
صبا احمد
صوفیہ...! امی نے غصے سے کہا "میں نےمنع کردیا کےآپ اسکوٹی نہیں چلانا سیکھوگی.... بس... میں دوبارہ
نہیں کہوں گی" ۔
امی مجھےکہیں جانا مشکل ہوجاتا ہےکسی کام سےدوست کے گھر جانا توبھائی نخرے کرتا ہے۔ گاڑی ابو کے پاس ہوتی ہے یاپھر صبح کالج جانے کے لیے وین والے کا انتظار بیس منٹ کا راستہ ایک ڈیرہ گھنے میں طے ہوتا ہے۔ صبح 7بجے تیار ہوکر کتنی گلیوں میں ڈرائیور گھماتا بھرتا ہے، 30: 8پرکالج پہنچتے ہیں۔ آدھا گھنٹہ کے بعد پریڈ شروع ہوتا ہے۔
دوپہرمیں واپسی میں دیرسے پہچنا کوچنگ میں جانا وہاں بھی یہی مسائل بس امی اب میں لونگی ابو آپ لیں دیں. بہت ہوگیا."...
ابو نے امی سے کہا بشری بیگم لے دیتے ہیں" . امی کو سمجھایا۔
مگر امی نے کہا " بچیوں کی عزت نازک ہوتی ہے، باہر سڑکوں پر لڑکے بدتمیزی کرتے ہیں۔
میں نے خود دیکھا ہےاس سے بہتر ہے گاڑی لے دیں."
بشری بیگم " ابھی پیسے بزنس میں لگے ہیں، البتہ اسکوٹی لے دیتے ہیں، جب پیسے ملیں گےتو پہلی فرصت میں گاڑی خرید دوں گا، تھوڑا سا صبر کرنا ہوگا۔
صوفیہ کو ابھی ضرورت ہے۔ زمانے کے ساتھ چلنا ہی عقل مندی ہے.."
" ٹھیک ہے"امی ہارمانتے ہوئے کمرے سے نکل گئی ۔
دوسرے دن صوفیہ بازارسے اسکوٹی وقارصاحب اپنے ابو کے ساتھ لے آئی ایک ہفتے میں اسکورٹی چلانے لگ گئی۔
امی چلیں آپ کو سیر کراؤں مزہ آئے گا۔۔۔۔ " صوفیہ نے کہا .
بس ٹھیک ہے امی نے خفگی سے کہا
اب صوفیہ کو تو بال و پرمل گئےاس کو اب پہیےلک گئے اب وہ گھرملتی نہیں تھی، دوستوں کے ساتھ کمبائن اسٹڈی کےبہانے ہوٹلنگ شاپنگ اورفیشن میں زیادہ وقت گزرتا۔۔
کھانے میں کبھی کبھارملاقات ہوتی ، ڈنرمیں اوربہانہ ہم سہیلیاں کمبائن سٹڈی کرتی ہیں. کبھی رات میں اکیلی آرہی ہوتی اور بشری بیگم کا دن کا چین اور رات کی نیند اڑ گئی اکثران کی وقار صاحب سے توتو میں میں ہوجاتی.
ایک دن 14 فروری کی رات کے آٹھ بج رہے تھے. بشری بیگم پریشان تھی کہ صوفیہ ابھی تک نہیں پہنچی.
صوفیہ گھرآرہی تھی تو دو موٹر بائیک پر ڈبل سوارلڑکےاس سے مذاق کرتے ہوئے اس کا پیچھاکر رہے تھے۔پہلےتو وہ سمجھی کے روڈ پرسب ہوتے ہیں مگر انہوں نے مسلسل پیچھا تواس کا ماتھا ٹھنکا۔ وہ گھبراگئی اس نے کانوں میں آئربڈزتھی اچانک وقار صاحب کا فون آگیا۔ بشری بیگم نے انہیں فون کیا تھاناراضی اورپریشانی میں۔
وہ بھی پریشان ہوگئے
پھر صوفیہ نے صورت حال بتائی
تو وہ پریشان ہوگئے اس کا بھائی احسن بھی وہاں آفس میں تھا.
اس نے کہا تم کس مین روڈ پرلوگوں کے درمیان رہو راستہ بتاؤ میں تمہیں لوکیشن بتاتا رہو ں گا ۔
پریشان مت ہونا بس فون پررہنا میں اپنے دوست حامد کو پولیس میں انسپکٹر ہےفون کرکے نکل رہا ہوں۔
صوفیہ پریشان ہو رہی تھی وہ مسلسل پیچھا کررہے تھے پھر دو سے تین بائیک والے ہوگئے۔
احسن کے دوست نے کہا آج 14 فروری ہے۔ چار دن سے ہماری سخت ڈیوٹیاں لگی ہیں مختلف ہوٹل ،بپلک پلیس ،سمندر باغوں میں۔۔
ویلنٹائن کے منحوس دن کی وجہ بے حیائی پھیلانے میں پہلی فروری سے چڑیوں کا جوڑا دلوں کےساتھ لگا رکھا ہے،پھرایک دن ٹیڈی بیئرڈے چاکلیٹ ڈے ،فلاور ڈے اور بعد میں یہ منحوس دن تو بہت ہی عذاب ہمارے ملک میں جوان نسلوں کو تباہ کر رہے ہیں.والدین ایک دوسرے کو دیں رہے ہیں دادا دادی یونیورسٹی میں کلاس ویلنٹائن بس ہر طرح کا رنگ دے کر ویلنٹائن ڈے منانا ہے سرخ پھول گل فرشتوں کی دکانوں اور چوراہوں پر لائٹس کے ساتھ گلدستے سجے پڑے ہیں بے حیائی عام کرنے کےیے عزتوں کا جنازہ نکالنے کے لیے گل فروش قبرستان سجائے بیٹھے ہیں. صبح کو قدموں کے نیچے ہونگے کتنے گناہوں کی صورت میں حدیث ہے "کہ حیا نہ کر تو جو چاہے کرو "ہرکوئ خاموشی سے مناتے ہین اب یہ دن اکیلی لڑکیوں کے لیے مشکل اور تعلیمی اداروں میں تصادم ہے یہ مسلم معاشرے اور اقلیتوں میں مگر مغرب کی تقلید تعلیمی نظام نے ہمیں عذاب کا مرتکب بنایا ہے بس راستے میں حامد نے مختلف تھانوں سی نفری بھیجی.
اب لڑکوں نے صوفیہ کو گھیر لیا اب اسے دھمکانےلگ گئے کے اپنا رخ ہمارے بتائے ہوئے راستے پر چلو ورنہ ہم گولی چلائیں گی کیونکہ ڈرگس بھی لی ہوئ تھیں اور سر پر شیطان سوار تھا. اتنے میں سادہ لباس کی پولیس کا بندہ اس روڈ پر پہنچ گیا وہ ان کے پیچھے لگا کچھ ان لڑکوں نے صوفیہ کی سیکوٹی گرانے کی کوشش کی مگر وہ سنبھل گئ. اتنے میں حامد کی جیپ وہاں پہنچی وہ ان کے درمیان آیا ادھر سے پہلے موجود سادہ لباس پولیس نے صوفیہ کے ساتھ ہوا. اس نے صوفیہ رکنے کو کہا حامد نے اسے جیپ میں بیٹھایا سکوٹی پر دوسرا سادہ لباس سپاہی بیٹھا اتنی خاموشی سے کاروائی ہوئ کے راستے میں ٹریفک کو روکے بغیر...
دوسری جیپ نے لڑکوں کو چالان کی دھمکی میں اور سپیڈ کا بہانہ لگا کر روک کر گاڑی میں بیٹھا کر تھانے لائے وہ نشے میں دھت تھے. ان پر دفع لگا کر جیل میں بند کیااور صوفیہ جیپ میں زاروقطار رورہی تھی. اور آج اسے احساس ہوا کے امی کیوں منع کر رہی تھی.
کے یہ سواریاں عورت کو تخفظ نہیں دے سکتی ہم مسلم معاشرے کی لڑکی کی عزت اس کی متاع ہے. جس کا کام اسی کو سانجھے. حیا عورت کا وصف ہے اس کی حفاظت سیپ میں موتی کی طرح محفوط قیمتیاور نازک ہے.
گھر پہنچ کر امی اور ابو کے گلے لگ کر بہت رو ئی۔اور امی سےاور کہا بس آج کے بعد صوفیہ میرے ساتھ یا بھائی کے ساتھ جائے گی اسکوٹی پرنہیں۔ صوفیہ نے بھی معافی مانگی اور وقار صاحب کو جدت پسندی کی سوچ پر آج شرمندگی محسوس ہورہی تھی .





































