
لطیف النساء
"الدعاء مخ العبادۃ " دعا عبادت کا مغز ہے۔ اللہ کی بندگی اور مخلوق کا حق ادا کرنا ہم پر فرض ہے تو ہم ہر وقت ہر لمحہ کسی نہ کسی چیز سے
متاثر ہوتے ہیں، متاثر کرتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ کوئی نہ کوئی بڑی سے بڑی ناراضی بھی السلام علیکم کہنے سے دور ہو جاتی ہے۔ دوسرا بندہ خود بخود ٹھنڈاہو جاتا ہے۔
کتنے ہی بد نصیب ہیں وہ لوگ جوانا اور ناراضی اوراکڑکےسبب سلام کا جواب تک نہیں دیتے ۔ یہ ان کا غصہ اوراکڑ ہوتی ہے ۔گویا غصے کا اظہار ہوتا ہے ۔ بس یہی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ۔ کیوں کہ یہ تکبر ہی انہیں لے ڈوبتا ہے۔ یہ بات شاید ہم سب کے تجربے میں بھی ہو؟ دعا تو کیا چھوٹا سا لفظ ہے اور کیا عجیب بات ہے؟ اللہ کے ہر کام میں ہر کلام میں کیا برکت اور حکمت ہے۔
السلام علیکم کیا اچھی دعاہے کہ آپ پر سلامتی ہو! کتنا سکون اور اطمینان ہے کہ ہم اگلے کی سلامتی چاہ رہے ہیں، اچھائی کر رہے ہیں۔ دعا تو واقعی ہمارے لیے کتنا بڑا حصار ہے، کتنا سکون اور اطمینان ہے۔ کیسا اور کتنا بڑا حصار ہے؟کتنا حوصلہ،اتنا بڑا سہارا، کیسی امید؟ کیسا وسیلہ،کتنی بڑی ڈھارس ہے؟ قرآنی دعائیں کتنا بڑا مؤ ثر حصار ہیں کہ رب نےان کے ذریعے سے اپنے سے جوڑاہوا ہے!۔ رب کریم ہمیں کبھی کمزورہونے نہیں دیتا۔ بس ہمیں پکا یقین ہونا چاہیے۔ کامل بھروسہ! یہ تو ہمارے پاس رب کا انعام ہے! ور نہ ہمیں کون سیکھاتا؟ کون بتاتا، اگر ہم کسی سے ناراض ہو جائیں یا کوئی ہم سے، تو ہم کیسے سکون پاتے؟ ایک دوسرے سے بات نہ کرناروٹھ جانا۔ یہ بد عملی ہے کہ اداس ہوجانا، یہ بے صبری کا مظاہرہ ہے ۔
اس بے سکونی اور بے صبری کو توڑنے کا واحد حل سلام کرنا ہے۔ایک حوصلہ، محبت کا اظہارایک یقین جو ہمیں نہال کر دیتا ہے۔ اگر اس کو دل سے خلوص سے ادا کیا جائے! ملنے کے وقت، جدا ہونے کے وقت، ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت مسکرا کر السلام علیکم کہنا کتنا ہی خوش کن احساس ہوتا ہے؟ ہمارا پورا ماحول لینے دینے پر منحصر ہے اس عمل پر منحصر ہے، کدورتیں دورہو جاتی ہیں۔ کتنا چھوٹا لفظ اور کتنا مؤثر! اللہ ہی کی شان ہے!کتنی محبت ہے، میرے رب کریم کی جب ہم ان کی سیکھائی ہوئی دعائیں مانگتے ہیں۔ بیماری، پریشانی، قربانی کے موقع پر عید، بقر عید پر سلام کرتے ہیں۔یوں بھی ہمیشہ ہم اسے رائج کر دیں اور اپنے ماحول میں رائج کردیں دل سے محبت سے ادا کیا جائے تو جواب بھی ویسے ہی آتا ہے، گھر میں داخل ہوتے وقت، کہیں جاتے وقت، خلوص نیت اور محبت سے ادا کیا جائے تو سبحان اللہ اس کا انعامی جواب روح کو تسکین دیتا ہے کہ آپ پر بھی سلامتی رحمتیں اور برکتیں ہوں! آمین یا رب العالمین! ۔
آج ہم اس کو سمجھ جائیں ،سدھر جائیں اس روش کو عام کر دیں، عید کے موقع پر میرا یہ خاص پیغام ہے میرے تمام ساتھیوں کیلئے کہ اس " حصار " کو ہتھیار کو ہر وقت قابل عمل بنایا جائے۔ دین کو رائج کرنے، نفاذ کرنے کا یہ ایک چھوٹا سامؤثر عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین کا فہم عطا فرمائے اور دعاؤں کو سمجھنے، سلام کی اہمیت کا شعور رکھنے اور عملاً اسکو رائج کرنے والا بنائے۔ آمین یا رب العالمین۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے پہلے سلام بعد از کلام! یعنی بات کرنے سے پہلے سلام کیا جائے۔ بعد میں باتیں!۔





































