
لطیف النساء
میری دوست کہتی ہے کہ اس کی امی کی امی یعنی نانی کہتی تھیں کہ قیامت کے قریب دنوں میں دورانیں دیوار پر لٹکی ہونگی مگر ایک ران
دوسرے کو کھا رہی ہوگی، وہ سوچتی تھی کہ کیا مطلب؟ دور انیں، کہنےلگی کہ دورانیں مطلب ایک ہی ماں کے دو بچے آپس میں ایسے دشمن ہوں گے کہ ایک دوسرے کو لوٹ کھا ئیں ،ذرا برا نہ سمجھیں گے۔
آج نظر آتا ہے کہ کیسے لوگ ایک دوسرے کیلئے باعث تکلیف ہیں؟ واقعی زمانہ اتنی ترقی کر گیا ہے کہ بڑےبلکہ بڑوں ہی کی کوتا ہیاں ہیں جو انہیں نظر آتی ہیں۔ بچوں میں نظر آتی ہیں اور ہمیں سمجھ آتی ہیں کہ انہوں نے کیا کیا جو اُن کے بچے ایسا سلوک کر رہے ہیں؟ کہ کسی قسم کی وقعت ہی نہیں، کوئی رائے مشورہ لینا نہیں چاہتے، نہ عمل کرنا چاہتے ہیں کہ بھانجا، بھتیجا، بیٹا، داماد، بھائی، کسی کی نصیحت پر عمل کرنا نہیں چاہتے۔ نہ کچھ معلومات لینا چاہتے ہیں، بس میں ہوں میری مرضی!میں ہی صحیح ہوں باقی سب غلط ہیں۔ آپ کوکیا پتا؟ آپ کو نہیں معلوم، وہ پہلا دو ر گیا، اب ایسا نہیں ہوتا، ابھی ایسا نہیں ہوتا، یہ تو پہلے کی بات ہے ،یہ تو پرانی بات ہے، زمانہ بدل چکا ہے۔
آپ کو نہیں معلوم؟ وہ اپنے تجربے سے سیکھنا چاہتے ہیں، عمل کی بات ہے، جب زندگی گزارتے گزارتے ختم ہونے کا وقت آتا ہے۔ تو بس کیا کیا جائے؟ کتنی قربانی مانگتی ہے یہ زندگی، اگر کسی کو کچھ سمجھانے کی بات کی جائے، سدھارنے کی کوشش کی جائے تو غلط مطلب نکالتے ہیں، گھر کا ماحول خراب کرتے ہیں۔ کسی کو کچھ نہ بتاؤ، اچھی خبر نہ بتاؤ، بری خبر نہ بتاؤ ،نہ جانے کیا سر پرائز دینا چاہتے ہیں؟ کیا انسان کسی دوسرے سے بات کر کے کبھی کبھی انسان مجرم بن جاتا ہے بالکل ایسا ہی ہے جیسے ایک ہی نقطے کے فرق سے "محرم " مجرم بن جاتا ہے،ایسی ہی بات ہے۔
نہیں نہیں ہم کسی کی مددنہیں لیتے، ہم خود سب کرلیتے ہیں تو پھر کیا کیا جائے؟ اپنی ماؤں کو تک کہتے ہیں یہ نہ کسی کو بتاؤ، وہ نہ بتا ؤ۔اسی لیے چپ ہی میں سکھ ہے۔ بالکل ریزرو رہتے ہیں تو انسان کیابات کرے۔اس سے اچھا ہے خاموش رہیں ،صبر کریں کہ صبر میں ہی اجر ہے۔ یہ بھی صبر آزما ز چیز کو ہمارے لئے اجر کا درجہ دے دیگا ،ورنہ ہروقت ہماری بیوہ ماں بیٹھے بیٹھے اس کوفون اُس کو فون کرتی تھیں۔ بیٹیوں کے پاس ٹائم نہیں۔ بھائیوں کے پاس وقت نہیں اور بیٹے کے پاس موقع نہیں۔ دوسرے لوگوں کے سامنے کبھی موقع نہیں، کبھی حالات نہیں، کبھی یاد نہیں تو کبھی ملاقات نہیں ۔بس یہ بھی مختلف مراحلِ زندگی ہیں، ایک مصروفیت ہے۔
یہ بھی حالات درجات ایک آز مائش ہیں ۔اللہ ہی کی شان ہے جو ان درجات سے گزار کر امتحان لیتا ہے اور ہمارے صبر کو اللہ اجر میں بدل دے گا کیونکہ بسا اوقات کیا اکثر و بیشتر مواقع نہیں۔ یہ زندگی آسان تو نہیں، ایسے تو اللہ تعالیٰ اس زندگی کو امتحان کہہ رہا ہے؟ ظاہر ہے اس امتحان سے گزر کر ہی کامیابی لینی ہے۔
اللہ ہم سے ایسے کام لے لے کہ امتحان میں کامیابی ہی مل جائے کیونکہ جب باتوں کو سمجھنے کی اہلیت نہ ہو، جن کے اند ر خدا خوفی ہو، بڑھا وا نہ ہو، دنیا پرستی نہ ہو!ان کے علاوہ تمام ہی لوگ اکثر اصلاح کے بجائے فساد کا باعث بن جاتے ہیں، ایسے میں تو ان کو ان کے حال پر ہی چھوڑ دیا جاتا ہے۔
شیطان کی کیا چالیں ہیں جو کیسے کیسے خواب دکھا کر بندوں کو گمراہ کرتی ہیں۔ دو چارفیصد بچیاں بچےسمجھتے ہیں، عمل بھی کرتے ہیں ،ورنہ باقی لوگ منہ پر تو اچھے ہوتے ہیں مگر پیچھے جا کر کوئی نہ کوئی ایشو کھڑا کر دیتے ہیں۔ رویے بدل بدل کر عجیب روپ دکھاتے ہیں لیکن دیکھیں اس لیے بندہ مایوس ہو کر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے لیکن دیکھیں چھوڑنے سے کیا حالات ہوتے جا رہے ہیں؟ کوئی خفا ہو تو خفا ہو مگر اصلاح تو ہوتی ہی رہنی چاہیے۔
وہ جو شعر ہے نا کہ
ہوتی ہو تو ہو جائے خفا ساری خدائی
کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہو
ماحول کیا سے کیا ہو گیا ہے؟ شیطان کی کیا خدمات ہیں انسان کے کیا اعمال ہیں؟ کیا شعور ہے اللہ ہمیں دین کا شعور دے دے واقعی ہمارے اندر وہ طاقت نہیں کہ ہم برائی سے بچ سکیں اور اچھائی کر سکیں!جب تک میرا رب مجھے تھام نہ لے جو بھی حالات واقعات ہم دیکھ رہے ہیں، سہہ رہے ہیں، یہ آخری وقت اور قرب قیامت کے ہی تو اثار ہیں،نفسا نفسی لگی ہوئی ہے!کوئی کسی کا نہیں لمحے میں تم کون ہم کون؟ یہ کیسا دور آگیا ہے کسی کے درد کو بانٹنا تو دوسری بات سننا بھی گوارا نہیں! یہ کہہ کر چپ ہو جاتے ہیں کہ نہ کرو ہم سے ایسی خطرناک باتیں ۔عبرت کے لیے موت ہی کافی ہےمگر آج تو ہم نے موت کو بھی تماشا بنا لیا ہے اور اس میں بھی سنجیدہ نہیں گویا یہ بھی فائدہ ہی اٹھانے اور شہرت پانے کا ذریعہ بن گیا ۔اللہ پناہ میں رکھے اس میں مرد تو کیا عورتیں بچے بوڑھے سب ہی شامل ہیں کیونکہ وہ اپنی موت سے بالکل غافل ہیں اور پورے طور پر شیطان کے جال میں ہیں ۔اف بس! اللہ!
اللہ بچائے ہمیں شیطان کی چال سے
مردوں کو پھانستا ہے یہ عورت کے جال سے
یہ بھی آخری وقت کے آثار ہیں کہ گھروں کےبعض قوام اپنے فرائض سے غافل، مجبور اور بے بس ہوتےنظرآتے ہیں اورمعاشرے کے بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔انہیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں زندگی ایک ہی دفعہ ملتی ہے جس سے انہیں آخرت کی کامیابی سمیٹنی ہے۔





































