
صبا احمد
دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائم سےشروعات کرنے والوں نےرمضان المبارک کے تقدس کو بھی پامال کردیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کے ماہ
شعبان سے ہی رمضان المبارک کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔لوگ روزےرکھنے کی تیاریوں کےساتھ راشن کے حصول کارجحان بڑھ گیا،جبکہ پچھلے چند سال سے لوگ راشن بھی تقسیم کر رہے ہیں، کچھ لوگ سارا سال راشن دیتے ہیں مگر ان سے لینے والے کچھ لوگ اپنے رشتے داروں کودلادیتے ہیں اورحق دارمحروم ہوجاتے ہیں یا پھر لوگوں کوآٹے کے ٹرک یا پھر کم قیمت پر آٹے پرچیاں بناکردی جاتی ہیں اورخاص طور پر خواتین بیچاری سارا دن لائن میں لگ کرلے آٹاحاصل کرتی ہیں۔بچوں کا پیٹ پالنے کےلیے وہ ذلت اٹھانے مجبور ہوتی ہیں۔
آج سفید پوش یامزدورپیشہ افراد مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں۔ جہاں کہیں بھی کوئی مدد یا یابچی کےجہیز کے لیے بتاتا ہے تو مجبور اور پریشان حال لوگ لوگ وہاں پہنچ جاتےہیں مگرجرائم پیشہ لوگ ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ایسے ہماری پڑوسن عالیہ خالہ چار پانچ دنوں سےلا پتاتھی بلڈ پریشرکی مریضہ تھی ۔ صبح گھرسے بدھ بازارکےلیےنکلی مگر پھر نہ ملی۔ پورے شہر میں بچوں نےمحلے والوں نے تلاش کیا چار بیٹیوں اورایک بیٹےکی بیوہ ماں بچوں کا واحد سہارا ماں کی لاش سہراب کوٹھ سے سے بھی آگے جاکرملی۔
پولس کی اطلاع پر گھرمیں کہرام مچ گیا۔پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سےمعلوم ہوا ان کے گردے نکال لیےگئے۔ کسی محلے والے نےانفو کی گاڑی میں بیٹھے دیکھا۔ ایک آدمی خواتین کو راشن اور روپوں کی مدد کےلیےکہہ کہہ کر گاڑی میں بیٹھا رہا تھا۔ وہ بھی گاڑی میں پانچ چھ خواتین کودیکھ کر بیٹھ گئی اس کے بعد ان کی لاش ہی آئی۔
تیرہ چودہ سال کےبچے اورنوجوانوں کو کام دلانے کے بہانے زیادتی کےبعد انہیں قتل کرکے گردے نکال لیے جاتے ہیں اورلاشیں دوردرازعلاقوں میں پھینک دی جاتی ہیں۔ گردوں کی اسمگلنگ میں ڈاکٹریا کم پاؤڈرشامل ہیں۔ . لیاری ایکسپرس وے پر خداکی بستی میں گاڑیوں میں لوگ گھوم رہے ہیں. اور لوگوں کے گھروں میں گھس کر مردوں کو الگ کمرے میں بند کرکے خواتین کی بےحرمتی کررہے ہیں۔ اب گھروں میں بھی خواتین محفوظ نہیں۔
عام خواتین اورگھروں میں کام کرنےٓوالیاں ان کا شکاربنتی ہے۔ان کو کسی شخص کےجھانسے میں نہیں آناچاہیے۔احتیاط کریں۔ یہ شیطان جرائم پیشہ ٹولہ کہاں سے آیا ہے؟ کون ان کی پشت پناہی کررہا ہے؟ لاء اینڈ آڈر اورامن امان قائم کرنے والےادارے کہاں ہیں؟
حکمرانوں کو کرسیوں پر بیٹھنے کا شوق ہے مگرعوام کے لیےتحفظ عدل و انصاف اورامن وسکون نہیں... یہ تواندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔ عوام بے یارو مدد گار ہیں، ان کی کوئی شنوائی نہیں۔ کھانے پینے سےمجبور لوگوں کا اب قتل عام بھی شروع ہوگیا۔ امن وامان کی صورت ملک میں تشویشناک ہے، سیاسی گٹھ جوڑ کر ملکی حالات کو بہتر بنائیں۔ حدیث ہے" کہ قیامت کےدن سب سے پہلے حکمران دوزخ میں ڈالے جائیں گے"
جو عوام کو انصاف امن اورروزگار تعلیم ضروریات زندگی اور یتیم کا سہارا نہ بن پائیں ۔نوجوانوں کو بہترمستقبل نہ دے پائیں ۔ کیسی حکومتیں پاکستان پرسر اقتدارہیں یا تو عوام نااہل ہیں یا حکمران۔۔۔ آخرکار جیسی رعایا ویسے حکمران۔
بحیثیت عورت اورماں میں حکومت سےدرخواست کرتی ہوں کہ جو لوگ خواتین اوربچوں سےزیادتی کے مرتکب ہیں، انہیں سر عام پحا نسی دی جائے ،کچھ عرصہ کی سزا اورجرمانے کےبعد پھروہ دندناتے پھرتے ہیں۔ ہمارا کوئی کیا بگاڑ لے گا ۔ قوانین قرآن جو دستور ہے، مکمل ضابطہ حیات ہے اسلام وسنت کے مطابق بنائے جائیں ۔ مجرمون کو عام پھانسی دی جائے گی تو لوگ گناہ کرنے سے خوف محسوس کریں گے۔ کرنے سے پہلے سزا کا سوچیں گے ۔ اسلام میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے، قتل کا بدلہ قتل ہے حدیث ہے قصاص میں زندگی ہے۔ ان قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے اور ان عمل درآمد کروایا جائے تاکہ عام آدمی خود کو محفوظ تصور کرے ۔




















