
صبا احمد
لاہورمیں ایک خاتون کو بازار میں ہراساں کیا گیا، پولیس نےاسے بڑی مشکل سے بچایا.......؟ وجہ.....ان کا لباس تھا جس پرعربی کے الفاظ
پرنٹتھے ۔ یہ کیسا لباس ہے کے جس پرعربی میں کچھ الفاظ ہوں اور آپ خرید لیں ۔ اول عربی ہماری آخری الہامی کتاب قرآن مجید کی زبان ہے جو نبی آخری زماں صہ پر نازل کیا گیا۔
قرآن امت مسلمہ کیلئےمکمل ضابطہ حیات ہے۔ پہننے والے کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیےکہ وہ عوامی جگہ پرایسا لباس کیونکر پہن رہا ہے۔ تمام مذاہب کےلوگ مارکیٹ میں موجود ہو گےہرمذہب کی تعظیم ضروری ہے چاہیے کوئی فرد کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔
اکثر تصویروں یا انگلش حروف کپڑوں پرنٹ ہوتےہیں مگرقرآنی آیات کے پرنٹ لباس مسلم عورت کوسوچ سمجھ کرخریدنے اورپہننے چاہئیں۔ اگر کوئی فرد ان کو پڑھ نہیں سکتا تو کسی پڑھے لکھے فرد سے اس بارے میں رہنمائی لینی چاہیے ۔
یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہےجو کلمہ طیبہ (لا الہ الا اللہ) کے نام پر حاصل کیاگیا ۔ آپ بچپن سےسنتے اور کتابوں میں پڑھتے آرہے ہیں۔ کیا آپ لاعلم ہیں ؟ یہودونصاریٰ مسلمانوں کے خلاف چالیں چلتے ہیں اورفیشن میں آپ دین کو کوبھی جانا انجانا کر دیتےہیں ۔ افسوس کی بات ہے، باشعور لوگ تو اسےنوٹ بھی کریں گے اورننقید کا نشانہ بھی بنائے گے۔ آپ اسے ہراساںہراساں کرنا قرار دیں گے ؟ دینی لحاظ سےہر شخص حساس ہوتاہے۔ وہ اسےغلط کہے گا۔
ایسا لباس زیت تن کرکے آپ خود لوگوں کو انگلیاں اٹھانے کی دعوت دے رہے ہیں اس طرح کے ملبوسات کو بنانے اور پہننے والوں کیلئے بےامنی پھیلانے کے جرم سزائیں مرتب دی جانی چاہئیں تاکہ فیشن انڈسڑی کواپنی حدود کا تعین کرنا آسان ہو۔
حکومتی اداروں کواس کےخلاف ایکشن لیناچاہیے،کس کمپنی یا مل نے یہ کپڑا تیارکیا ہے،کس نے اسے پرنٹ کیا ، قادیانی کو مذہبی آزادی دینےکامطلب ختم نبوت قانون کا خطرہ اوردین میں خرابی پیدا کرنےکی خود دعوت دینا ہے۔پہلے قادیانی سوشل میڈیا استعمال کر رہے تھے۔ اب اسلام دشمن عناصر کھلے عام تشہیر کریں باطل نظریات کی...... یہ افسوسناک اور خطرناک بات ہے
جب کہ اسلام میں جسم کے اعضاء کو ڈھانپنے کاحکم دیا گیا ہے، انہیں سترکہا جا تا ہےاور لباس انسانی فطرت کااہم تقاضا ہےیعنی شرم و حیا کا مادہ اس کی فطرت ودیعت ہےجس کی تکمیل کے لیےمردو عورت لباس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
قرآن میں ہےکہ
"اے اولاد آدم ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکےاورتمہارے لیے جسم کی حفاظت کا ذریعہ بھی ہواوربہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے"
پھر "ساتھ ہی لباس زینت بھی ہو بہترین لباس تقویٰ کا لباس وہ بہتر ہےجو ساترزینت کا ذریعہ نہ ہو ۔ موجودہ فتنوں کے دور میں ریا کاری غرور تکبر اور ایمان کو نقصان اور فتنہ فساد معاشرتی بد اخلاقی کا باعث نہ ہو۔ بے ہودہ نقالی کا ذریعہ نہ ہو کیونکہ نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہے۔
خواتین کے لباس کے لیے( سورہ النور 31)میں ہے" اوراپنے سینوں پراپنی
اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رکھیں ".
جس کو ہم عرف عام میں دوپٹہ کہتےہیں وہ عورت کے لباس کا مستقل حصہ ہے جس کا مقصد سر، گردن اورسینے کوڈھانپنا ہے،ان مردوں کےسامنے بھی جن کومحرم کہا جاتا ہے نا محرم کے سامنے توخاص پردے کا حکم ہے.
حدیث ہے" کہ کسی عورت کے لیے جو اللہ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو جائزنہیں کہ اپنا ہاتھ اس سے زیادہ کھولے "یہ کہ کر کلائی کے نصف حصہ پرہاتھ رکھا ("ابن جریر)
مگر آج کل بغیردوپٹہ اور بازوں کے لباس پہننا خواتین میں آزادی کے نام پر فیشن مردانہ لباس کی مشابہہ پہننا اوردوسری قوموں کے لباس کا رواج عام ہے۔ اسلام میں یہ جائز نہیں اور ایسا کرنے والی خواتین ذہنی مرض کا شکار ہیں اورنقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہے. ایسا لباس تقویٰ کا ہرگز نہیں۔
حدیث ہے کہ" ایسی عورتوں پر حضور صہ نے لعنت فرمائی ہے(ابو داؤد) "





































