ہیں۔ قابل افسوس ہیں مجھے تو یہ کبھی نہ بھائے اور اکثر لوگوں کو نہیں بھاتے مگر کیا کیا جائے؟ کوا ہنس کی چال چل کر ہم پر چلا رہا ہے اور ہم ہیں کہ اپنی ہی چال بھولتے جارہے ہیں اور اجنبی ہوتے جارہے ہیں۔
آپ سمجھ گئے ہوں گے میرے اس جملےکو ہی پڑھ کر کسی نے ٹھینگا دیکھا دیا ہو گا،یعنی ویل ڈن کی علامت تو کسی نے روتی صورت یعنی بات پسند نہ آئی! اسی طرح کسی بات پر خوش ہونے کے بجائے ماشاء اللہ، اللہ مبارک کرےکہنے کے رسمی پھول کا نشان بنا دیایا ہیپی فیس بنا دیا۔ ہاتھ کیوں جوڑے جاتے ہیں!ہم تو سمجھتے ہیں کہ پر انے وقتوں میں کوئی غلطی کرنے پر غلام اپنے آقا کے سامنے دونوں ہاتھ جوڑتے تھے یا پھر شروع سے بت پرستی یا باطل کا طریقہ عبادت سمجھا جاتا ہے۔
بچپن میں نہ جانے کہاں سے ہم نے بھی یہی سیکھا تھا کہ کسی کو کچھ نہ دینا ہو، چھیڑنا ہو یا انکاری ہو تو ٹھینگا دیکھا دیا مگر اب بالکل ہی الٹ ہے گویاضد ہے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں میرے بڑے بھائی جان نے کسی کو ٹھینگا دیکھایا تھا تو وہ پتھر سے مارنے کیلئے بھائی جان کے پیچھے بھاگااور اب کوئی کچھ نہیں بولتا بلکہ خوش ہوتا ہے۔
بڑا سا ہا تھ کھول کر پوراہا تھ دکھا نا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا یعنی تم پر لعنت ہو جو کہ بہت ہی بری بات ہے منع کیا گیا ہے! کہ کسی کو بھی لعنت نہ دکھاؤ کیونکہ اسکا مطلب ہے اللہ کی رحمت سے دوری۔ یہ تو قرآن کریم کے دشمنوں کا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح کی دیگر شیطانی شکلیں کیوں بنائی گئیں اور کیوں دلچسپی سے لگائی جاتی ہیں جبکہ اس طرح کی بے ہودہ باتوں پر استغفار پڑھناچاہئے۔ نیک نصیحت، کلمہ حکمت بھیجا کریں کیونکہ یہ ز یادہ مؤثر ہوتے ہیں۔
ایسے اشارے جن کا ہمارے دین میں کوئی مطلب نہیں ان کی اشاعت کرنا یعنی کے ٹیکنا لوجی کا برا استعمال ظاہر ہے ،برائی پھیلانے کے مترادف ہوگا تو برائی کی تو تشہیر ہی منع ہے۔بتیسی نکلی ہوئی، آنکھیں نکلی ہوئی، روتی صورت، آنکھیں جھکی اور ہونٹ نیچے کئے ہوئے،ڈھول باجے، بینڈ یا جے نہ جانے کیا کیا؟ کبھی تو سمجھ ہی نہیں آتا کہ کیا جواب دیا ہے؟
اس سے تو اچھا ہے کہ تعریف یا تائید میں کچھ فرماہی دیا جائے۔ الفاظ زیادہ مقدس ہیں بجائے ان اشکال کے جنہیں ایموجیز کہتےہیں کارٹون ٹائپ کی جس نےسمجھو سب کو ہی کارٹون مائل کر دیا ہے۔یہ بھیڑ چال برائی کا پھیلاؤہی تو ہے۔ خیر ہو! اللہ کا شکر، برکت ہو، خوش رہو، مبارک ہو اور جزاک اللہ خیر، جزاک اللہ خیر کثیر، ماشاء اللہ، سبحان اللہ، الحمد للہ کتنے پیارے الفاظ ہیں، انہیں استعمال کریں اور اس طرح بھی اپنے دین کی پہچان اور نفاذ میں معاون ہو، مددگار ہوں،یہی میرا مقصدِ تحریر ہے، سننے والا بھی خوش، سنانے والا بھی شاد! سبحان اللہ۔ اللہ توفیق عطا فرمائے۔ آمین





































