
لطیف النساء
رسول اللہ ؐجب مدینےتشریف لائےتوماحول ملاجلا تھا یعنی کچھ لوگ تومسلمان ہوگئے،کچھ ضعف ایمان اورکچھ تو بہت جلد منافق ہوگئے گویا
ان کی مثال ایک شخص سے یوں دی گئی جو اندھیرے میں بھی تھا اس نے روشنی جلائی جس سے اس کا ماحول ایسے روشن ہوگیا کہ اسے اچھی بری چیزیں واضح ہوگئیں گویا وہ مفید اور نقصان دہ چیزوں سے واضح ہو گیا کہ اچانک اس کی روشنی بجھ گئی اور وہ پھر اندھیروں میں گھر گیا۔تو سمجھیں یہی حال منافقین کا رہا تھاوہ بھی پہلے شرک کے تاریکی ماحول میں تھے مسلمان ہوئےتو حلال حرام کی تمیز ہوگئی اور خیر و شر کو بھی جاننے لگے مگر پھر اپنی ہی کوتا ہیوں سے کفر اور نفاق کی طرف لوٹ گئے تو گویا ایمان کی روشنی جاتی رہی اور پھر دوبارہ اندھیروں میں بھٹک گئے پھر کچھ لوگ کبھی واضح حق پہچان جاتے مگر بسا اوقات شک میں مبتلا ہو جاتے گویا ان کے دلوں میں نفاق آجاتا حق کو پہچان کر بھی کفر کر جاتے یعنی انکاری ہو جا تے نہ مانتے،شکوک میں پڑ جاتے تو پھر بعض دفعہ قدرتی مناظراور آفات جیسے بجلی کی کڑک چمک سے بہت زیادہ خوفزہ ہو کر اپنی انگلیاں کانوں میں دبالیتے لیکن ظاہرہے یہ خوف اور تکلیف دہ ڈر وحشت انہیں اللہ کی گرفت سے کیسے بچاتی؟۔
حق غالب آتاتو یہ حق کی طرف مائل ہو جاتے لیکن جب مسلمانوں پر مصائب آتےمشکلات آتیں تو بجائے ہمت اورصبر دیکھانے کے وہ حیران اور پریشان کھڑے ہو جاتے (کتاب ابن کثیر) کے مطابق یہ گروہ منافقین آخروقت تک شک و شبہ تذبذب کا شکار ہی رہتے اور اسطرح وہ قبول اسلام سے انکار کرتے یا محروم رہتے۔ اسطرح یہاں یہ بات سمجھ آتی ہے اس امرکی تاکید ملتی ہے کہ اللہ چاہے تو وہ ان کی صلاحیتوں کو سلب کر دے اور وہ ہا تھ ہی ملتے رہ جائیں اس لئے انسانوں کو چاہئے کہ وہ سب رب کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتے رہیں کبھی بھی اس کے مؤاخذ اور عذاب کو دیکھ کر کبھی بھی جری اور بے خوف نہ ہوجائیں کیونکہ اسکا عذاب شدید ہے اور جان کو چپکنے والا ہے جو ظاہر ہے کہ کافروں کو چپکے گا لہٰذا ہمیں سمجھنے کی کتنی ضرورت ہے۔ اپنامحاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔
دنیا میں کیا کچھ ہورہا ہے اور ہم خودکیا کچھ کر رہے ہیں؟جب کہ اللہ کی اطاعت اور اس کی وحدانیت کی دعوت تمام ہی انسانوں کو ہے تو قہر خداوندی سے اُسکے مواخذہ سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ صرف ایک اللہ کو مانیں شرک نہ کریں۔ جانتے بوجھتے حق کی باتوں سے انکار اور اسکو نہ اپنانا بالکل درست رویہ نہیں ہے۔ آج کتنے دن ہو گئے فلسطین تنہا ہی یہ جنگ لڑرہا ہے اتنے عبرتناک مناظر اور ایسا ظلم دیکھ کر خاموش رہناامت مسلمہ کیلئے کتنا اہم سوال بنتا ہے نا؟ اتنا ظلم تو نہیں دیکھا نہ سنا! ضرور اور یقینی طور پر ہم میں سے ہر ایک کو اسکا جواب دینا ہوگا کہ اس فرض عین سے منہ موڑنا ہمیں اور ہمارے ایمان کو مشکوک نہیں کر رہا؟ پلیز اللہ کیلئے اپنے مسلمان نہتے بہن، بھائیوں بچوں عورتوں اور بوڑھوں زخمیوں بے بس اور لا چار بے گھر لوگوں کے لئے اب بھی کچھ دردنہیں محسوس ہورہاکیا ہمارے دل اتنے سخت ہوگئے ہیں؟ہر طرح کی کوششیں کرنا ہمارے اوپر لازم ہے اللہ پاکستانی مسلمانوں کو عرب دنیا کو اور دیگر مسلم ممالک اور غیر مسلم انسانیت کا درد رکھنے والوں کواپنی کوششیں تیز تر کرنا چاہئے اور عملی طور پر جنگ رکوا کر اپنے سا تھیوں کے درد کا مداوا بننا چاہئے ہر طریقہ اختیار کریں اور دعا خیر کو تو وتیر ابنا لیں پاک پرور دگار ہمیں مایوس نہیں کر یگا اگر اب بھی ہم مخلص ہوں، عملی مسلمان ہوں صرف نام کے نہیں، منافقانہ حرکات ہمیں لے ڈوبیں گی خدا را زندگی کی مہلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ کی کبریائی کلام الٰہی کی معاونت اور سنت رسول پر رہنے ایمان کی تجدید کر کے ہی ہم جہنم کی آگ سے بچنے کی اپنی بہترین کوشش کر سکتے ہیں۔ زندگی کا کیا ہے؟۔
آج ہے کل نہیں اپنی آج کو ضائع نہ کریں ور نہ قرآن کی صداقت ایک ایسی واضح دلیل ہے کہ عرب وعجم کے تمام کافروں کو چیلنج کرتی ہے کہ آج تک کوئی اس جیسا کلام تو کیا اس کی ایک سورۃ یا آیت تک نہیں بنا سکا اور نہ ہی بنا سکتا ہے۔ سلام ہے فلسطینی مسلمانوں پر جو ہر غم کی دوا ہر درد کا مداوا اسی کلام الٰہی اور اپنے پختہ ایمان سے کر رہے ہیں اور ہم؟ کیا کر رہے ہیں؟ اے کاش ہمیں بھی رب کی معرفت ایسے ہی حاصل ہو اللہ کی طاقت کے بغیر نہ کوئی اچھائی کر سکتا ہے نہ برائی سے بچ سکتا ہے مگر اختیار تو ہمارا ہے سوچیں اور پلٹ آئیں اپنے رب کی طرف اور اپنی زندگی صلاحیتوں وسائل کا صحیح استعمال کر کے دنیا کے امن کو بحال کریں اور دین کو نافذ کرنے کی کوشش ہی امن کے قیام کی جد وحہدہوگی۔اللہ ہماری مدد فرمائے اورفلسطینی مسلمانوں کا حافظ و ناصر ہو۔ آمین





































