
لطیف النساء
اب تو بچہ بچہ جان گیا ہے کہ بچوں کا قاتل کون ہےاورجنگی مجرم کون ہے؟بائیڈن بچوں کا قاتل ہے اورنیتن یاہو جنگی مجرم ہے لہٰذا ا نہیں
عبرتناک سزا ملنی چاہئے۔ اپنی دنیا میں مگن، رسوائیوں کے دلدل میں ڈوبے عرب ممالک، بزدل اور کاہلی میں ملوث حکمران بلکہ 57 اسلامی ممالک کے حکمران سب کے سب صرف زبانی بیانات دیکر مزید نسل کشی کو ہوادے رہے ہیں! ان کا یہ عمل بھی مجرمانہ دکھائی دینے لگا ہے! کیونکہ مظاہرے ہر جگہ ہو رہے ہیں، کل واشنگٹن میں ہونے والا مظاہر ہ غزہ پر جاری جارحیت کے خلاف عالمگیر مظاہرہ ہے۔اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے مگر عمل اس سے بھی بڑا ہونا چاہئے!۔
یہ اسرائیلی لاتوں کے بھوت ہیں اپنی ہی زبان سمجھیں گے! انہیں ان ہی کی زبان میں جواب دینا مزید خون خرابہ ہے مگر حکمت عملی اور بین الاقوامی امن کمیٹی کے ارکان، فوجی حکام اور اسلامی ممالک کے حکمران، فوجی طاقت کیوں کوئی جنگ بندی کا اقدام کرنے سے قاصرہے اور ہر روز نسل کشی کو بڑھاوادے رہی ہے؟ سوال یہ ہے کہ جنگ بندی فوری کی جائے اور امن بحال کیا جائے۔ ایک ایک لمحہ انسانیت کا قتل ہے اور جرائم کی معاونت بھی ظلم پر خاموش رہنا بھی بڑا ظلم ہے، لگتا ہے پوری دنیا "گد" کا تماشا دیکھ رہی ہے، گد کا صفایا کیا جائے اور ظلم کا خاتمہ کر کے امن قائم کریں ۔ آخر لاکھوں زخمیوں اور بیماروں کا شکار جنگی افراد کی بے گھری، بے کسی، بھوکے پیاسے عوام کو نہ بچانا، ظلم نہیں؟ بربریت نہیں؟ اسکا مداوا کون کرے گا؟ خدا را قاتل ظالم نہ بنیں بلکہ مظلوم کی مدد کیلئے ظالم کا ہاتھ، پاؤں، کان، ناک، سر تک کھول دیں، توڑ دیں تا کہ کبھی کسی کو ظلم کرنے، نسل کشی کرنے، تباہی پھیلانے اور دادا گیر بننے کا حوصلہ نہ ہو۔ آگے بڑھیں اور وقت کی ضرورت پوری کریں۔ زندگی کا یہ وقت گنوانے کیلئے نہیں آخرت کمانے کیلئے ہے۔ کیا سوچتے ہی رہو گے؟ دوا، دعا، عمل، خدمت، بے لوث محنت، جانفشانی سب کچھ درکار ہے! خدارا آگے آئیں۔ جرأت ایمانی پیدا کریں اور کمر باندھیں، مظلوموں کو مزید نہ للچوائیں اور ان کی فوری مدد کریں، ایک جان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے، کیا بھول گئے مقصد حیات اور خدمت انسانیت:
یا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے جو روح کو تڑ پادے۔ آمین
فلسطینی تو اس مثال پر صادق آتے ہیں کہ
غم کاخو گرہو اگر انساں تو مٹ جاتا ہے غم
مشکلیں اتنی پڑی مجھ پہ کہ آساں ہو گئیں
شعر کی حد تک یہ بات درست ہے آپ دیکھ رہے ہیں اسرائیلی تو ظلم کر رہے ہیں اور جو تماشائی ہیں وہ بھی اگر کچھ نہیں کر رہے ہیں تو ایک طرح سے وہ بھی ظلم کر رہے ہیں، طوطے کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہوئے ہیں؟ ظالم کو نہیں دبوچ رہے ہیں؟
ڈالی گئی جوفصل خزاں میں شجر سے ٹوٹ
ممکن نہیں ہری ہو سحابِ بہار سے
موت تو ایک دن آنی ہے آکر رہے گی مگر اپنی موت سے زندگی کو ابدی بناؤ کیونکہ
موت وہ ہے کہ کرے جس کا زمانہ افسوس
ورنہ آئے ہیں سبھی دہر میں مرنے کیلئے!





































