
لطیف النساء
اللہ تعالی واقعی رحیم ہے نیکی پر نیکی کمانے کے مواقع دیئے جاتا ہے۔ انسان ہی اتنا غافل ہے کہ ہر دن ضائع کر دیتا ہے اگر چہ اسے احساس
ہوتا بھی ہے کہ میرا آج توگزشتہ کل سے بہتر نہیں ہے۔ ایک بے چینی اور بے سکونی لگی ہوتی ہے نفس کی تمام خواہشات کو پورا کر لینے کے بعد بھی!بس یہی بے چینی ا نہیں ذوالحجہ کے عشرہ میں اخلاص کے ساتھ زیادہ نیکیاں کرنے کی توفیق عطا کرتاہے، اگر ہم میں ذرا بھی اخلاص ہو توہم ہر موقع ڈھونڈتے ہیں نیکی کرنے کا پھر ہمیں خود بخود اللہ تعالیٰ راہنمائی دیتا ہے ۔
ماحول میں شعائر اللہ قربانی کے جانور، دروس میڈیا اور موبائل پر پیغامات، دعائیں اور دوست احباب یاد دلاتے رہتے ہیں کتنا اچھا ہوتا ہے ،جب ہم اخلاص کے ساتھ مان جائیں اور بغیر تھکے ہر کام خلوص نیت سے کر نے لگیں، عباد ات کے ساتھ ساتھ تعلقات اچھے اور روئیے بھی اچھے کرتے جاتے ہیں پھر کوئی تھکان نہیں ہوتی کیونکہ نیت کا خلوص ہمیں احساس دیتا ہےکہ یہ عبادت کی تھکاوٹیں تو ختم ہو جا ئیں گی مگر اس کا اجر کبھی نہیں ختم ہوگا۔
روزِ جزا اعمال نا مے جب تو لے جائیں گے تو اس وقت یہ عبادتیں اور چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہمیں آگ سے نجات دلائیں گی۔ آج محنت کر لیں خلوص نیت سے ان تمام کاموں کو کرلیں جو عام زندگی میں بھی ہم نہ کرپائے ان ایام معدودات میں بھی ۔سبحان اللہ ۔ مہلت زندگی باقی ہے، زبان سے ذکر، نیت عمل اور پھر بھی ہم نیکیاں اکٹھا نہ کرسکیں توکیا کر یں گے؟ غفلت میں دن گزار دیئے تو فرشتہ آجائے اجل چھانے لگے تو تڑپ تڑپ کر بھی التجا کر یں تو مہلت زندگی نہیں ملے گی تاکہ دوبارہ نیکیاں کرکے عبادات کرکے جلد واپس آجائیں۔
تو سوال کیا جائے گا کیا لمبی عمر نہیں دی گئی تھی؟ انسانی حالات کبھی یکساں نہیں رہتے آخرت کے خیال کو کبھی نہ بھلائیں۔تمام نفسی خواہشات اور شیطانی چالوں پر قابو پاتے ہو ئے بار بار آخرت کو یادرکھیں! زیادہ ریلیکس ہونے کی ضرورت نہیں!شیطان کو معاون ہوتے دیر نہیں لگتی!چند باتوں کوسن کر صرف دعا کر کے بھی ایمان تازہ ہو جاتا ہے۔ یہی اچھی اورسچی حق کی باتیں ہمارے لئے ایمانی ایندھن ہیں واقعی کتنی عجیب بات ہے ہم جنت، دوزخ آخرت پر ایمان رکھتے ہوئے بھی ،اس جنت کے حصول کی کوشش نہیں کرتے ۔میدان حشر کا احوال اور اس کی مشکلات ہمارے سامنے کیوں نہیں آتیں؟ہم اپنی روش بدلیں، مشکل مرحلوں کیلئے بھی بخوشی خلوصِ نیت سے تیار رہیں آخرت کیلئے فوکس کریں۔صحابہ اس تصور سے اشک بار تھے ،حشر کے میدان میں سایہ بھی ہمارے اعمال کے مطابق ہوگا!آج ہم 50,40کا درجہ حرارت برداشت نہیں کر سکتے ۔اس دن کیا ہو گا، جب سورج سوا نیزے پر ہوگا؟ اللہ ہمیں دوزخ کی آگ سے بچائے۔ اس دن صرف آخرت کی تیاری والے ہی خوش ہونگے لمحے لمحے کا فائدہ اٹھا کر اپنی آخرت سنواریں رب کو راضی کر لیں۔
ہم کہاں ہوں گے ، ہمارے پاس کیا ہوگا؟ جب ہر چھوٹا بڑا عمل ناپ تول کا اعشاری نظام حقوق اللہ اورحقوق العباد روئیےتعلقات اورہماری نیکیاں! اللہ اکبر صرف ایک نیکی خلوصِ نیت اور رب کی رضا اور ایک اعلان جنتی یا اللہ نہ کرے جہنمی ،آمین۔ آج کتنی طاقت ہے دنیا جہاں میں گھومتے ہیں ،آج ایک ایک نیکی کو ترسیں گے؟ نہیں نہیں! نعمتوں کا حساب ہوگا نعمتوں میں رہتے ہوئے کبھی احساس ہی نہ کیا! ۔
صحت مال صلاحیت کمائی، مال جوانی رشتے ناطے سب کا سوال ہوگا ٹھنڈے پانی کا تک حساب دینا ہو گا! اتنی آسانیوں میں تھے پھر تم نے کیا کیا؟ جواب دینا ہو گا غرض نیکی ان محدود دنوں کی عبادات، تکبیرات،دعائیں، حج،عمر ے، عرفات کی دعائیں کیوں لاحاصل ہوں؟ یہی باتیں ہمیں جگاتی ہیں سستی میں گزرے چلے جا رہے ہیں۔ آج نہیں کل فراغت ہو گی! نہیں نہیں،یہ غلط خیال ہے ہر وقت کی اپنی مصروفیت ہے۔ فارغ تو بندہ مر کربھی نہیں ہوتا!وہاں تو حساب در پیش ہو گا۔ عذرات ختم نہیں ہوتیں۔یہ شیطان کی چالیں ہیں۔ دنیا کے امتحان کیلئے اتنی محنت اور آخرت کی کامیابی کیلئے خلوص نیت سے ایک عرفہ کا روزہ تکبیرات، توبہ استغفار سچی تو بہ بھی غنیمت کہ اصل کامیابی آخرت کی ہی کامیابی ہے ،لہٰذا مسلسل تکبیرات اور دعائیں "سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم" سمندر کے جھاگ جتنے گناہ معا ف اللہ قبول فرمائے ہماری نیت کو عمل کو آمین، حساب آسان فرمائے آمین اور ہم سے راضی ہوجائے فلسطین پر رحم فرمائے او ر ہمارے تمام اعمال ہمارے حق ہیں اور ان کے حق میں جو کئے ہیں اللہ انہیں قبول فرمائے اور تمام حجاج کی دعائیں قبول و مقبول فرمائے آمین
ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم





































