
صبااحمد
ہمیں پریپ کلاس کے بچوں کے ساتھ وقت گزارنےکا موقع ملااورجان کربڑی خوشی ہوئی کہ بریک میں سب بچوں نے اپنے لنچ باکس نکالے۔ ایک
بچہ لیز چپس لےکر آیا۔اس کے ساتھ بیٹھےبچے نے کہا کےتم اسرائیلی چپس کھارہےہو تمہیں تمہاری امی نےنہیں بتایا، مجھے توامی اورمس نے بتایا تھا ہم نے اسرائیل کی بنی ہوئی چیزیں یا مصنوعا ت نہیں کھانی......
ہم مسلمان ہیں اور غزہ میں بچے بوڑھوں کو اسرائیلی بموں ،سلفر بم سے 28 ہرار بچوں کو شہید کرچکےہیں ،وہ القدس ومسجد اقصی کی حفاظت کے لیے جانیں دے رہےہیں۔ ہم اسرائیلی چیزیں کیوں کھائیں چھوڑو...اسے۔۔۔ میرا لنچ شیئر کرو..
یہ سب دیکھ کرمیں حیران ہوئی اور خوش بھی کے ہمارے چارسال کے بچے اس بات کو کتنا اہم سمجھتے ہیں ۔ ان کومسلمان اوراسلام کا مطلب معلوم ہے۔ ہم نےاسے شاباش دی توہر بچہ اسرائیلی مصنوعات کا بتانے لگا کہ پیپسی سپرائٹ ، سیون اپ کوکا کولا ، نیسلے دودہ مکھن، آئل، جام ،چیز، صرف صابن میں حیران تھی کے بچوں کومعلوم ہے۔ کے ایف سی اور مکڈونلڈ جو بچوں اوربڑوں کی جان تھا بچوں نے کہا ہم نے ان بائیکاٹ کردیا ہے. ہمیشہ کے لیے۔ہم نے زور زور سے تالیاں بجائیں۔مجھے بہت خوشی ہوئی مگر گھر آکرجب ٹی وی آن کیا توسب سے زیادہ انہیں چیزوں کی کمرشل آرہےتھے۔
. دل خون کےآنسو رویا کہ سوشل میڈیا اورہماری حکومت نہیں جانتی یا کچھ لوگ کےایف سی اورمکڈونلڈ کی آفرکے لالچ میں ابھی بھی کھا رہے ہیں۔ افسوس کہ قیمتوں کی کمی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں مگر آخرت کوئی فکر نہیں ۔ کتنے نادان ہیں اورغزہ میں کفن میں لپٹے ہزاروں بچوں اورعورتوں کے لاشے ، کھنڈرات میں پھنسے جسد خاکی چیخ چیخ کر مسلمان بھائیوں کوپکار رہے ہیں ۔ بھوکے پیاسے بچے روٹی اور دودھ سے محروم جانوروں کے دانے کی روٹیاں خوشی خوشی کھا رہے ہیں ،ان کا عزم ہے کہ ہم مسجد اقصی کے محافظ ہیں۔ یتیم بچےفلسطین میں ہی رہتےہیں ان کا ایمان ہے یہی ہمارا وطن ہے ہم شہادت کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ ہم یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے۔عرب اور مسلم ممالک بے حس بنے بیٹھے ہیں۔
فلسطین کی مدد صرف یمن جیسا کمزور اورغریب ملک کررہا ہے۔ ایٹمی قوت والا اسلامی ملک پاکستان بھی خاموش ہےکیونکہ وہ امریکہ کا غلام اور آئی ایم ایف کا مقروض ہے ۔ اپنے مسلم بھائیوں کا خون بہتا اور بچوں کی نسل کشی ہوتے دیکھ رہا ہے،فلسطینوں کے قتل عاہم پر سارا مغرب احتجاج کر رہا ہے۔
ریاض میں موسیقی کے بڑے بڑے کنسرٹ اورپاکستان میں پی ایس ایل ہو رہا ہےوہ بھی میکڈونلڈ اوراسرائیلی برینڈ کے تعاون سےشرم کی بات ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ لوگوں میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کے حوالے سے شعور بیدار ہوگیا ہے،اسی بیداری سے اسرائیلی مستحکم معیشت کمزورہو گی ۔یہ نہیں ہو سکتا ہے ہم مسلمان اسرائیل کی معیشت مضبوط کریں اور وہ مسلمان بہن بھائیوں اور بچوں پر بم برسائیں ۔ہمیں اسرائیل کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرکے اسے سبق سکھانا ہوگا ۔
بائیکاٹ زندہ باد





































